تازہ ترین
اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا انتقال
اندور کے اربندو اسپتال میں لی آخری سانس،کورونا رپورٹ بھی تھی مثبت
خبراردو:-
سرینگر:اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا انتقال ہوگیا۔ راحت اندوری کو کورونا سے متاثر تھے۔کے این ایس کے مطابق اردو کے جانباز شاعر راحت اندوری اس دنیا کو الودع کہہ گئے، انہوں نے منگل کی صبح ہی کورونا پازیٹو ہونے کی جانکاری خود دی۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ دی تھی۔
انھوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’کووڈ کی شروعاتی علامتیں نظر آنے کے بعد کل میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ آربندو اسپتال میں ایڈمنٹ ہوں، دعا کیجیے جلد سے جلد اس بیماری کو شکست دے دوں۔‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں جانکاری کے لئے بار بار انہیں یا پھر ان کے کنبے کو فون نہ کریں، اس کی جانکاری ٹوئیٹر اور فیس بک کے توسط سے سبھی کو ملتی رہے گی۔
ہندی اور اردو زبان کے معروف بھارتی شاعر 70 سالہ راحت اندوری کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انتقال کرگئے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اندور ہسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ 11 اگست کو شام 4 بج کر 40 منٹ پر راحت اندوری کارڈیو ریسپائریٹری اریسٹ سے انتقال کرگئے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ راحت اندوری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، ان کے گردے فیل تھے، وہ ٹی 22, ذیابیطس، فشار خون کا شکار تھے اور ان کی بائیں آنکھ کالے موتیا سے متاثر تھی اور موت سے قبل وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔دوسری جانب اے این آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ راحت اندوری کو آج۲ ہارٹ اٹیکس آئے اور انہیں 60 فیصد نمونیا تھا۔راحت اندوری بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں ایک مل مزدور رفعت اللہ قریشی کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کا اصلی نام راحت قریشی ہے اور انہوں نے کم عمری می ہی شاعری کرنا شروع کی۔
راحت اندوری کی نظم، غزل اور مختلف اشعار کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور انہوں نے 40سے زائد بولی وڈ فلموں کے لیے درجنوں مقبول گیت لکھے۔راحت اندوری کو بھارت میں عصر حاضر کا شاعر بھی کہا جاتا ہے اور وہ بھارت میں اقلیتوں اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر بھی شاعری کرتے رہے ہیں۔راحت اندوری سے متعلق مشہور ہے کہ طاقت کے آگے جھکتے اور دولت کے آگے بکتے ہیں۔
راحت اندوری نے’گھاتک، عشق، بیگم جان، منا بھائی ایم بی بی ایس، مرڈر، ناراض، جنم، میں تیرا عاشق اور خوددار‘سمیت40 سے زائد بولی وڈ فلموں کے لیے گانے لکھے۔ان کے مقبول گیتوں میں اداکار گووندا اور کرشمہ کپور پر’خودار‘ فلم کا گانا ’تم سا کوئی پیارا، کوئی معصوم نہیں‘اور‘گھاتک‘کا ممتا کلکرنی پر فلمایا گیا گانا‘کوئی جائے تو لے آئے‘سمیت دیگر شامل ہیں۔
راحت اندوری نے ہندی سمیت اردو میں بھی غزل لکھے جب کہ وہ دیگر بھارتی مقامی زبانوں میں بھی شاعری پر طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔قبل ازیں بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز ناؤ کے مطابق راحت اندوری میں 11 اگست کو کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق راحت اندوری میں گزشتہ چند دن سے کورونا کی ہلکی علامات تھیں اور ٹیسٹ کرانے پر ان میں وبا کی تشخیص ہوئی تھی۔کورونا کی تشخیص کے بعد راحت اندوری کو اندور کے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرادیا گیا تھی۔
رپورٹ میں ہسپتال کے ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ راحت اندوری میں کورونا سمیت نمونیا بخار کی بھی تشخیص ہوئی ہے۔دوسری جانب معروف شاعر کے اہل خانہ کے مطابق راحت اندوری پہلے سے ہی دل کے عارضے اور ذیابطیس کا شکار تھے۔کورونا میں مبتلا ہونے اور ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد راحت اندوری نے ہندی میں کی گئی ٹوئٹ میں مداحوں سے دعا کی التجا کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی صحت سے متعلق ان کے اہل خانہ کو تنگ نہ کیا جائے، وہ اس متعلق سوشل میڈیا پر اطلاع دیتے رہیں گے۔
راحت اندوری کو ہسپتال داخل کرائے جانے کے بعد مدھیا پردیش کے وزیر اعلیٰ سمیت اہم سیاسی، سماجی و ادبی شخصیات نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ بھارت کورونا کیسز کے حوالے سے اس وقت دنیا کا تیسرا ملک ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد23 لاکھ تک جا پہنچی ہے اور وہاں پر اہلاکتوں کی تعداد بھی 44 ہزار تک جا پہنچی ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
