جموں و کشمیر
اسٹیٹ انوسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے 2 سال مکمل
سری نگر، ملی ٹنسی سے متعلق کیسوں کی تحقیقات کرنے کے لئے تشکیل دی گئی جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انوسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے وجود کے دو سال مکمل ہوگئے۔یہ ایجنسی یکم نومبر سال 2021 میں معرض وجود میں لائی گئی تھی۔
ایجنسی کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا: ‘ایس آئی اے خود کو ملک کے انسداد دہشت گردی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اتحادی اور اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے اور اس نے مختلف اہم مقدمات (سال 1990 میں میر واعظ مولوی فاروق قتل کیس) میں ہندوستان کی قومی تحقیقاتی ایجسنیوں جیسے این آئی اے، سی بی آئی اور ای ڈی وغیرہ کو کافی کامیاب مدد فراہم کی ہے جس سے تمام ایجنسیوں کی کاوشوں کو استحکام مل گیا’۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی اے نے ان دو برسوں کے دوران 45 کیس درج کئے اور جموں وکشمیر کے دوسرے پولیس اسٹیشنوں کے مزید 12 مقدمے ہاتھ میں لئے۔ان کا کہنا تھا: ‘ایجنسی سے اس دوران 31 کیس چارج کئے، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا اور 99 ملزموں کو گرفتار کیا’۔
بیان میں کہا گیا کہ ایس آئی اے نے ٹیرر فنڈنگ، نارکو ٹرریرزم ، اقلیتی فرقے کی ہلاکتوں وغیرہ جیسے مختلف النوع مقدموں کی کامیابی سے تحقیقات کی۔انہوں نے کہا: ‘ایس آئی اے نے سم کارڈز سے متعلق 9 مختلف معاملات کی تحقیقات میں اہم رول ادا کیا جن کا غیر قانونی کاموں کو جاری رکھنے کے لئے غلط استعمال ہو رہا تھا’۔
ایجنسی سے اپنے بیان میں کہا: ‘دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک اہم اور معاملے جس میں سابق وزیر بابو سنگھ ملوث تھے، میں 9 ملزموں کو گرفتار کیا گیا اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث ایک حوالا نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا جس میں جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ہمدرد دبئی سے کرپٹو ویلٹ کے ذریعے آپریٹ کر رہے تھے’۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسی نے ایک مجرمانہ سازش جس کو ایک کالعدم جنگجو تنظیم سے وابستہ ایک خاتون معاون رچ رہی تھی، کو بے نقاب کرکے ایک نارکو ٹیرر ماڈیول کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا: ‘تحقیقات سے کراس ایل او سی منشیات اور منشیات کی سمگلنگ کو بے نقاب کیا گیا جو ایک مربوط انداز میں مجرمانہ سازش کے تحت کام کر رہا تھا جس میں پاکستانی ایجنسیوں کی فعال مدد اور ملی بھگت تھی’۔
ایجنسی نے بیان میں کہا کہ ‘ماحولیاتی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدام کرکے ان دو برسوں کے دوران جموں وکشمیر میں 166 مقامات پر چھاپے مارے گئے’۔انہوں نے کہا:
‘ملک مخالف سرگرمیوں کے لئے استعمال کی جانی والی جائیدادوں کو قرق کرنے کے قانونی عمل کے بعد جماعت اسلامی جس کو ملک میں ایک غیر قانونی جماعت قرار دیا گیا ہے، کی 217 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 57 جائیدادوں کو یو اے پی اے کے دفعات کے تحت نوٹیفائی کیا گیا جس سے اس کالعدم تنظیم کی لاجسٹکس کو نمایاں کمزوری ہوئی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘دہشت گردی سے متعلق تحقیقات اور پراسیکیوشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے نیل کانٹھ گنجو کے قتل کے تین دہائیاں پرانے کیس کی تحقیقات کو فعال طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے’۔
بیان میں کہا گیا:’ایجنسی نے ایک انکوائری کے دوران ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا جو غیر قانونی منی لانڈرنگ اور غیر قانونی سرگرمیں میں اس کے استعمال میں ملوث تھا انکوائری کے نتیجے میں باقاعدہ طور پر فوجداری کا مقدمہ درج کیا گیا’۔
انہوں نے کہا: ‘تحقیقات کے دوران ایجنسی نے 85 کروڑ روپیوں سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کا پردہ فاش کیا اس کیس کی فعال تحقیقات جاری ہے اور ایس آئی اے اس میں ملوث تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے پر عزم ہے’۔
بیان میں کہا گیا: ‘ایجنسی نے پرانے ٹی اے ڈی اے اور پی او ٹی اے مقدمات سمیت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کے تمام مفرور افراد کا سراغ لگانے اور انہیں قانون کے تحت ٹرائل کے کئے عدالتوں میں پیش کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا، ٹی اے ڈی اے/ پی او ٹی اے کیسوں کے 734 مفرور افراد کی شناخت کی گئی جن میں سے 369 کی تصدیق ہوچکی ہے اور 82 کا گھر پر سراغ لگایا گیا ہے’۔
ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا: ‘بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے دہشت گردی کے ہائی پروفائل ہمدردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 7 پاسپورٹ معطل کئے گئے، 2 پاسپورٹ ضبط کئے گئے اور 17 لک آئوٹ سرکیولر جاری کئے گئے’۔
انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر میں پہلی بار پاکستانی دہشت گردوں کی لاشوں کی شناخت کے لئے انٹرپول کے ذریعے تین بلیک نوٹس جاری کئے گئے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایس آئی اے نے جموں وکشمیر کی ایک علاقائی سیاسی جماعت کے ایک سابق رکن اسمبلی کے ملوث ہونے کو قائم کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے جس نے حزب المجاہدین کے اس وقت کے ڈویژنل کمانڈر محمد امین بابا عرف عابد کی نقل و حمل میں ‘سہولیت’ فراہم کی تھی کشمیر سے واہگہ/ اتاری سرحد تک سابق ایم ایل سے کی سرکاری گاڑی، جعلی سفری و شناختی دستاویزاتکی بنیاد پر وہ جعلی شناخت پر پاکستان جانے کے قابل بن گیا’۔
ایس آئی اے نے اپنے بیان میں کہا: ‘تحقیقات اور پوچھ گچھ کے ذریعے ایجسنی نے پاکستان میں مقیم دہشت گرد ہینڈلرز کی طرف سے اختیار کئے گئے پیچیدہ طریقہ کار کو بے نقاب کیا جو کشمیر کے طلبا کو پاکستان میں قائم اداروں میں ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز کی سیٹوں کی فروخت سے مقامی طور پر دہشت گردی کے فنڈز حاصل کرنے کے لئے اپنا یا گیا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘گذشتہ دو برسوں کے دوران ایس آئی اے نہ صرف اپنے منڈیٹ کو پورا کیا ہے بلکہ اپنے قیام کے دو سالوں میں امیدوں سے بھی زیادہ کام کیا ہے جس سے خطے میں سکیورٹی کے منظر نامے پر اثر پڑا ہے’۔
بیان میں کہا گیا: ‘ایجنسی قوم کی امن و سلامتی کے تحفظ اور ملک بھر بالخصوص جموں و کشمیرمیں دہشت گردی کو صفر پر لانے کے اپنے اپنے مشن کے لئے پر عزم ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ایجنسی دہشت گردی سے متعلق تمام معاملات کی پیشہ ورانہ اور معیاری تحقیقات کو یقینی بنا کر دہشت گردوں کے بالائی زمین ورکروں کے صفایا کو یقینی بنا کر نئی بلندیوں کو حاصل کرے گی’۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
