تازہ ترین
سوشل میڈیاپر پابندیوں کی تیاری ، ڈرافٹ جاری
مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے دعویٰ کیا کہ اس ڈرافٹ کے ذریعےسوشل میڈیا کیلئے باقاعدہ نظم کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ملک میں کاروبارکرنے کی کھلی اجازت کا دعویٰ لیکن دہرامعیار ختم کرنے کی ہدایت،۳؍ ماہ میں قانون نافذکرنےکا اعلان ، اپوزیشن نے نشانہ بنایا، کہا کہ سرکار صرف اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کررہی ہے
حکومت ہند سوشل میڈیا کو بھی لگام دینے کی کوششیں کررہی ہے جس کے تحت اس نے قانون کا ڈرافٹ جاری کیا ہے جس پر اگلے کچھ ہفتوں تک گفتگو ہو نے کا امکان ہے۔سوشل میڈیا کمپنیوں اور اداروں کو لگام دینے کے لئےحکومت ہند نے پوری تیاری کر لی ہے۔ اگلے تین مہینے کے اندر اندر اس سے متعلق بنایا گیا قانون نافذ کر دیا جائے گا۔خاص بات یہ ہے کہ اس کی زد میں سیاسی جماعتیں بھی آئیں گی ۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور پرکاش جائوڈیکر نے پریس کانفرنس میں یہ معلومات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایک گریونس میکانزم تیار کرناہوگا اور۱۵؍ دنوں میں مشکلات کو ایڈریس کرنا ہوگا۔ مستقل بتانا ہوگا کہ کتنی شکایت آئیں اور ان پر کیا کارروائی کی گئی ؟ اگر کسی نے کوئی قابل اعتراض پوسٹ کیا ہے تو اس کا سب سے پہلا میسیج کہاں سے آیا یہ بتانا ہو گا۔
مرکزی حکومت کے ارادے
روی شنکر پرساد نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے حکومت کے ارادے بالکل واضح کردئیے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگر کوئی چیز بیرون ملک سے فارورڈ ہوئی ہے تو ہندوستان میں اسے کس نے آگے بڑھایا۔انھوں نےمتنبہ کیا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیاں ان اصولوں کو تسلیم نہیں کریں گی توآئی ٹی ایکٹ میں جو بھی قانون ہے اس کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو افسروں کی تعیناتی بھی کرنی ہوگی۔ کسی بھی قابل اعتراض چیز کو ۲۴؍ گھنٹے کے اندر اندر ہٹانا ہوگا۔ پلیٹ فارمس کو ہندوستان میں اپنے نوڈل آفیسر اور ریزیڈنٹ گریونس آفیسرس کی تعیناتی کرنی ہوگی ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہر مہینے کتنی شکایتوں پر ایکشن ہوا ہے ، اس کی اطلاع بھی حکومت کو فراہم کرانی ہوگی ۔
اہم مسائل پر احتیاط کی تلقین
جاری کئے گئے ڈرافٹ میں ہندوستان کی سالمیت ، خود مختاری ، غیر ملکی تعلقات اور عصمت دری جیسے اہم مسئلوں کو شامل کیا گیا ہے اور ان معاملات پر کمپنیوں کو بھی حد درجہ احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے ۔یہ گائیڈلائن سبھی پر نافذ کی جائیں گی خواہ وہ کوئی سیاسی پارٹی ہو یا پارٹی سے رشتہ رکھنے والا کوئی خاص شخص ۔
ڈجیٹل میڈیا کو بھی پابند بنایا گیا
اس کے ساتھ ہی ڈرافٹ میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل میڈیا کو اپنے کام کی اطلاع دینے کا پابند کیا گیا ہے ۔ انہیں یہ بتانا ہو گا کہ وہ کیسے اپنا کانٹینٹ تیار کرتے ہیں ،اس کے بعد سبھی کو سیلف ریگولیشن نافذ کرنا ہوگا ۔ اس کے لئے ایک باڈی بنائی جائے گی جس کی ذمہ داری سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا کسی دیگر اہم شخصیت کو دی جائے گی ۔ الیکٹرانک میڈیا کی طرح ڈجیٹل میڈیا کو بھی غلطی کرنے پر معافی نامہ جاری کرنا ہوگا ۔
ہندوستان کی شبیہ کا دھیان
مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی تجارتی مواقعوں میں بہتر ہورہی شبیہ کا بھی دھیان رکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہندوستان میں کاروبار کرنے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کا خیرمقدم ہے، حکومت تنقیدوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے لیکن سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر شکایت کیلئے بھی ایک میکانزم ہونا چاہئے اور ہم اسی کی کوشش کررہے ہیں۔
اصل مسئلہ کیا ہے ؟
واضح رہے کہ ہندوستان میں وہاٹس ایپ کے ۵۳؍ کروڑ اور فیس بک کے ۴۰؍ کروڑ سے زائد صارفین ہیں۔ ان دونوں پلیٹ فارمس پر گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت کے حامیوں اور حکومت مخالفین عناصر میں ایک طرح سے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ کسانوں کے آندولن کے سلسلے میں بھی سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں اس آندولن کی پل پل کی خبر یںپہنچ رہی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ حکومت اسی سے خوفزدہ ہے اور اس نےڈرافٹ جاری کرنے کے بہانے سے سوشل میڈیا پر کچھ پابندیاں عائد کرنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔
اپوزیشن نے آڑے ہاتھوں لیا
بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے حکومت کی ان کوششوں پر کہا کہ جس سوشل میڈیا کا استعمال کرکے مودی اور بی جے پی یہاں تک پہنچے ہیں ، اب جب اس کی آنچ ان تک جا رہی ہے تو وہ گھبرا گئے ہیں ۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی اکثریت کو کنٹرول کر لیا گیا ہے لیکن سوشل میڈیا عوام کی آواز بلند کر رہا تھا چنانچہ اب اس پر گرفت کی جا رہی ہے ۔ سی پی آئی کے قومی سیکریٹری اتل کمار انجان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ حکومت گھبرا گئی ہے کیونکہ اب اس کی حقیقت اور ناکامی سوشل میڈیا کے ذریعہ عام ہو رہی ہے ۔ ورنہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۷ءتک کیا ان کو یہ نظر نہیں آیا تھا جب بی جے پی اور آ رایس ایس کے ۸۰؍ ہزار لوگ سرگرم تھے اور ۳۵؍ہزار لوگوں کو تنخواہ پر رکھا گیا تھا ۔
(بشکریہ انقلاب)
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
