پاکستان
امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ، معاشی ترقی یا کچھ اور؟
کراچی — پاکستانی کرنسی کی قدر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں 5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 26 اگست کو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت میں تاریخی گراوٹ ہوئی اور انٹربینک میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 168.30 روپے ہو گئی تھی، تاہم دو ماہ کے دوران اس کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے اور اب یہ شرح 160 روپے سے نیچے گر چکی ہے۔ جمعے کو رواں ہفتے کے اختتام پر انٹربینک میں امریکی ڈالر کی قیمت مزید 37 پیسے کی کمی کے بعد 159 روپے 9 پیسے ہو گئی ہے۔ جب کہ اوپن مارکیٹ میں یہ قیمت 40 پیسے کم ہوئی اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت 159 روپے 30 پیسے کا ہو چکا ہے۔ ایکسچینج ریٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد کا خیال ہے پاکستانی روپے کی قدر میں مزید بہتری کا امکان نمایاں ہے۔ فاریکس ایکسچینج ڈیلرز روپے کی قیمت میں بہتری کی وجہ مرکزی بینک کی کے اقدامات کو قرار دیتے ہیں۔ فاریکس ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے رہنما ظفر پراچہ کے مطابق رقوم کی منتقلی کے کئی غیر قانونی ذرائع بند کرنے سے ترسیلات زر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مرکزی بینک نے منی لانڈرنگ اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں جس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو 40 ارب ڈالرز تک پہنچا ہوا تھا، درآمدات میں کمی سے اب سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے جس سے روپے کی قدر پر مثبت اثرات پڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہماری برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا لیکن کووڈ 19 کی وباء کے باوجود بھی دیگر ممالک کی طرح اس میں نمایاں کمی بھی نہیں ہوئی ہے۔ ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرانے سے بھی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ایپلیکیشن سے پہلے 100 ملین روپے روزانہ کی ترسیلات ہوتی تھیں، مگر اب روزانہ کی اوسط 400 ملین سے بڑھ چکی ہے اور ابھی صرف 11 بینک ہی یہ سروس فراہم کر رہے ہیں جب کہ بیرون ملک کام کرنے والے تمام کارکن بھی اس سے مستفید نہیں ہوئے ہیں۔ ظفر پراچہ کے مطابق اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بینکنگ چینل سے پیسے بھیجنے میں کافی آسانی ہو گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اپنے ٹریژری بلز میں غیر ملکی کرنسی کی سرمایہ کاری پر دنیا میں سب سے زیادہ منافع دے رہا ہے جس کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ باہر سے یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

Pakistani pedestrians walk past the Pakistan Stock Exchange (PSE) in Karachi on January 11, 2016. The benchmark PSE-100 index was down 32354.43 in mid-day trade. AFP PHOTO / Rizwan TABASSUM / AFP PHOTO / RIZWAN TABASSUM
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت میں حالیہ اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کرونا وباء کی وجہ سے کئی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضوں کو ری شیڈول کر دیا ہے۔ جس سے یقینی طور پر پاکستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور ملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
“روپے کی قدر میں اضافہ ہماری کوششوں سے نہیں ہورہا”
ایک جانب جہاں بعض ماہرین حکومتی پالیسیوں کی تائید کرتے اور انہیں معیشت کے لیے سراہتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب کئی معاشی ماہرین اس خیال سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کے خیال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ بیرونی عوامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا وبا سے پیدا شدہ معاشی سست روی کی صورت حال میں خود امریکی ڈالر کی قیمت میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اب اس کے ساتھ امریکی انتخابی نتائج کی فضا بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں خود گراوٹ کا شکار ہے۔ اب چونکہ ہم اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے منسلک کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ جب ایک کرنسی نیچے جا رہی ہوتی ہے تو دوسری کرنسی کی قیمت میں خود بخود اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکی معشیت کو کافی دھچکا پہنچا ہے، جس میں مزید اضافہ امریکی انتخابات کے نتائج سے بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے-

ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں جن لوگوں نے پہلے سے امریکی ڈالر میں اپنی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ ڈالر کو مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں اور دیگر اثاثے خرید رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے پاکستانی روپے کی قدر میں کچھ بہتری دیکھنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل میں روپے کی قدر میں اضافے کا انحصار ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر سے ہے۔ جب تک ان میں بہتری نہ آئے تو کرنسی کی قیمت پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے زرعی اور معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ہو گا تاکہ برآمدات کو تیزی سے بڑھایا جائے جس سے پاکستانی روپے کی قیمت میں اصل استحکام آ سکے گا۔ واضح رہے کہ 2019 میں آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج ملنے کے بعد پاکستان نے فری فلوٹ ایکسچینج ریٹ کی پالیسی اپنائی جس کے تحت کئی دہائیوں کے بعد ملک کے مرکزی بینک کی جانب سے سختی کے ساتھ کنٹرول کیے جانے والے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی بنیاد پر لچکدار ایکسچینج ریٹ سے تبدیل کیا گیا۔ حکام کے مطابق موجودہ حکومت سے قبل ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر فکس رکھی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں ملک کو بعد میں بڑے پیمانے پر کرنسی کی قیمت میں کمی کے اثرات سے گزرنا پڑا جو معاشی سست روی کی ایک اور اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کرنسی کی قیمت گرنے سے درآمدت مہنگی ہو جاتی ہیں اور یہ اثر صارف تک جا پہنچتا ہے۔ جب کہ کرنسی کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
