ہندوستان
خواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
وایناڈ، (کیرالہ)، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بہار کے جموئی میں طالبہ کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خواتین کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سڑکوں پر خواتین کی سکیورٹی یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو بڑے بڑے منصوبوں اور پروگراموں کی بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
محترمہ گاندھی نے منگل کے روز اپنے پارلیمانی حلقے کیرالہ کے وایناڈ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتوں اور خاص طور پر مرکزی حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ خواتین کو محفوظ کیسے محسوس کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر خواتین کی سکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے اور جب یہ بھی یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو بڑے منصوبوں اور پروگراموں کی بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
نئی دہلی، وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے منگل کے روز کہا کہ معیشت میں اس وقت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور سرکاری کام کاج کی آج کی رفتار نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے کہ انتظامی کام ہے تو تاخیر ہوگی ہی مسز سیتا رمن یہاں مینجمنٹ کے شعبے کے اعلیٰ ادارے – آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایم اے) کی 53ویں آل انڈیا مینجمنٹ کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اندازاً سرمائے کے اخراجات کو 2026-27 میں بڑھا کر 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ مؤثر سرمائے کا خرچ، جس میں ریاستوں کو سرمائے کے اثاثے بنانے کے لیے مرکز کی طرف سے دی جانے والی گرانٹس بھی شامل ہیں، 17 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا، “حکومت نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اسے راغب کرنے کے مقصد سے عوام کے سرمائے کے اخراجات کا حکمت عملی کے تحت استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مستحکم سرمائے کی تشکیل مجموعی گھریلو پیداوار کے 34 فی صد سے زیادہ ہو گئی۔
اس میں حقیقی طور پر تقریباً 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 75 فی صد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو اس آپریشنل رفتار سے دوہری (بینکوں اور کمپنیوں کی) بیلنس شیٹ کے مسئلے (بینک کا قرض نہ چکا پانے والی کمپنیوں کو بینکوں سے قرض پر قرض ملنے کا مسئلہ) کے حل سے طاقت ملی ہے۔ انہوں نے کہا، “آج ہندوستان دوہری بیلنس شیٹ کے فائدے کی صورتحال میں ہے—تجارتی بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کافی سیالیت ہے اور کمپنیوں کی مالی حالت سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔”
وزیر مالیات نے کہا کہ صنعت کے شعبے کے لیے بینک قرض کی نمو میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس سال جون میں بینکوں کے قرض کے کاروبار میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ قرض ان لوگوں اور شعبوں تک پہنچ رہا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ مسز سیتا رمن نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے آزادانہ تجارتی معاہدے (مختلف ایف ٹی ایز) ہندوستان کی محنت طلب اشیاء اور خدمات کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے تجارتی شعبے کو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
محترمہ سیتا رمن نے اس کانفرنس کے موضوع – ‘مستقبل کے لیے تبدیلی: ثبات کے ساتھ نمو’ پر اپنے خطاب میں حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار میں تیزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بندرگاہوں پر جہازوں میں اینٹری اور ایگزٹ کا وقت ایک دہائی میں تقریباً آدھا ہو گیا ہے، ریل نیٹ ورک اب تقریباً پوری طرح سے برقی ہو چکا ہے اور مال برداری بڑھ کر ریکارڈ 1.67 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے نیز ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے اگست 2026 میں روزانہ اوسطاً تقریباً 79 کروڑ لین دین ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں اور اس مقابلے کے نتیجے میں اعلیٰ قدر والی سرگرمیاں کوئمبٹور، وڈودرا، وشاکھاپٹنم، اندور، بھوبنیشور