دنیا
سعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فوجی مداخلت کی اپیل کے بعد امریکہ یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ امریکی کمانڈروں نے پہلے ہی اہداف کی فہرست تیار کر لی تھی اور جنگی طیاروں کو مشن کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، لیکن حملوں کی پہلی لہر شروع ہونے سے عین قبل آخری لمحے میں مجوزہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی تیاری پہلے معلوم تفصیلات کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی تھی۔ امریکی کمانڈروں نے اہداف کی فہرست کی منظوری دے دی تھی، جبکہ فوجی اہلکار مشن کے لیے منتخب امریکی جنگی طیاروں میں بم لوڈ کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی شروع ہونے ہی والی تھی کہ ٹرمپ نے حملوں سے پیچھے ہٹنے یا کم از کم انہیں مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے آخری لمحے میں اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے مجوزہ کارروائی روک دی۔ یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کے اندر کئی ہفتوں سے جاری اس بحث اور تذبذب کے بعد کیا گیا کہ آیا امریکہ کو حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں براہ راست شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔
ٹرمپ ابتدا میں حملوں کی منظوری دینے سے گریزاں تھے، تاہم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت کے بعد ان کے موقف میں تبدیلی آئی۔تاہم، اتوار تک ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔
امریکی حکام نے کہا کہ فی الحال حملے نہیں کیے جائیں گے، اگرچہ انتظامیہ نے مستقبل میں فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
یہ واقعہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں ایک اور فوجی محاذ کھولنے کے خطرات کے درمیان واشنگٹن کو درپیش مشکل صورت حال کو نمایاں کرتا ہے۔ امریکی حکام نے یہ خدشات بھی ظاہر کیے ہیں کہ ایک اور طویل فضائی مہم امریکی فوجی دستوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
حوثی یمن کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں شامل ہیں اور ماضی میں بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ 2025 میں بھی اس گروپ کو امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
تازہ فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکہ فی الحال حوثی ٹھکانوں پر براہ راست حملوں میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے گریز کرے گا۔ تاہم، واشنگٹن ریاض کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور خطے میں جاری وسیع تر تنازع میں بھی مصروف ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر امریکی فوجی منصوبہ بندی کتنی تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن کو اپنے اتحادیوں کے مطالبات اور پہلے ہی پیچیدہ علاقائی تنازع کو مزید پھیلانے کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک یمن میں نئی پیش قدمیاں کر رہی ہے، جس سے سعودی عرب اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے لیے تشویش بڑھ گئی ہے۔ بحیرہ احمر کے اطراف اہم تزویراتی علاقوں کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی نے اس خطے پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے جو پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے دوچار ہے۔
واشنگٹن نے اب تک حوثیوں پر براہ راست حملہ کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف کے تعین سے متعلق معاونت فراہم کی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعدد مرتبہ بات کر چکے ہیں اور امریکی حملوں کی درخواست بھی کر چکے ہیں، تاہم اس درخواست کے نتیجے میں اب تک امریکہ نے براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔
حوثیوں کی تازہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک تنگ آبی راستہ ہے۔ وہاں کسی بڑے خلل سے تجارتی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی سے متعلق پہلے سے موجود خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
حوثیوں نے سعودی دارالحکومت میں ان کے بقول حساس مقامات اور ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
امریکی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ان کے اس موقف نے سعودی عرب کے لیے ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر دی ہے، جو امریکی مدد کا خواہاں ہے اور ساتھ ہی حوثیوں کی پیش قدمی کو اپنے طور پر محدود کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
یہ معاملہ ایران کے ساتھ وسیع تر محاذ آرائی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ امریکی اور خلیجی حکام حوثیوں اور ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے درمیان تعلق دیکھتے ہیں، تاہم حوثی گروپ پر تہران کے کنٹرول کی سطح اب بھی بحث کا موضوع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے مذاکرات میں واپس آنے کا راستہ کھلا، تنازع کے خاتمے کی کوئی مدت مقرر نہیں :مائیک والٹز
