فن و ادب
اشوک کمار فلم انڈسٹری کے پہلے اینٹی ہیرو تھے
( برسی: 10 دسمبر کے موقع پرخصوصی پیش کش )
ممبئی، بالی ووڈ اداکار اشوک کمار کی شبیہ اگرچہ ایک سدا بہار اداکار کی رہی ہے لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ فلم انڈسٹری کے پہلے ایسے اداکار رہے جنہوں نے اینٹی ہیرو کا کردار بھی ادا کیا تھا۔
گزشتہ صدی کے چالیس کی دہائی میں اداکاروں کی شبیہ روایتی اداکار کی ہوتی تھی جو رومانی اور صاف ستھری کردار کیا کرتے تھے۔ اشوک کمار فلم انڈسٹری کے پہلے ایسے اداکار رہے جنہوں نے اداکاروں کے روایتی ا سٹائل کو توڑتے ہوئے فلم قسمت میں اینٹی ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔
ہندی فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ کامیاب فلموں میں بامبے ٹاکیز کی سال 1943 میں فلم قسمت میں اشوک کمار نے اینٹی ہیرو کے کردار نبھایا تھا. اس فلم نے کلکتہ کے چترا تھیٹر سنیما ہال میں مسلسل 196 ہفتوں تک چلنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔
ہندی فلم انڈسٹری میں دادا مونی کے نام سے مشہور کمود کمار گنگولی عرف اشوک کمار کی پیدائش بہار کے بھاگلپور شہر میں 13 اکتوبر 1911 کو ایک درمیانے طبقے کے بنگالی خاندان میں ہوئے تھے۔ اشوک کمار نے اپنی ابتدائی تعلیم کھندوا شہر سے مکمل کی. اس کے بعد انہوں نے گریجویشن کی تعلیم الہ آباد یونیورسٹی سے مکمل کی جہاں ان کی دوستی ششادھر مکھرجی سے ہو گئی جو انہیں کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
اشوک کمار نے اپنی دوستی کو ایک نئے رشتے میں تبدیل کر دیا، ششادھار کی اپنی اکلوتی بہن سے شادی کی. سال 1934 میں نیو تھیٹر میں بطور لیباٹري اسسٹنٹ کام کر رہے اشوک کمار کو بامبے ٹاکیز میں کام کر رہے ان کے بہنوئی ششادھار مکھرجی نے اپنے پاس بلا لیا۔
سال 1936 میں بامبے ٹاکیز کی فلم ’’ جیون نیّا ‘‘کی تعمیر کے دوران فلم کے اہم اداکار بیمار پڑ گئے۔ اس بحران کی صورتحال میں بامبے ٹاكيز کے مالک همانشو رائے کی توجہ اشوك کمارپر گئی اور انہوں نے اشوک کمار سے فلم میں بطور اداکار کام کرنے کی گزارش کی۔ اس فلم کے ساتھ اشوک کمار نے ایک اداکار کے طور پر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔
سال 1939 میں آئی فلم كنگن ، بندھن ، اور جھولا میں اشوک کمار نے لیلی چٹنس کے ساتھ کام کیا. ان فلموں میں ان کی کارکردگی کو ناظرین نے بہت پسند کیا۔ ۔اس کے ساتھ ہی فلموں کی کامیابی کے بعد اشوک کمار بطور اداکار فلم انڈسٹری میں اپنی پہنچان بنانے میں لگ گئے۔
سال 1943 ہمانشو رائے کی موت کے بعد اشوک کمار بمبئی ٹاکیز کو چھوڑ فلمستان اسٹوڈيو چلے گئےسال۔ 1947 میں دیویکا رانی کے بمبئی ٹاکیز چھوڑ دینے کے بعد بطور پروڈکشن چیف بمبئی ٹاکیز کے بینر تلے انہوں نے مشعل اور مجبورجیسی کئی فلمیں بنائیں۔
پچاس کی دہائی میں بمبئی ٹاکیز سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی ہی پروڈکشن کمپنی شروع کی اس کے ساتھ هي انہوں نے جوپیٹر تھیٹر بھی خریدا۔ اشوک کمار پروڈکشن کے بینر تلے انہوں نے سب سے پہلے فلم ’سماج ‘ بنائی۔ لیکن یہ فلم باکس آفس پر بری طرح فلاپ رہی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بینر تلے فلم ’پرينیتا‘ بنائی۔ تقریبا تین سال بعد، فلم پروڈکشن کے شعبے میں نقصانات کی وجہ سے، انہوں نے اشوک کمار پروڈکشن کمپنی بند کردی ۔
سال 1953 میں آئی فلم پرینيتا کی تعمیر کے دوران فلم کے ڈائریکٹر بمل رائے کے ساتھ ان کی کہا سنی ہو گئی. اس کے بعد اشوک کمار نے بمل رائے کے ساتھ کام کرنا بند کر دیا. لیکن اداکارہ نوتن کے کہنے پر اشوک کمار نے ایک بار پھر بمل رائے کے ساتھ سال 1963 میں آئی فلم بندني میں کام کیا اور یہ فلم ہندی فلم تاریخ کی کلاسک فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
اداکاری میں ایک مسلسل ایک جیسے کردار سے بچنے اور خود کو کریکٹر اداکار کے طور میں بھی قسمت آزمانے کے لئے اشوک کمار نے اپنے آپ کو مختلف کرداروں میں پیش كيا اورسال 1958 میں آئی فلم چلتی کا نام گاڑی میں ان کی اداکاری کا نیا روپ ناظرین کو دیکھنے کو ملا۔ اس مزاحیہ فلم میں اشوک کمار کی کارکردگی بےمثال بن گئی۔
سال 1968 میں آئی فلم آشيروادمیں اپنی بے مثال اداکاری کے لیے وہ بہترین اداکار کے قومی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ اس فلم میں ان کا مشہور نغمہ ’’ ریل گاڑی ‘‘بچوں کے درمیان بہت مقبول ہوا۔
سال 1967 میں ریلز فلم ‘جیول تھیف’ میں ناظرین کو اشوک کمار کا ایک نیا چہرہ نظرآیا۔ اس فلم میں وہ اپنے فلمی کیریئر میں پہلے منفی کردار میں نظر آئے۔ اپنے اس رول کے ذریعہ وہ سامعین میں بہت مقبول ہوئے اور اس فلم کے ساتھ ساتھ اشوک کمار کے اس منفی رول کو بھی ناظرین نے پسند کیا۔
سال 1984 میں، دوردرشن کی تاریخ میں وہ ایک نیا سیریل لے کر آئے۔ ’ہم لوگ‘‘ اس سیریل سے وہ بے پناہ مشہور ہوئے۔ فلموں کے علاوہ اشوک کمار نے چھوٹے پر دہ پر بھی ناظرین کو بے حد محظوظ کیا۔ دوردرشن کے لئے ہی اشوک کمار نے بھیم بھوانی، بہادر شاہ ظفر اور اجالے کی اور جیسے سیریل میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
اشوک کمار کو ملے اعزازت کی بات کی جائے تو دو مرتبہ بہترین اداکار کے فلم فیئر کے ایوارڈ سے نوازے گئے ۔ سال 1988 میں ہندی سنیما کے سب سے بڑے ایوارڈ داداصاحب پھالکے سے نوازا گیا۔
تقریباً 6 دہائیوں پر مشتمل اپنے بے مثال فلمی کیرئر سے ناظرین کے دلوں پر حکومت کرنے والے اشوک کمار 10 دسمبر 2001 کو ہمیشہ کے لئے سب کو الوداع کہہ گئے۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
