ہندوستان
آن لائن بچوں کا جنسی استحصال منظم جرم، ملوث افراد کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک ہونا چاہئے
بچوں کی آن لائن جنسی ہراسانی روکنے کے لیے مباحثہ کا اہتمام
بھوپال،ریاست میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کے مد نظر انڈیا چائلڈ پروٹیکشن فنڈ (آئی سی پی ایف) نے آج یہاں مدھیہ پردیش کے خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کے ساتھ اس سے نمٹنے کے طریقوں پر ایک مباحثہ کا اہتمام کیا بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کی سمت میں ملک میں اس نوعیت کے مشترکہ اقدامات اور پیش قدمی کو انتہائی اہم اور ضروری قرار دیتے ہوئے آئی سی پی ایف کے سی ای او اور سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، اتر پردیش او پی سنگھ نے کہاکہ آن لائن بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے اور یہ ایک منظم جرم ہے۔ اس کے ساتھ دہشت گردی جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ ہماری لڑکیوں کا بین الاقوامی میدان سمیت مختلف مقامات پر جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور اس میں بھاری رقم کا لین دین ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر معیاری اور وقتی تفتیش اور استغاثہ کا ہونا ضروری ہے۔
محکمہ تعلیم کی ایڈیشنل ڈائریکٹر منیشا سینتھیا نے کہاکہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً دو ملین بچے خطرے میں ہیں۔ اس کے پیش نظر سائبر حفظان صحت اور حفاظت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسے اسکول کے نصاب میں بھی شامل کیا جائے اور محکمہ اس پر بھی کام کرے گا۔
مدھیہ پردیش میں بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر یہ میٹنگ اہمیت کی حامل ہے۔ کورنا وبا کے دوران آن لائن کلاسز کی وجہ سے بچوں کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی سہولت میسر ہے لیکن ساتھ ہی نئے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بچوں کے ساتھ آن لائن جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل 2020 میں آئی سی پی ایف کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 100 شہروں میں ہر ماہ اوسطاً 50 لاکھ بچوں سے متعلق فحش مواد یا چائلڈ ابیوز سیکسول میٹریل کو تلاش کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار صرف پبلک ویب کے لیے ہیں جب کہ ڈارک ویب میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کے ڈائریکٹر وشال ناڈکرنی نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے معاملات میں بچوں کی مدد کے لیے سخت قوانین، ایجنسیاں اور ماہرین موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان اہم محافظ ہمیشہ خاندان ہے۔اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ہم نچلی سطح پر خاندانوں میں آگاہی پیدا کریں تاکہ وہ اس بات کی نشاندہی کرسکیں کہ کیا ان کے بچوں کو کسی قسم کی آن لائن جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
مدھیہ پردیش کے سابق ڈی جی پی رشی کمار شکلا نے کہاکہ انٹرنیٹ گاؤں تک پہنچنے کے ساتھ جنسی ہراسانی کے معاملات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کا حل آسان نہیں ہے۔ اس میں پورے معاشرے کا تعاون درکار ہے۔ یہ بہت اچھا ہے کہ انڈیا چائلڈ پروٹیکشن فنڈ اس مسئلے کو ریاستوں تک لے جا رہا ہے۔
بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے جنسی مواد (SISAM) کے معاملات کی تہہ تک پہنچنے میں سب سے بڑا چیلنج سی ڈی فارمیٹ میں پائے جانے والے سورس ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنا ہے۔
بھوپال کے ڈی سی پی ونیت کپور نے کہاکہ عام طور پر ایک ای سی ڈی میں سیسم کے 600 سے 800 کیسز ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس اس سی ڈی سے ڈیٹا نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اسے دستی طور پر کرنا پڑتا ہے جس سے تفتیش میں تاخیر ہوتی ہے اور دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ بچہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے کیسز کی تیز رفتار تفتیش کے لیے ہمیں خاص قسم کے سافٹ وئیر کی ضرورت ہے تاکہ ماخذ ڈیٹا کی تہہ تک جا کر مجرم کی نشاندہی کی جا سکے۔
آئی سی پی ایف بچوں کے آن لائن تحفظ اور خاص طور پر آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک طویل عرصے سے کام کر رہا ہے۔ وہ خاص طور پر بچوں، والدین اور اساتذہ کے درمیان اس مسئلے پر بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کے خطرے سے بچانے کے لیے ملک کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
اس پروگرام میں خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر وشال ناڈکرنی، مدھیہ پردیش کے سابق ڈی جی پی رشی کمار شکلا، آئی سی پی ایف کے سی ای او اور اتر پردیش کے پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل او۔ پی سنگھ اور محکمہ تعلیم کی ایڈیشنل ڈائرکٹر منیشا سینتھیا موجود تھیں۔اس کے علاوہ پروگرام میں آئی سی پی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمپورنا بہرا، ڈبلیو سی ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر یگیہ میدا، بھوپال کے ڈی سی پی ونیت کپور، محکمہ پولیس ویبھو سریواستو اور ایس کے سوماونشی اور آئی سی پی ایف، حکومت اور محکمہ پولیس کے دیگر معززین موجود تھے۔ اس دوران ریاست میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (سی ایس اے اے ایم) کے بڑھتے ہوئے خطرے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا20 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان18 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا16 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا16 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