واشنگٹن، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران کے لیے تنازع ختم کرنے کی غرض سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا راستہ کھلا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر اقتصادی دباؤ جاری رہے گا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ال مانیٹر لائیو کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والٹز نے کہا کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ’’وقت ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ یہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے تو والٹز نے کہا، ’’میں واقعی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا دروازہ کھلا ہے‘‘، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو ’’خیالی‘‘ قرار دیا کہ تہران نے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ہرجانے کی ادائیگی کو شرائط کے طور پر پیش کیا ہے۔
والٹز نے کہا، ’’ایرانی حکومت 1979 کے بعد سے اپنی کمزور ترین حالت میں ہے اور مزید کمزور ہو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اس کی وجہ اقتصادی دباؤ اور ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ مذاکرات میں واپس آئیں گے، میری امید ہے کہ پرامن اور سفارتی طریقے سے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تنازع 2029 تک جاری رہ سکتا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام کا سال ہے، تو والٹز نے کہا کہ وہ جنگ کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’میں اس کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کروں گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ایران ’’کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے‘‘ اور تہران جب بھی ’’نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو‘‘، مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔
والٹز نے کہا کہ اس دوران امریکہ ایران کی معیشت پر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور دعویٰ کیا کہ خلیجی اتحادی ممالک سے عالمی منڈیوں تک ایک ارب سے زیادہ بیرل تیل امریکی بحریہ کی نگرانی میں پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات بدستور روکی گئی ہیں۔
والٹز نے ایران کی اقتصادی مشکلات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی ریال کی قدر دو ملین ریال فی ڈالر سے بھی نیچے چلی گئی ہے، جبکہ افراط زر میں اضافہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے حوالے سے والٹز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ واشنگٹن کیا ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی بحری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
والٹز نے کہا، ’’ہمیں آزاد اور کھلی تجارت کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز سمیت اہم بحری راستوں کا حوالہ دیا۔
والٹز نے حوثیوں اور ایران پر شہری بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ میں 146 ممالک نے اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
غزہ کے حوالے سے والٹز نے انتظامیہ کے طریقہ کار کو ’’کثیرالجہتی سفارت کاری کی ایک نئی قسم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت ’’انتخابات کے نتائج طے ہونے کے بعد آگے بڑھ سکتی ہے‘‘۔ ان کا اشارہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی جانب تھا۔
منصوبے میں فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ، تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام شامل ہے، جبکہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی انخلا سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
والٹز نے یہ بھی کہا کہ ایسے ’’ممکنہ رکن ممالک‘‘ موجود ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔
انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل اور مراکش کی جانب سے سفیروں کے تبادلے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
عراق کے حوالے سے والٹز نے عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ ایران کی ’’کمزور ریاست‘‘ ان ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتی ہے۔
والٹز کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کی مدت اور سفارتی حل کے امکانات کے حوالے سے مسلسل سوالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مؤقف برقرار رکھا کہ تہران مذاکرات میں واپس آ سکتا ہے، تاہم واشنگٹن کا اقتصادی دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ انہوں نے سوال کیا: ’’اگر اور کب پوری قوم کو تباہ کر دوں؟‘‘
تہران کو ایک نئی آخری تنبیہ جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ’’فیصلہ کرنے کے مرحلے‘‘ میں ہیں اور خبردار کیا کہ مستقبل قریب میں ’’بہت بڑی چیزیں‘‘ ہونے والی ہیں۔
