ہندوستان
آل انڈیا ملی کونسل کا بہار میں نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی پر وائٹ پیپر جاری
نئی دہلی، بہار کے اسمبلی انتخاب کع موقع پر معروف غیر سرکاری تنظیم آل انڈیا ملی کونسل نے بہار میں نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی پر’بہار میں ‘سوشاسن بابو’ گورننس کی کارکردگی’ کے عنوان سے وائٹ پیپرجاری کیا ہے جس میں ان کے دور میں ہونے والی بدعنوانی رائم،روزگار اور تعلیم کا جائزہ لیا گیا ہے آل انڈیا ملی کونسل کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق اے آئی ایم سی نے ایک جامع وائٹ پیپر 2025 میں دعوی کیا ہے کہ معاشی ترقی اور سماجی انصاف سے لے کر تعلیم، روزگار اور قانون کے نفاذ تک، ریاست گہری نظامی ناکامی کے آثار دکھاتی ہے۔
ترقی کے سرکاری دعووں کے باوجود بہار کی اقتصادی بنیاد کمزور ہے۔
● ای-شرم پر 3.16 کروڑ کارکن رجسٹرڈ ہیں، جو بے روزگاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔● بے روزگاری کی شرح : 5.2فیصد (اپریل تا جون 2025)● لیبر فورس کی شرکت کی شرح (ایل ایف پی آر ): 48.8فیصد – ہندوستان کی سب سے کم۔ ● بہار میں صرف 3,386 فیکٹریاں ہیں، جن میں 1.17 لاکھ کارکن کام کرتے ہیں – جو کہ ہندوستان کی صنعتی افرادی قوت کا صرف 0.75 فیصد ہے۔ ● نیتی آیوگ 33.76 فیصد کے ساتھ کثیر جہتی غربت میں بہار کو سب سے زیادہ درجہ دیتا ہے۔
غربت اور مہنگائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ بہار بدستور ہندوستان کی غریب ترین ریاست ہے۔ ● دیہی غربت: 36.72فیصد، شہری : 13.55فیصد ●کم ماہانہ کھپت کے اخراجات گہری اقتصادی عدم مساوات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ● اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں نے حقیقی آمدنی کو ختم کر دیا ہے۔
ہجرت: نہ ختم ہونے والا سلسلہ ● تقریباً 3 کروڑ بہار کے باشندے ریاست سے باہر رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ● آؤٹ مایگریشن نقل 74 لاکھ (2024) سے بڑھ کر 75 لاکھ (2025) ہوگئی۔ ● بہار میں صنعت اور روزگار کے مواقع کی کمی نوجوانوں کو دہلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کرپشن اور گورننس خسارہ
ان کے “سوشاسن” کے دعوے کے باوجود نتیش کمار کی قیادت میں بہار نے بار بار بدعنوانی کے گھپلوں کا مشاہدہ کیا ہے – بشمول سریجن، منریگا، دھان اور بی پی ایس سی گھپلے – کمزور ادارہ جاتی جوابدہی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پل گرتا ہے: بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ جاتا ہے۔ 2024-2025 کے درمیان 18 پل گرے، جن میں 2024 کے وسط میں صرف 20 دنوں کے اندر 12 شامل ہیں۔ ارریہ، سیوان، مشرقی چمپارن، کشن گنج، اور نالندہ (نتیش کا آبائی ضلع) میں بڑے واقعات رونما ہوئے، جن سے عوامی کاموں میں بدعنوانی کا پردہ فاش ہوا۔
فرقہ وارانہ اور صنفی تشدد کے زمرے میں ● بہار میں 65 فرقہ وارانہ واقعات (2020-2025) ریکارڈ کیے گئے، زیادہ تر جلوسوں اور تہواروں کے دوران۔ ● خواتین کے خلاف تشدد اب بھی زیادہ ہے – 3 میں سے 1 عورت کو جسمانی یا جذباتی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ● صرف 2023 میں گھریلو تشدد کے 28,811 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 8. صحت عامہ کا بحران ● 45 فیصد ڈاکٹروں کی کمی: 70فیصد ماہرین: 84 فیصد پیرامیڈیکس۔ ● دل کی بیماریاں 35 فیصد سے زیادہ بالغوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ● دیہی صحت کی دیکھ بھال بدستور کم ترین سطح اور ناقص عملہ ہے۔
پبلک ایجوکیشن اور پیپر لیکس کے بارے میں وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے، ● 2022-2024 کے درمیان اسکول کے اندراج میں 9.28 لاکھ کی کمی ہوئی۔ ● 2.77 ملین طلباء نے ابتدائی سطح پر تعلیم چھوڑ دی۔ ● 4,400 سے زیادہ اسکول بند یا انضمام؛ 2.5 لاکھ اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ ● بار بار امتحانی پیپر لیک ہونے – بی پی ایس سی، کانسٹیبل، این ای ای ٹی – نے بہار کے تعلیمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
