اہم خبریں
امریکہ میں نوکریاں زیادہ اور امیدوار کم، وجہ کیا ہے؟
ویب ڈیسک —
کرونا وبا کی بندشوں کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی سے امریکہ میں روزگار کے مواقعوں کی بہتات ہے لیکن شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے روزگار افراد ملازمت کے حصول کے لیے پہلے جیسی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔
کئی ایسے افراد جو برسرِ روزگار نہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ تنخواہوں کے خواہش مند ہیں یا کرونا وبا سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی خدمات کی کمپنیوں میں کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
یہ دونوں رجحانات کس طرح ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں، آئندہ مہینوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں سے اس کی رفتار کا تعین ہوگا۔
رواں برس جون میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں کم ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ مئی میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فی صد تھی جب کہ جون میں یہ پانچ اعشاریہ سات فی صدر رہی۔
کام بہت اور لوگ نہیں
لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں امریکہ میں ملازمت کے لیے خالی آسامیوں کی تعداد 93 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ گزشتہ بیس برسوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ایمپلائمنٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کے اعلانات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
ملازمین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر ریستورانوں، سیاحتی اور تفریحی مقامات کے آجروں کے مابین مقابلہ بڑھتا جارہا ہے۔ آجر زائد اجرتوں اور بونس سمیت دیگر مراعات کے ساتھ اوقاتِ کار میں بھی سہولت کی پیش کش کر رہے ہیں۔
گزشتہ برس کے دوران بونس کے وعدوں کے ساتھ دی جانی والے ملازمتوں کے اشتہارات میں اضافہ ہوا ہے۔
عدم دلچسپی کیوں؟
ملازمتوں کے لیے امیدواروں کی عدم دلچسپی کے مختلف اسباب ہیں۔ کئی امریکیوں کو پرہجوم مقامات پر کام کرنے میں صحت سے متعلق تحفظات لاحق ہیں۔ تقریباً 15 لاکھ افراد جن میں خواتین کی اکثریت ہے، صرف اس لیے ملازمت نہیں کر رہے یا اس کی تلاش میں نہیں کہ انہیں گھر پر رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے کیوں کہ وبا کے باعث اسکول اور ڈے کیئر سینٹرز بند پڑے ہیں۔
دوسری جانب اندازاً 26 لاکھ زیادہ عمر کے ورکرز ہیں۔ جنھوں نے اسٹاک میں منافع اور گھروں کی بڑھتی قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔
مرکزی حکومت عارضی طور پر بے روزگاروں کو ہفتہ وار 300 ڈالر دے رہی ہے۔ ریاستوں کی جانب سے بے روزگاروں کی الگ سے مالی مدد کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ملازمت کا انتخاب کرتے ہوئے زیادہ چھان پھٹک کرنے لگے ہیں۔
امریکہ کی نصف سے زائد ریاستیں جولائی کے اختتام تک بے روزگاروں کو دی جانے والی مالی مدد کا سلسلہ ختم کررہی ہیں۔ اس اقدام کے حامی اسے بے روزگاروں کو تلاشِ روزگار پر آمادہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے ادارے ‘گولڈ مین ساکز’ کے اقتصادی ماہرین نے حساب لگایا گیا ہے کہ جو ریاستیں مرکزی حکومت کی جانب سے بے روزگاروں کو دی جانے والی ادائیگیوں کا سلسلہ جلدی روک رہی ہیں وہاں ریاستوں کی مالی مدد حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ اس تعداد میں کمی کی رفتار ان ریاستوں سے زیادہ ہے جہاں مرکزی حکومت کی جانب سے ہفتہ وار 300 ڈالر کی ادائیگی ستمبر تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ بے روزگاری کی صورت میں ملنے والے مالی فوائد میں کٹوتیوں سے آنے والے مہینوں میں آسامیوں پر بھرتی میں اضافہ ہوگا۔
اجرت بھی ایک وجہ
جمعرات کو حکومت کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے بے روزگاری کے لیے مالی مدد کے لیے رجوع کرنے والوں کی تعداد تین لاکھ 64 ہزار رہی جو وبا کے آغاز سے لے کر اب تک کی سب سے کم تعداد ہے۔
ایسے آثار بھی نمایاں ہیں کہ لوگ اپنے کام اور ذاتی زندگی کے بارے میں ازسرِ نو سوچ رہے ہیں اور اپنی پرانی ملازمتوں میں دلچسپی کھو چکے ہیں۔ ان میں روزگار کی تبدیلی پر بالخصوص ایسے افراد سوچ رہے ہیں جنھیں کم اجرت پر کام کرنا پڑتا تھا۔
اپریل میں امریکیوں کی ملازمت چھوڑنے کی شرح گزشتہ بیس برس میں سب سے زیاد رہی ہے۔
ریستوارنوں، ہوٹلوں، کیسینو اور امیوزمنٹ پارکس وغیرہ میں ملازمت کرنے والے چھ فی صد افراد نے اپریل میں نوکریوں کو خیرباد کہا۔ دیگر شعبوں کے مقابلے میں ملازمت چھوڑنے والوں کی یہ شرح دگنی ہے۔
زائد اجرت کے لیے ملازمت چھوڑنے والوں کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے آجروں کو بھی عملے کی تعداد مطلوبہ حد تک برقرار رکھنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔
طلب و رسد میں غیر معمولی فرق
جون میں پیداواری شعبے میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق فیکٹریوں میں مزدوروں کی قلت کی عام شکایت پائی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ ’اجرتی محرکات‘ کی وجہ سے انہیں ملازمت ترک کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سامنا ہے۔ بہت سی کمپنیوں نے اجرتوں میں اضافہ کر کے ملازمین کی تعداد کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
ملازمتوں پر بھرتیوں سے منسلک کمپنی ‘رینڈسٹیڈ نارتھ امریکہ’ کے چیف ایگزیکٹو کیرن فچوک کا کہنا ہے کہ رینڈسٹیڈ کے مونسٹر جاب بورڈ کے مطابق ملازمتوں کے لیے اشتہارات میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ اس کے برعکس ملازمتوں کی تلاش صرف چار فی صد بڑھی ہے۔
فچوک کے مطابق ‘ملازمتوں کی طلب و رسد میں غیر معمولی فرق ہے۔’
خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مشکلات اس وقت سامنے آرہی ہیں جب معیشت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ رواں برس کے ابتدائی تین ماہ میں حکومت نے معاشی نمو کے لیے چھ اعشاریہ چار فی صد سالانہ شرح کا اندازہ لگایا تھا۔ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شرح 10 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے جمعرات کو کانگریشنل بجٹ آفس کا یہ اندازہ سامنے آیا ہے کہ 2021 کے پورے سال ترقی کی شرح چھ اعشاریہ سات فی صد رہے گی۔ سن 1984 کے بعد سے یہ ایک سال کے دوران یہ تیز ترین ترقی ہوگی۔
دریں اثنا جون میں صارفین کا اعتماد بھی بڑھا ہے اور کانفرنس بورڈ کے مطابق یہ کم و بیش وبا سے قبل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ مکان، گاڑی یا گھریلو استعمال کی بڑی اشیا کی خریداری کی تیاری کرنے والے صارفین کی فی صد شرح سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے سے امریکی متاثر ہوتے نظر نہیں آتے۔ اپریل میں مکانات کی قیمتوں میں گزشتہ 15 برس کا سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
فیکٹریوں کی پیداوار کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے کیوں کہ کمپنیاں صنعتی مشینری، طیاروں اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ اس سرمایہ کاری سے ملازمین کی صلاحیتِ کار بہتر ہوگی اور طویل المیعاد معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
