دنیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور
واشنگٹن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔
عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں۔
یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھا۔
سلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا۔ اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔
فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔
صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور گوتریش نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں واشنگٹن کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے منگل کو ووٹنگ سے قبل کہا کہ ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ غزہ میں انسانی صورت حال سنگین ہے۔
انہوں نے لڑائی میں گذشتہ ماہ ہونے والی اب تک کے واحد توقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’یہ وہ سفارتکاری ہے جس میں امریکہ زمینی سطح پر مصروف ہے جس نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے انسانی تعطل کو ممکن بنایا ہے۔‘
تھامس گرین فیلڈ نے ممالک پر زور دیا کہ وہ منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد میں اس ترمیم کی حمایت کریں جس میں حماس کی مذمت کی جا سکتی تھی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ کے جنوب میں بڑے پیمانے پر شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور نہ کرے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’جائز فوجی مقاصد‘ہیں۔
اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ ’یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔‘
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔‘
سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
حماس کے سات اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ایک درجن سے زائد سفیروں کے رفح سرحدی مقام کے دورے کے فورا بعد عرب ممالک نے دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کا نیا خصوصی اجلاس طلب کیا تھا۔
منگل کو منظور ہونے والی قرارداد کے متن میں اکثر حصہ اسی قرارداد کا تھا جو جمعے کو سلامتی کونسل میں ویٹو کی گئی تھی۔
اس قرار داد میں ’غزہ پٹی میں تباہ کن انسانی صورت حال‘پر تشویش کا اظہار اور ’فوری طور پر انسانی بنیادوں پر فائر بندی کا مطالبہ‘ کیا گیا ہے اور شہریوں کے تحفظ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی اور تمام قیدیوں کی ’فوری اور غیر مشروط’ رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ووٹنگ سے قبل آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم جو اسرائیل اور امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں کہا،’ہم غزہ میں شہریوں کے لیے کم ہوتی محفوظ جگہ پر فکرمند ہیں۔ تمام فلسطینی شہریوں کے مسلسل مصائب حماس کو شکست دینے کی قیمت نہیں ہو سکتے۔‘
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
تہران، بتایا گیا ہے کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی وفد کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس وقت امریکہ میں موجود وزیر خارجہ عباس عراقچی باقاعدہ طے شدہ ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد منگل کو ایران واپس لوٹیں گے اور امریکہ کے ساتھ کسی نوعیت کا مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے ایران کی طرف سے امریکہ کو پہنچائے گئے شرائط کے بارے میں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز میں آمدورفت کے لیے پیش کردہ شرائط کو انہوں نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی توقع رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم ہوجائے گا، تاہم انہوں نے آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ٹرمپ نے اتوار کو پی جی اے ٹور پریزیڈنٹس کپ کے موقع پر ’فاکس نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ ہونے یہ والا ہے کہ ہم بہت جلد یہ جنگ جیت جائیں گے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ تنازع ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ مزید حملے کرسکتا ہے تو ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، ’’میرا مطلب ہے کہ یہ ممکن ہے، لیکن میں صرف اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ فوجی کارروائی اور اقتصادی پابندیوں، دونوں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ واشنگٹن پہلے ہی فوجی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کرچکا ہے اور ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی انتہائی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس کے لیے انہوں نے 318 فیصد تک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔ تاہم، یہ دعوے ٹرمپ نے خود پیش کیے اور ان کے بیان میں ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایک روز بعد سامنے آئے جب انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محاذ آرائی ختم کرنے سے متعلق ایران کی ایک تجویز مسترد کردی تھی۔ تاہم، اتوار کو ’ایکسیوس‘ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایرانی نمائندوں کے ساتھ مزید بات چیت کرسکتے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔
