جموں و کشمیر
دور دراز اور سرحدی علاقوں میں رابطہ سہولت بہتر بنانے کے لیے جموں و کشمیر حکومت نے موبائل ٹاوروں کے لیے زمین منظور کی
سری نگر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی والی جموں و کشمیر حکومت نے کم سہولت والے علاقوں میں موبائل ٹاور نصب کرنے کے لیے زمین کی منظوری دے دی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دور دراز اور سرحدی دیہات میں تیز رفتار ٹیلی کام رابطے کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت یونیورسل سروس آبلیگیشن فنڈ (یو ایس او ایف) کے تحت کم سہولت والے علاقوں میں بی ایس این ایل کے موبائل ٹاور نصب کرنے کے لیے زمین منظور کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں بارہمولہ ضلع کے اُڑی اور ٹنگمرگ، کپواڑہ ضلع کے کرناہ اور کرال پورہ، راجوری ضلع کے کالاکوٹ اور قلعہ درہال، ادھم پور ضلع کے بسنت گڑھ اور لٹی مروتھی، جموں ضلع کے خور اور رام بن ضلع کے بانہال، پوگل پریستان اور رامسو شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے دور دراز اور سرحدی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں تک قابل اعتماد مواصلاتی سہولت پہنچانے میں مدد ملے گی اور یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ جغرافیائی محل وقوع ڈیجیٹل خدمات اور مواقع تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنے۔
یو ایس او ایف کے تحت بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ 4جی نیٹ ورک کی کوریج کو وسعت دی جا سکے اور ان علاقوں میں ٹیلی کام سہولت کی مکمل دستیابی یقینی بنائی جا سکے جہاں اب تک یہ سہولت ناکافی ہے۔
اس اقدام سے آن لائن تعلیم، ای-گورننس خدمات اور ہنگامی مواصلاتی سہولتوں تک رسائی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ دیہی، دور دراز اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی ڈیجیٹل شمولیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ٹیلی کام بنیادی ڈھانچے کے لیے مخصوص زمین فراہم کرنے کا مقصد دشوار گزار اور جغرافیائی اعتبار سے مشکل مقامات پر موبائل ٹاوروں کی تنصیب کا عمل تیز کرنا بھی ہے، جس سے جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل تفریق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ اقدام دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادیوں تک ڈیجیٹل رابطے کے فوائد پہنچانے اور جموں و کشمیر میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر حکومت کی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: مودی کی جانب سے قابل فخر قرار دیا گیا 2,000 سال قدیم بدھ مت مقام کو تباہی کا خطرہ
از: ماجد جہانگیر
سری نگر، شمالی کشمیر میں تقریباً 2,000 سال قدیم بدھ مت کا ایک آثارِ قدیمہ کمپلیکس، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا تھا، اب ایک بالکل مختلف خطرے یعنی دریائے جہلم کی زد میں ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2050 تک اس مقام کے اطراف 10,000 مربع میٹر سے زیادہ زمین دریا برد ہو سکتی ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین آثارِ قدیمہ مسلسل دوسرے سال اس مقام پر کھدائی کر رہے ہیں۔ وہ پہلی صدی عیسوی، یعنی کوشان دور سے تعلق رکھنے والے قدیم بدھ مت کے ایک نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ’اینشینٹ ایشیا‘ جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں 1976 سے 2022 کے درمیان مقام کے اطراف ہونے والی تبدیلیوں کا نقشہ تیار کرنے کے لیے 46 سال کی سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) کے تجزیے کا استعمال کیا گیا۔ مطالعے میں دریائے جہلم کے کنارے بڑے پیمانے پر کٹاؤ اور دریا کے بہاؤ کے راستے میں تبدیلی پائی گئی، جس کا سب سے شدید مرحلہ 1989 سے 2000 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
ان 11 برسوں کے دوران زمین کے کٹاؤ کی اوسط سالانہ شرح بڑھ کر 3,616.09 مربع میٹر ہو گئی، جبکہ 1976 سے 1989 کے درمیان یہ شرح 818.15 مربع میٹر سالانہ اور 2000 سے 2022 کے درمیان 361.5 مربع میٹر سالانہ تھی۔ محققین نے مجموعی طور پر 1989 سے 2000 کے دوران 39,777 مربع میٹر زمین کے کٹاؤ کا ریکارڈ درج کیا۔
محققین نے اس غیر معمولی کٹاؤ کی وجہ دریا کے قدرتی عمل کے ساتھ انسانی مداخلت، خاص طور پر دریا کے اندر بڑے پیمانے پر اور غیر منظم کان کنی کو قرار دیا ہے۔
