تازہ ترین
آپریشن آل آؤٹ سے متعلق گورنر کا بیان حقائق سے بعید اور گمراہ کن: جے آر ایل
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے آپریشن آل آؤٹ سے متعلق گورنر ستیہ پال ملک کے دئے گئے بیان کو حقائق سے بعید اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے موصوف کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور فوجی سربراہ بپن راوت کے بیانات پڑھنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اُس بیان پر کہ جموں وکشمیر میں آل آؤٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں چل رہا ہے کو زمینی حقائق سے بعید اورگمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کی طرف سے بار بار واضح الفاظ میں یہ بیانات دیئے جاتے رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں آپریشن آل آؤٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں جس کے تحت بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر کے طول و عرض خاص طور پر جنوبی کشمیر میں آئے روز کی ہلاکتوں ، مار دھاڑ، قتل و غارت گری ،خانہ تلاشیوں،خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ، ہراسانیوں اورمزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں اور پابندیاں برابر اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور یہ سب کچھ آپریشن آل آؤٹ نہیں ہے تو کیا ہے ؟قائدین نے کہا کہ یہاں قدم قدم پر فوج کے سخت پہرے ہیں اور بڑی بے دردی کے ساتھ نہتے نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، طاقت اور تشدد کے بل پر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے اُن سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے، ہماری پر امن سرگرمیوں پر بھی آئے روز پہرے بٹھائے جا رہے ہیں، خانہ و تھانہ نظر بندیوں کا سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ ہمیں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے بالخصوص گزشتہ تین سالوں سے برابر جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں قابض افواج کوافسپا اور کالے قوانین کے بل پر جو بے پناہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں اُن کا بے دردی سے استعمال کرکے نہتے عوام کو پُر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فوج پولیس اور وزارت داخلہ کی جانب سے یہ بیان کہ کشمیر میں صرف دوسو کے قریب عسکریت پسند سرگرم عمل ہیں اس کے لئے ساڑھے سات لاکھ افواج کی تعیناتی کا کیا جواز ہے ؟۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔ انہوں نے2018ء میں جموں وکشمیر کے حدود میں قتل و غارتگری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے تعلق سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال گزشتہ قابض فورسز کے ہاتھوں161 نہتے شہری،جبکہ 355 عسکریت پسندوں کو جاںبحق کیا گیا اتنی بڑی تعداد میں بے گناہوں کا قتل عام ، آپریشن آل آؤٹ نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟۔ اس دوران بلٹ اور پیلٹ سے 4524 افراد کو شدید طور پر زخمی جبکہ 724 افراد کی آنکھیں شدید طور پر متاثر ہوئی۔آخر یہ سب کچھ کیا ہے؟قائدین نے جموں وکشمیر کے متنازعہ مسئلہ کے ہیئت اور حیثیت کو بگاڑنے کے کسی بھی عمل کیخلاف بھر پور مزاحمت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی جانب سے یہاں کے مبنی برحق جدوجہد کوکمزور کرنے اور اس مسئلہ کی تاریخی حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے کے منصوبوں کے حوالے سے چوکنا رہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ میںState Subject Law,35A کے حوالے سے دائر پٹیشن کے ضمن میں 19 جنوری2019ء کو شنوائی کی تاریخ طے تھی لیکن کورٹ کے روسٹر میں مذکورہ تاریخ میں اس پٹیشن کی شنوائی موجود نہیں ہے تاہم مزاحمتی قیادت نے جموں وکشمیر میں تمام سیاسی، تجارتی ، مذہبی اور سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور قیادت پورے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں اگلے پروگرام سے عوام کو اگاہ کیا جائیگا۔قائدین نے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکومت ہندوستان یہاں ایک منصوبے کے تحت اس ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے تاکہ اس متنازعہ مسئلہ کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی۔
کے این ایس
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
