ہندوستان
الیکٹورل بانڈز: سپریم کورٹ نے پھر کہا، ایس بی آئی کو نیومیرک نمبروں سمیت تمام تفصیلات دینی ہوں گی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو عطیات میں شفافیت کی فریاد سے متعلق درخواستوں پر 15 فروری 2024 کے اپنے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو دوبارہ کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکٹورل بانڈز کو غیر آئینی قرار دینے کے ساتھ جاری کرنے والے بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا ( ایس بی آئی ) کو الفا نیومیرک نمبروں سمیت تمام تفصیلات ظاہر کرنے کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سنجیو کھنہ، بی آر گووئی، جے بی پاردی والا اور منوج مشرا کی بنچ نے ان تبصروں کے ساتھ ایس بی آئی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کو جمعرات تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی کہ انہوں نے الیکٹورل بانڈز سے متعلق سبھی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔
آئینی بنچ نے کہا کہ ایس بی آئی کو بانڈ کی خریداری اور رسیدوں کے سلسلے میں تمام تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے 12 اپریل 2019 کے عبوری حکم سے قبل الیکٹورل بانڈز کی تفصیلات کا انکشاف کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
ایس بی آئی کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے تمام تفصیلات دینے پر رضامندی ظاہر کی اور کہا ’’ہم ہر معلومات حاصل کریں گی۔ ایس بی آئی کسی بھی معلومات کو چھپا نہیں رہا ہے۔ ہم بانڈ نمبر دیں گے۔‘‘
تاہم، عدالت نے 12 اپریل 2019 کو اس کے عبوری حکم سے پہلے 2018 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے جاری کردہ تمام بانڈز کے انکشاف سے متعلق درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیا۔
بنچ نے کہا ’’ہمارے فیصلے میں، ہم نے شعوری فیصلہ لیا ہے کہ کٹ آف تاریخ عبوری حکم کی تاریخ ہونی چاہیے۔ ہم نے وہ تاریخ اس لیے لی کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ ایک بار عبوری حکم سنانے کے بعد، سبھی کو نوٹس دیا گیا تھا۔‘‘
سپریم کورٹ نے این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے وکیل پرشانت بھوشن کی اس درخواست پر بھی غور کرنے سے انکار کر دیا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے عبوری احکامات کے تحت الیکشن کمیشن کو اپنے بیانات میں چندہ دینے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے، حالانکہ کچھ چھوٹی پارٹیوں نے ایسا کیا تھا۔
اگرچہ بنچ نے کہا ’’اگر ہم پچھلی تاریخ پر واپس جائیں (2019 میں عبوری حکم سے پہلے) تو یہ فیصلے پر نظرثانی کے مترادف ہوگا۔‘‘
عدالت نے فکی اور ایسوچیم جیسے صنعتی اداروں کی طرف سے سینئر وکیل مکل روہتگی کی دلائل پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سیاسی پارٹیوں کی سازش اور سوشل میڈیا میں شروع کی گئی اطلاعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا اجاگر کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ عدالت سے پہلے بھی لوگ مبینہ طور پر عدالت کو شرمندہ کرنے کی لئے پریس انٹرویو دینے لگے ہیں۔
تاہم، بنچ نے کہا ’’ہم قانون کی حکمرانی کے تحت چلتے ہیں… ہمارا مقصد صرف انکشافات کرنا تھا۔‘‘
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بیلا کلسٹر کچی آبادیوں کے ووٹر لسٹ سے 729 میں سے 728 ووٹروں کا نام ہٹانا ووٹ چوری کا واضح ثبوت ہے، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستانی شہریت کے تمام دستاویزات اور ثبوت ہونے کے باوجود یہ لوگ دفاتر اور عہدیداروں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی شہری سے ووٹ کا حق صرف اس لیے چھین لیا جا سکتا ہے کہ وہ غریب یا بے گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک شخص، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ووٹ کو بھی حذف کرنا محض ایک فعل نہیں بلکہ ووٹ چوری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 728 ووٹوں کے حذف ہونے پر افسوس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ووٹ کو بھی حذف نہیں ہونے دیں گے” اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
نئی دہلی، گھریلو شیئر بازاروں میں بدھ کو مسلسل تیسرے دن گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً پورے دن سبز نشان میں رہنے کے بعد آخر میں 49 پوائنٹس نیچے بند ہوا سینسیکس 88 پوائنٹس گر کر 72,441.15 پوائنٹس پر کھلا، لیکن کچھ ہی دیر میں سبز نشان میں پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں ہوئی فروخت سے یہ 48.78 پوائنٹس (0.07 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 72,480.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی-50 انڈیکس میں سینسیکس کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ 95.75 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد نیچے 22,620.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ دونوں انڈیکس کا اس سال 30 مارچ کے بعد کی نچلی سطح ہے۔
وسیع تر بازار میں ملا جلا رخ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ-50 انڈیکس 0.01 فیصد پھسل گیا۔ اسمال کیپ-100 انڈیکس 0.27 فیصد کی برتری میں رہا۔ سیکٹر پر مبنی انڈیکسوں میں نفٹی ہیلتھ 2.57 فیصد، نفٹی فارما 1.84 فیصد اور نفٹی میٹل 1.50 فیصد ٹوٹ گیا۔ پائیدار صارف مصنوعات کے گروپ میں 1.35 فیصد اور ایف ایم سی جی میں 0.63 فیصد کی گراوٹ رہی۔
میڈیا گروپ کا انڈیکس 2.74 فیصد، ریئلٹی گروپ کا 1.62 فیصد اور کیمیکل گروپ کا 1.19 فیصد چڑھا۔ بینکنگ، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس گروپ بھی سبز نشان میں رہے۔
سینسیکس میں ایٹرنل کا شیئر سب سے زیادہ سوا دو فیصد ٹوٹا۔ سن فارما اور ٹائٹن میں دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنینس، انفوسس اور بھارتی ایئرٹیل کے شیئرز ایک سے دو فیصد تک پھسل گئے۔ ٹرینٹ، بجاج فن سروس، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی نقصان میں رہے۔
کوٹک مہندرا بینک کا شیئر پونے تین فیصد اوپر رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور انڈیگو میں بھی دو فیصد سے زیادہ کی تیزی رہی۔ ایکسس بینک اور الٹرا ٹیک سیمنٹ کے شیئرز ایک سے ڈیڑھ فیصد کی برتری میں رہے۔ ٹیک مہندرا، ہندوستان یونیلیور، بی ای ایل، ٹی سی ایس، ماروتی سوزوکی، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی سبز نشان میں رہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