مطالعے کے مطابق، کان کنی کے لیے بنائے گئے گڈھوں نے دریا کے بہاؤ کو تبدیل کر دیا اور دریا کے سب سے گہرے بہاؤ کو آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب کر دیا، جس سے دریا کا کنارہ کمزور ہو گیا۔ دریا کے کنارے موجود قدرتی نباتات کے خاتمے سے بھی کٹاؤ کے خلاف کنارے کی قدرتی مزاحمت مزید کم ہو گئی۔
جہلم کے دائیں کنارے پر واقع زہان پور کمپلیکس تین اسٹوپوں کی ایک قطار پر مشتمل ہے۔ محققین نے ’پلیس اے‘ کے نام سے معروف علاقے کو کٹاؤ کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں آثارِ قدیمہ کے باقیات زمین کی کششِ ثقل کے باعث منہدم ہونے، دریا کے خم دار بہاؤ کی سمت میں تبدیلی اور دریا کی براہ راست کٹائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
2000 کے بعد کٹاؤ کی شرح کو بنیاد بنا کر خطی تخمینے کے ذریعے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2022 سے 2050 کے درمیان تقریباً 10,122 مربع میٹر زمین دریا برد ہو سکتی ہے۔
تاہم مضمون نگار نے خبردار کیا ہے کہ یہ تخمینہ تحفظ اور انتظامی منصوبہ بندی کے لیے ہے، اسے قطعی ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس میں شدید سیلابی واقعات یا جہلم کے طاس میں ممکنہ غیر خطی تبدیلیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جو کٹاؤ کی رفتار میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
محققین نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات خود مرکزی یادگار کی کمزوری ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے، ’’ہماری پیش گوئی کے مطابق اگر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔‘‘
محققین نے دریا کے کنارے کو مستحکم کرنے اور آثارِ قدیمہ کے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے ساختی اور قدرتی بنیادوں پر مبنی اقدامات کا مجموعہ تجویز کیا ہے۔ ان میں حفاظتی دیواریں، گیبیونز اور گہری جڑوں والی نباتات کو منصوبہ بندی کے ساتھ لگانے پر مبنی بائیو انجینئرنگ اقدامات شامل ہیں۔
ان نتائج نے زہان پور میں جاری آثارِ قدیمہ کے کام کی فوری ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ یہ مقام کشمیر کے نسبتاً کم معروف بدھ مت ماضی کے بارے میں نئے شواہد فراہم کر رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کمپلیکس قدیم ثقافتی اور تجارتی منظرنامے کا حصہ تھا، جو کشمیر کو گندھارا اور وسطی ایشیا سے جوڑتا تھا۔ محققین کی جانب سے پیش کیے گئے تاریخی حوالوں میں وسیع تر بارہمولہ خطے کو بدھ مت کے ان مراکز سے بھی جوڑا گیا ہے، جہاں ساتویں صدی میں چین کے سیاح اور عالم ہیون سانگ نے کشمیر کا سفر کرتے ہوئے دورہ کیا تھا۔
اس مقام کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل ہوئی، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا ذکر کیا۔
زہان پور میں بڑے اسٹوپوں کی دریافت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے اسے جموں و کشمیر کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا اور خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فرانس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ تین اسٹوپوں کی ایک پرانی اور دھندلی تصویر نے کشمیر کے بدھ مت ماضی کی جانب توجہ مبذول کرانے میں مدد کی۔
اس کے بعد آثارِ قدیمہ کی کھدائی دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے اور محققین نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس اور اس کے اطراف موجود آثار کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
لیکن حالیہ مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو دریا سے مقابلے کے لیے وقت کے خلاف دوڑنا پڑ سکتا ہے۔
محققین نے کہا کہ زہان پور کا معاملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزادانہ طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اعداد و شمار کو کس طرح حساس اور خطرے سے دوچار ثقافتی ورثے کے مقامات کو لاحق خطرات کی نشاندہی اور تحفظ کی کوششوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور تحفظِ آثار کے اداروں کو محض نگرانی سے آگے بڑھ کر فعال اقدامات کی جانب لے جانے کے لیے ایک ’’واضح اور اعداد و شمار پر مبنی بنیاد‘‘ فراہم کرتا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
کشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
