ہندوستان
اقتصادی ترقی کے لیے ثقافتی ورثے کی مضبوطی ضروری : مودی
وارانسی، اقتصادی ترقی اور تنوع کے لیے ثقافتی ورثے کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان روایتی کاریگروں کی مدد اور مالا مال ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے آئندہ چند مہینوں میں پی ایم وشوکرما یوجنا شروع کرے گا۔
جی 20 ثقافتی وزراء کی میٹنگ سے ورچوئل طور پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ثقافت میں متحد ہونے کی فطری صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ ہمیں متنوع پس منظر اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے بہت اہم ہے۔
وزیر اعظم نے وارانسی میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ جی 20 ثقافتی وزرا کی میٹنگ یہاں ہو رہی ہے کیونکہ یہ شہر ان کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ کاشی کو قدیم ترین زندہ شہروں میں سے ایک کے طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قریب ہی موجود سارناتھ شہر کا ذکر کیا جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا خطبہ دیا تھا۔ ’’کاشی کو علم، فرض اور سچائی کے خزانے کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ واقعی ہندوستان کا ثقافتی اور روحانی دارالحکومت ہے‘‘ وزیر اعظم نے تبصرہ کیا اور مہمانوں کو گنگا آرتی پروگرام کا مشاہدہ کرنے، سارناتھ کا دورہ کرنے اور کاشی کے پکوانوں کا ذائقہ چکھنے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا۔
اتحاد اور متنوع پس منظر اور نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے ثقافت کی موروثی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ جی20 ثقافتی وزرا گروپ کا کام پوری انسانیت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ’’ہمیں ہندوستان میں اپنی ابدی اور متنوع ثقافت پر بہت فخر ہے۔ ہم اپنے غیر محسوس ثقافتی ورثے کو بھی بہت اہمیت دیتے ہیں”، مسٹر مودی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے ورثے کے مقامات کو محفوظ رکھنے اور ان کو زندہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ انہوں نے ملکی سطح کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سطح پر ملک کے ثقافتی اثاثوں اور فنکاروں کی نقشہ سازی کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی ثقافت کو منانے کے لئے کئی مراکز کی تعمیر کا بھی ذکر کیا اور ملک کے مختلف حصوں میں واقع قبائلی عجائب گھروں کی مثال دی جو ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی متحرک ثقافت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نئی دہلی میں پرائم منسٹرز میوزیم کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کے جمہوری ورثے کو ظاہر کرنے کی ایک قسم کی کوشش ہے۔ انہوں نے ’یوگے یوگین بھارت‘ نیشنل میوزیم تیار کرنے کا بھی ذکر کیا، جس کی تکمیل کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا میوزیم بن جائے گا جو 5000 سال پر محیط ہندوستان کی تاریخ اور ثقافت کی نمائش کرے گا۔
ثقافتی املاک کی بحالی کے اہم مسئلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ورکنگ گروپ کی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کسی ملک کا ورثہ نہ صرف مادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے بلکہ یہ کسی قوم کی تاریخ اور شناخت بھی ہے۔ مسٹر مودی نے تبصرہ کیا ’’ہر کسی کو اپنے ثقافتی ورثے تک رسائی اور اس سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل ہے۔‘‘ 2014 سے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان اس طرح کے سینکڑوں نمونے واپس لایا ہے جو اس کی قدیم تہذیب کی شان کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے زندہ ورثے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ ساتھ ’کلچر فار لائف‘ میں تعاون کی بھی تعریف کی۔ آخر کار، وزیر اعظم نے کہا، ثقافتی ورثہ صرف وہی نہیں ہے جو پتھروں میں تراشا جاتا ہے، بلکہ یہ وہ روایات، رسوم اور تہوار بھی ہیں جو نسلوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ورکنگ گروپ کی کوششوں سے پائیدار طریقوں اور طرز زندگی کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ وراثت معاشی ترقی اور تنوع کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے اور یہ ہندوستان کے ’وکاس بھی وراثت بھی‘ کے منتر میں گونجتا ہے جس کا مطلب ترقی کے ساتھ ساتھ ورثہ بھی ہے۔ ”ہندوستان کو اپنے 2,000 سال پرانے دستکاری ورثے پر فخر ہے، جس میں تقریباً 3,000 منفرد فنون اور دستکاری ہیں“، وزیر اعظم نے ’ایک ضلع، ایک پروڈکٹ‘ اقدام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا جو خود میں انحصار کو فروغ دیتے ہوئے ہندوستانی دستکاری کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے جی 20 ممالک کی کوششیں بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ جامع اقتصادی ترقی میں سہولت فراہم کریں گی اور تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کی حمایت کریں گی۔ آنے والے مہینے میں، وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان 1.8 بلین ڈالر کے ابتدائی اخراجات کے ساتھ پی ایم وشوکرما یوجنا شروع کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ روایتی کاریگروں کے لیے تعاون کا ایک ماحولیاتی نظام بنائے گا اور انہیں ان کے دستکاری کے فن کو فروغ دینے اور ہندوستان کے شاندار ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون کرنے کے قابل بنائے گا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ ٹیکنالوجی ثقافت کا جشن منانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، وزیر اعظم نے ہندوستان کے نیشنل ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ ریپوزٹری کا ذکر کیا جو جدوجہد آزادی کی کہانیوں کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے بہتر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جس سے ثقافتی اہمیت کے مقامات کو مزید سیاحوں کے لیے موافق بنایا جائے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جی20 ثقافتی وزرا کے ورکنگ گروپ نے ’’ثقافت سب کو متحد کرتی ہے‘‘ مہم کا آغاز کیا ہے جس میں واسودھایو کٹمبکم – ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل کے جذبے کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹھوس نتائج کے ساتھ جی20 ایکشن پلان کی تشکیل میں ان کے اہم کردار کی بھی تعریف کی۔ ’’آپ کا کام چار سی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے – ثقافت (کلچر)، تخلیقی صلاحیت (کریئیٹیویٹی)، تجارت (کامرس) اور تعاون (کولابریشن)۔ یہ ہمیں ایک ہمدرد، جامع اور پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے ثقافت کی طاقت کو بروئے کار لانے کے قابل بنائے گا۔‘‘
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بحرِ ہند میں سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والا ہندوستان پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بحرِ ہند کے خطے میں آفت یا بحران کے وقت سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والے نیز پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اسٹریٹجک صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے اور بحریہ کو سمندری شعبے میں بدلتے چیلنجوں کے پیشِ نظر نگرانی اور جوابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس کے دوسرے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین، بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں ہندوستانی جنگی جہازوں کی موجودگی ملک کی ‘سمندر’ میں بحری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ حکمتِ عملی کے اعتبار سے مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سمندری شعبے میں جہازوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ، دھوکہ دہی اور ‘گرے-زون’ سرگرمیوں نے صورتِ حال کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور بڑھتی ہوئی سمندری آمد و رفت کے تجزیے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ ‘وکست بھارت 2047’ کے تصور میں حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ بحریہ کا کردار صرف سمندری سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ معاشی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور طاقت کے مظاہرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ بحریہ کو حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سمندری طاقت کا مقصد صرف سمندر میں ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ جہاں بھی ترنگا نظر آئے وہاں سکیورٹی، بھروسے اور اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر سمندر محفوظ ہیں، تو ہندوستان محفوظ ہوگا اور اگر ہندوستان محفوظ ہے، تو وکست بھارت کا عزم مزید مضبوط ہوگا”۔
وزیرِ دفاع نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن اورجا سرکشا’ کے تحت آبنائے ہرمز سے ہندوسانی پرچم والے تجارتی جہازوں، خاص طور پر ایل پی جی ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 85 سے 90 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 50 فیصد سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے سمندری راستوں کی سکیورٹی ملک کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
بحریہ کومقامی بنانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان جنگی جہاز سازی کا نظام اب عالمی معیار کو پورا کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کیے گئے جنگی جہازوں میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کو جنگی جہازوں کی برآمد بھی کرنی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے موجودہ سال کو بحریہ کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 جنگی جہازوں کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے جو بحریہ کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے اسے ملک کے گھریلو بحری جہاز سازی کے نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا اشارہ بتایا۔
انہوں نے ‘آل رینکس، آل رولز’ کے تحت خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بحریہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فرنٹ لائن جنگی جہازوں اور طیاروں پر خواتین افسران کی تعیناتی اور ‘ناوِکا ساگر پریکرما’ میں ان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ دفاع نے مشترکہ بحری افواج کے تحت ‘کمبائنڈ ٹاسک فورس-154’ کی کمان سنبھالنے پر بحریہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کوچی میں ہندوستان کی کمان کے دوران ہوئے ‘آپریشن سدرن ریڈینس’ کا بھی ذکر کیا، جس میں 27 ممالک کے 276 اہلکاروں، 76 ماہرین اور چار بین الاقوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے ‘لوکاین-26’ کے لیے آئی این ایس سدرشنی کی تعیناتی کو بھی ہندوستان کی سمندری سفارت کاری اورہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ لگاؤ کے لحاظ سے اہم بتایا۔
بحریہ کے کمانڈروں کی تین روزہ کانفرنس یکم اکتوبر تک چلے گی۔ اس میں بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنل تیاریوں، سمندری سکیورٹی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی کا جائزہ لے رہی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
