تازہ ترین
اسلام امن کا مذہب ہے جس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں : اجیت ڈوبھال
نئی دہلی، 29 نومبر (یو این آئی) دنیا میں اسلام کی صحیح تشریح پیش کئے جانے اور اس کے ماڈرن پہلو کو اجاگر کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہ ایسا مذہب ہے جو تمام مذاہب کے لئے امن، شانتی ، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام لیکر آیا ہے، جس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جہاد انا کے خلاف ہونی چاہئے انسان اور انسانیت کے خلاف نہیں۔
قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے آج یہاں انڈیااسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ انڈونیشیا کے ایک اعلی سطحی وفد کو خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
’’ہندوستان اور انڈونیشیا میں بین المذاہب رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں علما کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں انڈونیشیا کے قومی سلامتی مشیر اور نائب وزیراعظم پروفیسر ڈاکٹر محمد محفوظ ایم ڈی کی سربراہی والے اس وفد میں وہاں کے کئی علما اور مذہبی رہنما شامل تھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹرڈوبھال نے کہا کہ ہندوستان اورانڈونیشیا کےدرمیان ثقافتی، اقتصادی، سیاحتی اور تجارتی شعبوں میں قدیم اور تاریخی رشتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی جمہوریت تنوع اور کثرت میں وحدت کے فلسفے پر قائم ہے۔ دونوں ملکوں کے علما اور مذہبی رہنماوں کے درمیان آج کے بین المذاہب مذاکرات دونوں کے رشتوں میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوں گے۔
مسٹرڈوبھال نےکہاکہ دونوں ملکوں میں ثقافتی ، مذہبی اور تاریخی لحاظ سے کافی یکسانیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا کے لوگ جب ہندوستان کی سیاحت پر آتے ہیں تو وہ یہاں کے مندروں، مسجدوں، گجرات ، بنگال اور کشمیر کی صوفی خانقاہوں کی زیارت کے ساتھ ساتھ خاص طور پر تاج محل کی دیدار کے لئے آگرہ کی سیاحت کرنے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہندستان کے لوگ جب انڈونیشیا کی سیاحت پرجاتے ہیں تو وہان موجود مندر اور تاریخی عمارتیں ان کے لئے کشش کا مرکز ہوتے ہیں۔
این ایس اے نے کہا کہ گزشتہ مارچ میں جکارتہ کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے انڈونیشیا کے اپنے ہم منصب کو ہندوستان آنے کے لئے مدعو کیا تھا۔ ان کے وفدمیں شامل علما اور دیگر مذہبی
رہنماوں کے ساتھ ہندوستانی علما اور مذہبی رہنما کے درمیان گفتگو دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں کافی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بدھ ازم، بریلوی ازم اور صوفی ازم کی مضبوط جڑیں ہیں ۔
مسٹر ڈوبھال نے مزید کہا کہ جمہوریت میں جہاں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے، وہیں نفرت انگیز بیانات اور تقریر کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں تنہا کئے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور سرحد پر سے دہشت گردی کے خاتمے اور منافرت کوختم کرنے کے لئے مسلم علمااور دیگر تمام مذاہب کے رہنما نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے لئے انہیں آگے آنا چاہئے۔
انڈونیشیا کے قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر محمد محفوظ ایم ڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف مذاہب، زبان، رنگ ونسل اور قبائل پر مشتمل آبادی ہونے کی وجہ سے ان کے ملک میں بھی کافی سماجی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انڈونیشیا کے عوام کے درمیان رواداری اور درگزرکا ماحول قائم کرکے ان چیلنجوں کا بخوبی مقابلہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی منافرت ختم کرکے قومی ہم آہنگی ، رواداری اور بھائی چارے قائم کرنے میں انڈونیشیا کے علما اور دیگر مذہبی علما کا نمایاں رول ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کووڈ19 کی آفت سے نپٹنے میں بھی ملک کے علما اور مذہبی رہنماوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔
مسٹر محفوظ نے کہاکہ انڈونیشیا پوری دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والاملک ہے جبکہ ہندوستان دوسری سب سے زیادہ مسلم آبادی والاملک ہے۔ ان دونوں ملکوں کے علمااور مذہبی رہنما امن ، خیرسگالی اور رواداری کے موضوع پر مذاکرت کرتے ہیں تو اس کا پوری دنیا میں اہم پیغام جائے گا۔ انڈونیشیائی وفد میں مسلم علما کے ساتھ ساتھ ہندو اور دیگر مذاہب کےرہنما شامل تھے۔
قبل ازیں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نےپروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلاملک کلچرل سینٹر مذہبی خیرسگالی ،قومی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا علمبردار رہا ہے اس نے اس کے لئے ہمیشہ نمایاں کام کیا ہے اسی مشن کے تحت آج وہ اس پروگرام کی میزبانی کر رہا ہے۔
اس پرگرام میں تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں سابق وزیرمملکت ایم۔ جے۔ اکبر، سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی، سابق لیفتیننٹ جنرل عطا حسین، ماہر قانون فیضان مصطفی، پروفیسر اخترالواسع، مولانا اصغر امام مہدی سلفی اہم شرکا میں شامل تھے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا5 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