اور جے پور جیسے ٹائر-2 اور ٹائر-3 مراکز تک پھیل رہی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 بھی اسی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں مرکز کے تیار کردہ فریم ورک کے ساتھ ریاستوں کے ذریعے مؤثر عمل آوری کو جوڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا، جس سے بالآخر روزگار اور روزی روٹی کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اس سے ہمیں ترقی اور مضبوطی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار نوکری دینے پر انسیٹو دیا، آلات کار کے ریٹائرمنٹ کنٹری بیوشن کا کچھ حصہ بھرا اور کارپوریٹ انٹرنشپ شروع کی – یہ تمام ‘روزگار سے جڑے انسیٹو’ (ای ایل آئی) اسکیموں کے تحت کیے گئے۔
وزیر مالیات نے کہا کہ مالیاتی سال 2025-26 کے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں کٹوتی کی گئی اور سلیب کا دائرہ بڑھایا گیا، جس سے خرچ کرنے کے قابل آمدنی اور کل مانگ میں اضافہ ہوا۔ ہمارا مقصد صرف اپنانا نہیں، بلکہ قیادت کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مینجمنٹ کی دنیا کو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، “دہائیوں سے ہم نے ‘کائیزن’ سے لے کر ‘لین مینوفیکچرنگ’ تک دوسری جگہوں پر تیار کردہ مینجمنٹ کے طریقوں سے سیکھا ہے۔ اگلا قدم اپنے یہاں مینجمنٹ کے ایسے طریقے بنانا ہے جن کا دنیا مطالعہ کرے اور ایسے معیارات قائم کرنے ہیں جو عالمی اصول بن جائیں۔”
وزیر مالیات نے کہا، “اس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک ملک کے طور پر ہم مکمل طور پر اہل ہیں؛ ہمیں خود پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ آج کے منیجرز کو جیو پولیٹیکل اسباب سے سپلائی چینز کے خطرات، موسمیاتی خطرات، بیہیویئرل سائنس، ڈیٹا اور ریگولیٹری و ٹیکنالوجی پر مبنی پروجیکٹ مینجمنٹ کے بارے میں گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر اے آئی ایم اے کو پوری انڈسٹری میں نصاب کی اصلاح کا اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ایسے لیڈرز تیار کرنے ہوں گے جو الگ الگ شعبوں کو آپس میں جوڑ سکیں۔ جب ہم 2047 تک ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کی سمت میں کام کر رہے ہیں، تو ہندوستانی مینجمنٹ کے طریقوں کا تعاون آج ہمارے ذریعے بنائے گئے اداروں کی کوالٹی سے ناپا جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ ضرورت نہ صرف بڑی کمپنیاں بنانے کی ہے، بلکہ کمپنیوں کو بہتر بھی بنانا ہے تاکہ وہ مسابقتی، جدت کی راہ میں آگے چلنے والی، قابل اعتماد اور مضبوط ہوں اور آنے والی دہائیوں میں ہندوستان کی قیادت کر سکیں۔
مسز سیتا رمن نے جی ایس ٹی میں ستمبر 2025 میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کیا اور اس بار کے بجٹ میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس نظام میں مزید یقین دہانی لانے کے اقدامات کا ذکر کیا۔ وزیر مالیات نے ریاستوں کو ‘ریاستوں کو سرمائے کی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد’ اسکیم کے ذریعے 50 سال کے لیے بغیر سود والے قرض کی اسکیم کا ذکر بھی کیا جس کا کچھ حصہ اصلاحات سے جڑا ہے۔ مرکز نے کئی نئی اسکیمیں ریاستوں کے درمیان مقابلے (‘چیلنج’) کی بنیاد پر شروع کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ ریاستیں اپنی خوبیوں کا استعمال کریں اور اپنے بہترین تجاویز سامنے لائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا، “اگلے 20 برس میں چیلنج صرف اور زیادہ اسٹارٹ اپس بنانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ دیکھنا ہے کہ آج کے کتنے اسٹارٹ اپس بڑی، پیشہ ورانہ طریقے سے چلنے والی اور طویل عرصے تک ٹکنے والی کمپنیاں بن سکتی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم اے کے لوگ اور کارپوریٹ دنیا کی شخصیات ان اسٹارٹ اپس کو بانی کی قیادت والے ادارے سے ادارہ جاتی قیادت والی کمپنیوں میں بدلنے کے مشکل مرحلے میں مدد کر سکتے ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ اس کاروباری توانائی کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں شروع ہوئی تھیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
عالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
نئی دہلی، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے مقابلے، جیو پولیٹیکل کشیدگی اور تنازعات کے درمیان عالمی نظام دباؤ میں ہے اور ایسے میں بین الاقوامی تعاون کے جذبے کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔
