تازہ ترین
امریکا: یہود مخالف بیان پر مسلمان رکنِ کانگریس کی معذرت
خبراردو:
امریکی ایوانِ نمائندگان میں پہلی دو مسلمان خواتین میں سے ایک الہان عمر نے اپنے اس بیان پر غیر مشرو معافی مانگ لی جس میں انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا اسرائیل کے لیے امریکی اراکین کی حمایت کے پسِ پردہ وہ رقم ہے جو اسرائیل حمایتی لابی فراہم کرتی ہے۔
ریاست منیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ کو اسرائیل کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرنے پر ایک ہفتے سے تنقید کا سامنا تھا جو اس وقت تنازع کی صورت اختیار کرگیا جب انہوں نے ریپبلکن تنقید کا جواب دیا۔
خیال رہے کہ جب ایک ریپلکن شخص نے سوال اٹھایا کہ الہان عمر کو کیا لگتا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کو اسرائیل کی حمایت کے لیے کون پیسے دیتا ہے تو انہوں نے امریکی اسرائیل امورِ عامہ کمیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یک لفظی جواب دیا ’اے آئی پی اے سی‘۔
ان الفاظ پر ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوگیا جب ایوانِ زیریں کی اسپیکر نیسنی پلاسی نے ٹویٹ میں یہود مخالف الفاظ استعمال کرنے پر الہان عمر کی سرزنش کی اور فوری طور پر معافی مانگنے کا کہا، اس کے علاوہ کئی ریپبلکنز سمیت ڈیموکریٹس اراکین نے بھی ساتھی رکن کو ہدف بنالیا۔
جس کے بعد الہان عمر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہود مخالف جذبات ایک حقیقی چیز ہیں،اور ’یہود مخالف دردناک سچائیوں سے آگاہ کرنے پر اپنے ساتھیوں کو شکریہ ادا کیا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر وقت تنقید کا سامنا کرنے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ ہونا چاہیے بالکل اسی طرح جس طرح میں چاہتی ہوں کہ جب لوگ میری شناخت پر حملہ کرتے ہیں تو وہ پہلے میری بات سنیں۔
اس حوالے سے ہاؤس کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین اور ڈیموکریٹ رکنِ اسمبلی نے ردعمل دیتے ہوئے کہ کہ ’ایک رکنِ کانگریس کی طرف سے یہودی دولت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہود مخالف بیان سننا باعث حیرت ہے‘۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر چپ نہ رہے اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الہان عمر کو اپنے اوپر شرمندگی ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ انتہائی برا بیان تھا جس کے لیے ان کی معافی بھی کافی نہیں ہوگی۔
بہت سے اراکین کا کہنا تھا کہ الہان عمر اس بارے میں غلط تھیں کہ امریکی اراکین اسرائیل کی حمایت کیوں کرتے ہیں، بلکہ اسرائیل کی حمایت مشترکہ اقدار اسٹرٹیجک مفادات پر کی جاتی ہے، لیکن بہت سے اراکین نے الہان کو سراہا بھی تھا
معافی مانگنے کے بعد یہودی رکنِ پارلیمنٹ نے امریکی یہودیوں کا موقف سننے پر الہان عمر کا شکریہ ادا کیا۔
خیال رہے کہ وہ اس سے قبل بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اسرائیل پر تنقید کرتی رہی ہیں اور انہوں نے اسرائیل کے خلاف فلسطین کی بائیکاٹ تحریک اور ترک سرمایہ و پابندی (بی ڈی ایس) کی حمایت بھی کی تھی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
