ہندوستان
اقتصادی ترقی کے لیے ثقافتی ورثے کی مضبوطی ضروری : مودی
وارانسی، اقتصادی ترقی اور تنوع کے لیے ثقافتی ورثے کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان روایتی کاریگروں کی مدد اور مالا مال ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے آئندہ چند مہینوں میں پی ایم وشوکرما یوجنا شروع کرے گا۔
جی 20 ثقافتی وزراء کی میٹنگ سے ورچوئل طور پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ثقافت میں متحد ہونے کی فطری صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ہمیں متنوع پس منظر اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے بہت اہم ہے۔
وزیر اعظم نے وارانسی میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ جی 20 ثقافتی وزرا کی میٹنگ یہاں ہو رہی ہے کیونکہ یہ شہر ان کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ کاشی کو قدیم ترین زندہ شہروں میں سے ایک کے طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قریب ہی موجود سارناتھ شہر کا ذکر کیا جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا خطبہ دیا تھا۔ ’’کاشی کو علم، فرض اور سچائی کے خزانے کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ واقعی ہندوستان کا ثقافتی اور روحانی دارالحکومت ہے‘‘ وزیر اعظم نے تبصرہ کیا اور مہمانوں کو گنگا آرتی پروگرام کا مشاہدہ کرنے، سارناتھ کا دورہ کرنے اور کاشی کے پکوانوں کا ذائقہ چکھنے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا۔
اتحاد اور متنوع پس منظر اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے ثقافت کی موروثی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جی20 ثقافتی وزرا گروپ کا کام پوری انسانیت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ’’ہمیں ہندوستان میں اپنی ابدی اور متنوع ثقافت پر بہت فخر ہے۔ ہم اپنے غیر محسوس ثقافتی ورثے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں”، مسٹر مودی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے ورثے کے مقامات کو محفوظ رکھنے اور ان کو زندہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ انہوں نے ملکی سطح کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سطح پر ملک کے ثقافتی اثاثوں اور فنکاروں کی نقشہ سازی کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی ثقافت کو منانے کے لئے کئی مراکز کی تعمیر کا بھی ذکر کیا اور ملک کے مختلف حصوں میں واقع قبائلی عجائب گھروں کی مثال دی جو ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی متحرک ثقافت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نئی دہلی میں پرائم منسٹرز میوزیم کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کے جمہوری ورثے کو ظاہر کرنے کی ایک قسم کی کوشش ہے۔ انہوں نے ’یوگے یوگین بھارت‘ نیشنل میوزیم تیار کرنے کا بھی ذکر کیا، جس کی تکمیل کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا میوزیم بن جائے گا جو 5000 سال پر محیط ہندوستان کی تاریخ اور ثقافت کی نمائش کرے گا۔
ثقافتی املاک کی بحالی کے اہم مسئلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ورکنگ گروپ کی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کسی ملک کا ورثہ نہ صرف مادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے بلکہ یہ کسی قوم کی تاریخ اور شناخت بھی ہے۔ مسٹر مودی نے تبصرہ کیا ’’ہر کسی کو اپنے ثقافتی ورثے تک رسائی اور اس سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل ہے۔‘‘ 2014 سے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان اس طرح کے سینکڑوں نمونے واپس لایا ہے جو اس کی قدیم تہذیب کی شان کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے زندہ ورثے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ ساتھ ’کلچر فار لائف‘ میں تعاون کی بھی تعریف کی۔ آخر کار، وزیر اعظم نے کہا، ثقافتی ورثہ صرف وہی نہیں ہے جو پتھروں میں تراشا جاتا ہے، بلکہ یہ وہ روایات، رسوم اور تہوار بھی ہیں جو نسلوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ورکنگ گروپ کی کوششوں سے پائیدار طریقوں اور طرز زندگی کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ وراثت معاشی ترقی اور تنوع کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے اور یہ ہندوستان کے ’وکاس بھی وراثت بھی‘ کے منتر میں گونجتا ہے جس کا مطلب ترقی کے ساتھ ساتھ ورثہ بھی ہے۔ ”ہندوستان کو اپنے 2,000 سال پرانے دستکاری ورثے پر فخر ہے، جس میں تقریباً 3,000 منفرد فنون اور دستکاری ہیں“، وزیر اعظم نے ’ایک ضلع، ایک پروڈکٹ‘ اقدام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا جو خود میں انحصار کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستانی دستکاری کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے جی 20 ممالک کی کوششیں بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ جامع اقتصادی ترقی میں سہولت فراہم کریں گی اور تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کی حمایت کریں گی۔ آنے والے مہینے میں، وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان 1.8 بلین ڈالر کے ابتدائی اخراجات کے ساتھ پی ایم وشوکرما یوجنا شروع کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ روایتی کاریگروں کے لیے تعاون کا ایک ماحولیاتی نظام بنائے گا اور انہیں ان کے دستکاری کے فن کو فروغ دینے اور ہندوستان کے شاندار ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون کرنے کے قابل بنائے گا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ ٹیکنالوجی ثقافت کا جشن منانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، وزیر اعظم نے ہندوستان کے نیشنل ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ ریپوزٹری کا ذکر کیا جو جدوجہد آزادی کی کہانیوں کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے بہتر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جس سے ثقافتی اہمیت کے مقامات کو مزید سیاحوں کے لیے موافق بنایا جائے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جی20 ثقافتی وزرا کے ورکنگ گروپ نے ’’ثقافت سب کو متحد کرتی ہے‘‘ مہم کا آغاز کیا ہے جس میں واسودھایو کٹمبکم – ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل کے جذبے کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹھوس نتائج کے ساتھ جی20 ایکشن پلان کی تشکیل میں ان کے اہم کردار کی بھی تعریف کی۔ ’’آپ کا کام چار سی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے – ثقافت (کلچر)، تخلیقی صلاحیت (کریئیٹیویٹی)، تجارت (کامرس) اور تعاون (کولابریشن)۔ یہ ہمیں ایک ہمدرد، جامع اور پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے ثقافت کی طاقت کو بروئے کار لانے کے قابل بنائے گا۔‘‘
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