عراقچی نے کہا، ’’ہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران مزید امریکی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، خواہ امریکی انتخابات کا وقت کچھ بھی ہو۔
ساتھ ہی عراقچی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے اور واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مسلسل فوجی محاذ آرائی اور سفارت کاری میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز کو مسترد کیے جانے کی باضابطہ اطلاع سفارتی ذرائع سے ابھی تک تہران کو نہیں دی گئی ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کی رہائی اور اپنا تیل فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا کسی مذاکراتی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔
عراقچی نے کہا، ’’اگر آپ ہم سے پوچھیں تو سفارت کاری کی طرف واپس جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ امن کے مواقع کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
کیف، یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں روسی فوج کے ایک حملے میں کم از کم 22 افراد زخمی ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملہ ملک بھر میں روسی حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے ایک دن سے بھی کم وقت بعد ہوا۔
خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بتایا کہ پیر کی صبح روسی فوج کے ایک گائیڈڈ فضائی بم نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کثیر المنزلہ عمارت کی دو منزلیں تباہ ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔
اتوار کو بھی یوکرین بھر میں روسی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
یوکرین کے وزیر داخلہ ایوان ویہیوسکی نے بتایا کہ شمالی شہر سومی میں فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ایک مرکز کو نقصان پہنچا اور تین افراد، جن میں 16 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، ہلاک ہوگئے۔
ادھر اوڈیسا کے علاقے کے حکام نے بتایا کہ بحیرہ اسود کے جنوبی علاقے میں ایک ’’بڑے پیمانے کے حملے‘‘ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ حملے میں رہائشی عمارتوں، ایک دکان، ایک ہوٹل، ایک طبی عمارت اور اناج کے گودام کو نقصان پہنچا۔
دارالحکومت کیف میں میئر وٹالی کلِچکو نے بتایا کہ ایک خاتون اور دو 16 سالہ نوجوان زخمی ہوگئے، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
شہر کی انتظامیہ نے کہا، ’’دشمن حملہ آور ڈرونز کے ذریعے کیف کے علاقے پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔‘‘
انتظامیہ کے مطابق حملوں میں 16 مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں 12 مکانات، ایک گودام اور ایک پیداواری مرکز شامل ہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ جنوبی علاقے زاپوریژیا میں روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کیف میں روسی ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا۔
زیلنسکی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ روس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے خلاف 2,200 سے زیادہ حملہ آور ڈرون، 1,630 فضائی بم اور مختلف نوعیت کے 38 میزائل داغے۔
بعد میں اپنے ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا، ’’اگر روس واقعی کشیدگی میں کمی کی جانب کسی حقیقی قدم کی تیاری کر رہا ہوتا، جیسا کہ وہ امریکی مذاکرات کاروں سے دعویٰ کرتا ہے، تو شہید ڈرونز کے ذریعے دہشت کی یہ لہر جاری نہ ہوتی۔‘‘
انہوں نے ان ڈرونز کا حوالہ دیا جنہیں روس یوکرین کے خلاف استعمال کرتا ہے اور جو ایران میں تیار کیے گئے ہیں۔
ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے کیف میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’کیئف اسٹار‘ کے ایک ڈیٹا سینٹر اور ’اومیگا ٹیلی کام‘ کے ایک اور ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں یوکرینی فوج کو خدمات فراہم کر رہی تھیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ہفتے کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنی فوجی مہم ’’آخر تک‘‘ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ادھر مقامی اطلاعات کے مطابق پیر کو یوکرینی ڈرونز نے روس کے کراسنودار خطے میں ایک تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی ٹیلی گرام چینل ’ایگزیلینووا پلس‘ نے ایک بڑے پیمانے پر لگی آگ کی ویڈیو جاری کی اور اس مقام کی شناخت پاولوسکایا آئل ڈپو کے طور پر کی۔اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
یوکرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے ہیں۔ یہ جنگ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے جنگ کے نتیجے میں شہریوں پر پڑنے والے بڑھتے ہوئے اثرات اور جانی نقصان پر تشویش ظاہر کی ہے۔
دونوں فریق شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