سری نگر، جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کو مبینہ طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کردیا۔ انہیں ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کشمیر سے مغربی بنگال کے باگ ڈوگرا لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو باگ ڈوگرا لے جایا گیا، جہاں انہیں مزید بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کردیا گیا۔
حکام نے ان افراد کو مختلف واقعات میں حراست میں لیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے کئی افراد کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں کی گئی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ملک بدر کیے گئے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے تھے، جن میں تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ’’یہ کارروائی مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرکے انجام دی جا رہی ہے۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک اور گروپ کو بھی آنے والے دنوں میں ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تازہ کارروائی سرحدی ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی وسیع تر مشق کے تحت کی گئی ہے۔
مرکز کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی نے، جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس پربھاکر ناولیکر کر رہے ہیں، اگست میں جموں کا دورہ کیا تھا تاکہ مبینہ غیر قانونی امیگریشن سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 6,000 سے زیادہ روہنگیا اور صرف 500 بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں بار ایسوسی ایشن نے موٹر وہیکل کے نئے ای-چالان نظام پر تشویش ظاہر کی
جموں، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جموں (رجسٹرڈ) نے پیر کو موٹر وہیکل قانون کے تحت الیکٹرانک ٹریفک چالان نظام سے متعلق حالیہ ترامیم اور پالیسی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی۔
ایسوسی ایشن کے ارکان نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤثر ٹریفک نظام، سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین کے ذمہ دارانہ نفاذ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ نئے ای-چالان نظام کو جس طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے، اس کا عام شہریوں، گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔
جے کے بی اے جے کے صدر کے نرمل کوتوال نے نائب صدر بلدیو سنگھ، جنرل سکریٹری پردیپ مجوترا، جوائنٹ سکریٹری انشو مہاجن اور خزانچی راہل اگروال کے ہمراہ کہا کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں تکنیکی ترقی کے ساتھ شفافیت، جواب دہی، طریقہ کار میں انصاف اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات بھی ضروری ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ای-چالان خودکار طور پر جاری کرنے اور ان کی وصولی سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کی جانب توجہ دلائی، خاص طور پر ان حالات میں جب کوئی شہری مبینہ خلاف ورزی، ڈرائیور کی شناخت، الیکٹرانک ریکارڈ کی درستگی یا چالان جاری کیے جانے کے حالات پر اعتراض کرے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کتنا ہی جدید نفاذ کا نظام کیوں نہ ہو، وہ قدرتی انصاف کے بنیادی اصولوں اور قانونی طریقہ کار سے الگ ہو کر کام نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ’’شہریوں کو مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد جاننے، غلط چالان پر اعتراض کرنے، مناسب اصلاح یا نظرثانی کی درخواست کرنے اور جہاں کوئی غلطی ہوئی ہو وہاں مؤثر تدارک حاصل کرنے کا بامعنی اور آسان موقع ملنا چاہیے۔‘‘
ایسوسی ایشن نے ان عوامی افراد کو پیش آنے والی مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی جو تکنیکی سہولیات سے پوری طرح لیس نہیں ہیں یا جنہیں الیکٹرانک چالان تک رسائی حاصل کرنے، اسے سمجھنے یا اس پر اعتراض کرنے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام انصاف اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرنے کا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا7 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا7 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