امن و امان کی خرابی۔
بہار کی مجموعی طور پر جرائم کی شرح 80.2فیصد (2005-2024) بڑھی جب کہ قومی سطح پر 32.5فیصد (2015-2023)۔
کبھی نظم و ضبط کی بحالی اور ‘جنگل راج’ کو ختم کرنے کے لیے سراہا جانے والے نتیش کمار کے بہار کو اب دوبارہ پیدا ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں اور کمزور پولیسنگ کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ہر الیکشن شہریوں کو ان کی امنگوں کی تکمیل اور ان کے ووٹوں کے ذریعے حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ اتنا ہی ضروری ہے کہ یہ مشق آزادانہ، منصفانہ، شفاف ہو۔ بہار کے انتخابات 2025 بہت سے معاملوں میں منفرد ہے- نہ صرف اس وجہ سے کہ میدان میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں نے لوگوں کو زیادہ سیاسی اختیارات فراہم کیے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ انتخاب نتیش کمار کی گزشتہ 20 سال کی حکمرانی پرایک ریفرنڈم ہے۔
جیسے جیسے ریاست کی انتخابی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے بڑے اتحادوں جیسے این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اکٹھا کر رہی ہے۔
یہ رپورٹ معروضی طور پر اس بات کا تجزیہ کرتی ہے کہ نتیش کمار حکومت نے کلیدی شعبوں میں کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے- گورننس، معیشت، بنیادی ڈھانچہ، ہجرت، بدعنوانی، غربت، مہنگائی، تعلیم، صحت عامہ، خواتین کی حفاظت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اور سرکاری اعداد و شمار اور فیلڈ مشاہدات پر امن و امان کی تیاری تاکہ ریاست کے دو دہائیوں کے دوران ریاست کی پیش رفت کا حقیقت پر مبنی جائزہ پیش کیا جا سکے۔
2020 سے 2025 تک نتیش کمار نے تین مخلوط حکومتوں کی قیادت کی- دو نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کے تحت اور ایک مہاگٹھ بندھن (ایم جی بی) کے تحت – بار بار سیاسی صف بندی کے لیے “پلٹورام” کا لقب حاصل کیا۔ 2020 کے بعد جونیئر پارٹنر ہونے کے باوجود (جے ڈی یو 43 سیٹیں، بی جے پی 74)، وہ این ڈی اے کے تحت سی ایم بنے، بعد میں 2022 میں ایم جی بی میں شفٹ ہوگئے اور جنوری 2024 میں این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہو گئے، نویں بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔
اب کوئی مسلمان پسندیدہ نہیں ہے۔نتیش کمار کے بدلتے ہوئے اتحاد نے بہار کی 17.7 فیصد مسلم آبادی میں ان کی حمایت کو ختم کر دیا ہے۔
● جے ڈی (یو) نے 2025 میں صرف 4 مسلم امیدوار (101 میں سے) کھڑے کیے، جو 2020 میں 9 سے کم ہیں- جن میں سے کوئی بھی نہیں جیت سکا۔●اس کے برعکس آر جے ڈی اور کانگریس نے مل کر 28 مسلم امیدوار کھڑے کیے ہیں۔●60 حلقوں میں مسلم اثر و رسوخ اب بھی فیصلہ کن ہے، پھر بھی این ڈی اے کے تحت نمائندگی ریکارڈ کم ہے۔
وائٹ پیپر 2025 یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ نتیش کمار کی دو دہائیوں کی حکمرانی – جسے کبھی “سوشاسن” (اچھی حکمرانی) کے طور پر سراہا جاتا تھا – اب تقریباً ہر محاذ پر سوالیہ نشان کے نرغے میں ہے۔
معاشی ترقی اور سماجی انصاف سے لے کر تعلیم، روزگار اور قانون کے نفاذ تک، ریاست گہری نظامی ناکامی کے آثار دکھاتی ہے۔
اس وائٹ پیپر کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ شہری ہے- بہار میں 20 سال کی حکمرانی پر باخبر ووٹنگ اور شواہد پر مبنی عکاسی کو قابل بنانا۔
رپورٹ شہریوں، سول سوسائٹی اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ احتساب اور شمولیت کو ترجیح دیں کیونکہ بہار ایک نئے سیاسی مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