مسٹر جے شنکر نے پیر کی رات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ‘ہائی لیول ویک’ اجلاس کے موقع پر ‘پارٹنرز فار ملٹی لیٹرلزم، انٹرنیشنل لاء، پیس اینڈ پراسپرٹی’ سربراہ اجلاس میں کہا کہ امن و بین الاقوامی سلامتی، ماحولیاتی اقدامات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، ترقیاتی مالیات، دہشت گردی کا مقابلہ، سپلائی چین، آفات سے نمٹنے اور وبائی امراض کی تیاری جیسے مسائل کا حل اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ایندھن، خوراک، کھاد اور مالیات سے جڑے بحرانوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت بتائی اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان بحرانوں کا حل انتہائی ضروری ہے۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز اور صلاحیتوں کے لیے مناسب قوانین اور سکیورٹی کے انتظامات ضروری ہیں۔ سپلائی میں رکاوٹ اور کسی ایک جگہ پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرے سے نمٹنے کے لیے خطرات کو کم کرنے اور ذرائع میں تنوع لانے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کثیر الجہتی کو آگے بڑھانے کے لیے اس میں اصلاحات ضروری ہیں، جس میں زیادہ سے زیادہ شمولیت اور شفاف فیصلہ سازی کا عمل شامل ہو۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ایودھیا میں منظم طریقے سے چڑھاوا چوری کے سرغناؤں کو بچانے کی کارروائی چل رہی ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے شری رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں تین ماہ بعد بھی چارج شیٹ داخل نہ ہونے کو سرغناؤں کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں ایس آئی ٹی کے نام پر بڑے چوروں کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کہا کہ چڑھاوا چوری کے معاملے میں تحقیقات شروع ہوئے تین ماہ پورے ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں لیکن ابھی تک ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ اگر 25 ستمبر تک چارج شیٹ داخل نہ ہوئی تو چڑھاوا چوری کے معاملے کے چھوٹے کرداروں کی ضمانت کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کے عوام کو ایسی ایس آئی ٹی اور ایسی کسی سرکاری چارج شیٹ پر بھروسہ نہیں ہے جس میں بڑی مچھلیوں کو بچانے کے خدشات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی رپورٹ کرنے کے قابل نہیں ہے، ان کی اپنی تحقیقات اب تسلیم کر رہی ہے کہ چڑھاوا چوری 70 نہیں بلکہ سی سی ٹی وی میں 105 بار سامنے آ چکی ہے جسے وہ چاہ کر بھی مسترد نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ داخل کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے اور معاملہ بڑے چوروں اور ان کے سرپرستوں سے توجہ ہٹانے کا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایودھیا کے بھگوان شری رام مندر میں منظم طریقے سے کی گئی چڑھاوا چوری کے سرغناؤں کو کون اور کیوں بچا رہا ہے؟ اس سنگین معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی اور چڑھاوا چوری کے ملزمان کی مدد پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ عوام کے سیدھے سوالات ہیں کہ بڑی بڑی مچھلیوں پر اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور ان سے سخت پوچھ گچھ کب ہوگی؟ اصل گنہگاروں کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات سے کون اور کیوں بچنا چاہتا ہے اور ٹرسٹ کو اب تک تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی کے نام پر بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ چڑھاوا چوری کے ملزمان کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوال اب صرف ملزمان کا نہیں بلکہ ان لوگوں کی جوابدہی کا بھی ہے جن کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہوا۔ وزیر اعظم کو عقیدت سے جڑے اس سنگین معاملے پر خاموشی کے لئے جواب دینا ہوگا۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے نظام کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ چڑھاوا بھگوان شری رام کے نام پر آیا تھا اور جو لوگ اس کے انتظام و انصرام اور منتظمین کے انتخاب کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں، انہیں چڑھاوا چوری کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
