دنیا
اسانجے کے خلاف حوالگی کی درخواست واپس لیں، امریکی کانگریس کی بائیڈن سے اپیل
واشنگٹن، امریکی کانگریس کے 16 ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان نے صدر جو بائیڈن سے آسٹریلیائی صحافی اور وکی لیکس کے بانی جولین اسانجے کے خلاف امریکی حوالگی کی درخواست واپس لینے کی اپیل کی ہے۔
امریکی کانگریس نے اپنے بیان میں کہا ’’جیسا کہ کانگریس کے اراکین اظہار آزادی اور آزاد صحافت کے اصولوں پر گہری وابستگی رکھتے ہیں، ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آسٹریلیائی پبلشر جولین اسانجے کے خلاف اس وقت زیر التواء امریکی حوالگی کی درخواست کو واپس لینے اور ان کے خلاف سبھی استغاثہ کی کارروائی جلد سے جلد روکنے کے لئے پرزور حوصلہ افزائی کرنے کی درخواست کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا اداروں، انسانی حقوق اور آزاد صحافت کے حامیوں اور کانگریس کے اراکین سمیت دیگر کی جانب سے باربار گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اراکین نے کہا ’’امریکہ کو ایسے غیر ضروری مقدمات نہیں چلانے چاہیے جو عام صحافتی طریقوں کو مجرمانہ بنانے اور اس طرح پریس کے کام کو ٹھنڈا کرنے کا خطرہ اٹھاتے ہیں۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ یقینی بنائیں کہ اس کیس کو جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچایا جائے۔‘‘
واضح رہے کہ اسانجے کو اپریل 2019 سے لندن کی ہائی سیکیورٹی بیلمارش جیل میں رکھا گیا ہے، جب کہ ان کے خلاف جاسوسی ایکٹ کے تحت امریکہ میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں 175 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اسانجے نے 2006 میں وکی لیکس کی بنیاد رکھی، لیکن یہ 2010 میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب انہوں نے امریکہ سمیت دیگر ممالک سے خفیہ سرکاری معلومات کو بڑے پیمانے پر افشاء کرنا شروع کیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
صدر ایردوان کی نے انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک بات چیت
انقرہ، صدر رجب طیب ایردوان نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
صدارتی محکمہ اطلاعات کے بیان کے مطابق، گفتگو میں ترکیہ-انڈونیشیا تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی سے خوش ہیں اور اسے برقرار رکھنا ترکیہ اور انڈونیشیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
ایردوان نے زور دیا کہ تجارت اور دفاعی صنعت بالخصوص کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اہم ہے اور اس سمت میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ترک صدر نے سبیانتو کو 9 تا 20 نومبر کو انطالیہ میں منعقدہ COP31 لیڈرز سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی توپخانے اور طیاروں کے حملے، متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
بیروت، لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے اسپوتنک کو بتایا کہ اسرائیلی توپخانے اور طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں اور رہائشی علاقوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔
ذرائع نے پیر کو بتایا، ’’اسرائیلی توپخانے نے یاطر کے مضافات، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، زوطر الشرقیہ، برعشیت، خیام، کفر تبنیت، میفدون، عیترون، حولا اور دیگر علاقوں کے مضافات پر شدید گولہ باری کی۔‘‘
ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے زبقین، خیام، میس الجبل، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، منصوریہ، کفر تبنیت اور قنطارہ کے مضافات کو بھی نشانہ بنایا۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں مکمل جنگ بندی اور ملک کے جنوبی حصے پر لبنانی فوج کا کنٹرول بحال کرنے کی شق شامل ہے، تاہم اس کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شرط ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مذاکرات 4 سے 6 اگست تک روم میں جاری رہے تھے۔
اس کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں۔ اسرائیل نے ملک کے جنوبی حصے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جہاں سے مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