ان کا یہ بیان ایران کے اس اعلان کے بعد آیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ ’’فیصلہ کرنے کے مرحلے‘‘ میں ہیں اور ’’بہت بڑی چیزیں مستقبل قریب میں ہونے والی ہیں۔‘‘ صدر نے اپنے سامنے موجود آپشنز کو ’’ایران کا صفایا کر دینا، اسے اقتصادی طور پر تباہ ہونے دینا یا سفارتی معاہدہ کرنا‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا، ’’میرا سوال یہ ہے کہ اگر اور کب میں پوری قوم کو تباہ کر دوں؟ انہیں بہتر ہے کہ وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔‘‘
ٹرمپ نے جمعرات کو بھی کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ’’اندر جا کر انہیں (ایرانی حکومت کو) مکمل طور پر تباہ کر دوں یا ایسا نہ کروں‘‘، اور مزید کہا تھا کہ ان کے ساتھ ’’کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے کی توقع ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کے ایک ’’بنیادی وفد‘‘ کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف ٹرمپ کی تازہ دھمکی ان کی جانب سے دی جانے والی متعدد دھمکیوں میں تازہ ترین ہے۔ اپریل میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’’ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی‘‘، جب تک کہ ’’شاید کوئی انقلابی طور پر شاندار چیز نہ ہو جائے۔‘‘ اس تنبیہ کے ساتھ ایک ڈیڈ لائن بھی دی گئی تھی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور مختصر مدت کے لیے جنگ بندی ہوئی۔
اس تنازع نے توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جبکہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو امریکہ میں پٹرول کی قومی اوسط قیمت 4.48 ڈالر فی گیلن تھی۔
دریں اثنا، ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک نئے بڑے پیمانے کے حملے کی تیاری کر سکتے ہیں اور اس نے پورے مشرق وسطیٰ میں ’’دردناک‘‘ جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے کہا، ’’اگر امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کوئی بھی غلطی کرتا ہے تو خطے میں اس کے تمام ٹھکانوں اور مفادات کو مسلسل، مؤثر اور دردناک حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘
ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ نئے امریکی قیادت والے حملے کی حمایت کرنے والے علاقائی ممالک کو تنازع کے فریق تصور کیا جائے گا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے خاتمے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جبکہ ایرانی حکام نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔
تسنیم کے مطابق پزشکیان اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر متعدد ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا کہ ایران کو اپنے دشمنوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے لڑائی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے اور میدان جنگ میں برتری حاصل ہونے کی صورت میں سفارت کاری کو آگے بڑھانا چاہیے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
میں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
واشنگٹن، فوکس ٹی وی چینل کے ٹرے یِنگسٹ سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مطالبات قبول نہیں کرتا تو اس ملک کو “ہوا میں اڑانا” ضروری ہوگا یا نہیں، یہ وقت کا معاملہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو مکمل طور پر ختم کر دینا، اس کا معاشی طور پر دیوالیہ نکال دینا یا کسی معاہدے تک پہنچنا ہمارے متبادلوں میں شامل ہے۔
یہ بیانات تہران انتظامیہ کے اس انتباہ کے بعد آئے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ یا مشرقِ وسطیٰ میں کسی ملک نے غلطی کی تو انہیں سخت حملوں سے نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں موجود امریکی شہریوں کے لیے حفاظتی انتباہ جاری کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے امریکہ کے ممکنہ نئے حملے کے بارے میں کہا، “اگر نیا حملہ ہوا تو ہماری دفاعی اور حملہ آور کارروائیاں پوری طرح سے بدل جائیں گی۔ اگر نیا حملہ ہوا تو ہم ہتھیاروں اور جنگ کے جغرافیے کو تبدیل کر دیں گے۔”
محیبی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں امریکہ اور اسرائیل کے کسی ممکنہ نئے حملے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا :
“اگر نیا حملہ ہوا تو ہماری دفاعی اور حملہ آور حکمتِ عملیاں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ نئی صلاحیتوں سے لیس کرکے ہم ایک نئے مسلح میدان میں داخل ہوں گے جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ جائے گی۔ ہمارا ہدف پرانے اہداف نہیں ہوں گے۔ ہم نے تاحال حملہ نہ کیے جانے والے اہداف کا انتخاب کیا ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا6 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا6 days agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
ہندوستان4 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا5 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا3 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
ہندوستان6 days agoیوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر2 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
