تازہ ترین
اتر پردیش شرمسار، بلند شہر میں چھیڑخانی کے دوران سڑک حادثہ، امریکہ میں پڑھنے والی طالبہ کی موت
لڑکی امریکہ میں پڑھتی تھی اور بلند شہر واقع اپنے گھر آئی ہوئی تھی۔ سدیکشا بھاٹی نامی اس ہونہار طالبہ نے منچلوں کی چھیڑخانی سے بچنے کی کوشش کی اور پھر سڑک حادثہ میں ہلاک ہو گئی۔
تنویر:-
ایسا لگتا ہے کہ یوگی حکومت میں اتر پردیش اب پوری طرح سے بھگوان بھروسے ہے۔ ایک طرف تو جرائم کا گراف لگاتار بڑھتا جا رہا ہے اور دوسری طرف خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کی خبریں بھی عام ہوتی جا رہی ہیں۔ منچلوں کے بڑھتے حوصلے کی تازہ ترین مثال بلند شہر میں دیکھنے کو ملی جہاں اپنی عزت بچانے کی کوشش میں بائک پر سوار لڑکی سڑک حادثہ کا شکار ہو گئی جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ لڑکی امریکہ میں پڑھتی تھی اور بلند شہر واقع اپنے گھر آئی ہوئی تھی۔ سدیکشا بھاٹی نامی اس ہونہار طالبہ نے منچلوں کی چھیڑخانی سے بچنے کی کوشش کی اور پھر سڑک حادثہ میں ہلاک ہو گئی۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب غازی آباد میں بھانجی کو چھیڑخانی سے بچانے کے دوران صحافی وکرم جوشی کا قتل ہو گیا تھا، اور اب بلند شہر کے واقعہ نے ایک بار پھر ریاستی انتظامیہ کے سامنے کئی طرح کے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق طالبہ سدیکشا بھاٹی امریکہ کے بابسن کالج میں حکومت ہند کے خرچ پر پڑھ رہی تھی۔ ایچ سی ایل کی طرف سے گزشتہ سال سدیکشا کو 3.80 کروڑ روپے کی اسکالرشپ دی گئی تھی۔ فی الحال پولس نے طالبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور نامعلوم بائیکرس کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ سڑک حادثہ کے تعلق سے بتایا جا رہا ہے کہ سدیکشا کی اس وقت موت ہوئی جب موٹر سائیکل پر سوار کچھ نوجوان بائک پر بیٹھی طالبہ سے فلرٹ اور چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ چھیڑخانی کے دوران موٹر سائیکل پر سوار نوجوان بار بار بائک کو اوورٹیک کر رہے تھے کہ اسی دوران منچلوں سے بچنے کے چکر میں سدیکشا حادثہ کا شکار ہو گئی۔
اس درمیان سدیکشا کے گھر والوں کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے سبب سدیکشا امریکہ سے وطن واپس لوٹی تھی اور آج اپنے ہی چچا کے ساتھ بائک سے اپنے ماما سے ملنے جا رہی تھی۔ اسے کچھ دن بعد واپس امریکہ پڑھائی کے لیے لوٹنا تھا لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ آج حادثے میں اس کی موت ہو جائے گی اور پھر وہ کبھی امریکہ نہیں جا پائے گی۔
بہر حال، پولس نے نامعلوم بائیکرس کے خلاف معاملہ درج کر ان کی تلاش شروع کر دی ہے اور الزامات کے مطابق جانچ کر کارروائی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ واقعہ اتر پردیش کے بدتر نظامِ قانون کی گواہی دے رہا ہے اور سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ریاست کے جرائم پیشوں اور منچلوں کے دل سے قانون و پولس کا خوف ختم ہو گیا ہے؟ ایک طرف جرائم پیشے بلاخوف جرم کرنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف پولس اپنے بچاؤ میں رٹے رٹائے جواب دے رہی ہے۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
