دنیا
صدارتی انتخاب: بائیڈن کی برتری میں اضافہ، صدر ٹرمپ کے نتائج پر خدشات
امریکہ میں منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں باقی رہ جانے والی چھ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے چھ میں سے چار ریاستوں میں اپنے حریف ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اب تک 44 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کا اعلان ہو چکا ہے جس کے مطابق جو بائیڈن الیکٹورل کالج کے 253 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 214 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ چھ ریاستوں میں اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے جن میں سے نیواڈا اور ایریزونا میں جو بائیڈن کو پہلے ہی برتری حاصل تھی۔ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے مزید ووٹوں کی گنتی کے بعد جمعے کی صبح جو بائیڈن پینسلوینیا اور جارجیا میں بھی اپنے حریف پر سبقت لے گئے ہیں۔ پینسلوینیا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 20 ہے اور اگر جو بائیڈن صرف اسی ریاست میں کامیاب ہو گئے تو وہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔ امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو الیکٹورل کالج کے 538 میں سے کم از کم 270 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اور بائیڈن اس ہدف سے صرف 17 ووٹ دور ہیں۔ جن دیگر دو ریاستوں نارتھ کیرولائنا اور الاسکا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے وہاں صدر ٹرمپ کو بدستور برتری حاصل ہے۔ لیکن دوسری بار صدر منتخب ہونے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو اب بھی الیکٹورل کالج کے کم از کم 56 ووٹ درکار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کو الاسکا اور نارتھ کیرولائنا کے علاوہ پینسلوینیا اور جارجیا بھی جیتنا ہوں گی اور ساتھ ہی نیواڈا یا ایریزونا میں سے کسی ایک ریاست میں بھی کامیابی حاصل کرنی ہو گی جو اب بظاہر مشکل نظر آ رہا ہے۔
ٹوئٹر آؤٹ آف کنٹرول ہو گیا: ٹرمپ کا شکوہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں کامیابی کے دعوؤں یا دھاندلی پر مبنی ٹوئٹس پر خصوصی لیبل لگا رہا ہے یا اُنہیں ہائیڈ کر رہا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر سے شکوہ بھی کیا ہے۔امریکہ میں منگل کو صدارتی انتخابات کے دن سے اب تک ٹوئٹر ری پبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ٹوئٹس پر لیبل لگا چکا ہے کہ اس ٹوئٹ میں موجود معلومات گمراہ کن یا حقائق کے خلاف ہیں۔ البتہ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی ایسی کوئی بھی ٹوئٹ نہیں جس پر ٹوئٹر نے کسی قسم کا لیبل لگایا ہو۔ الیکشن کے دن سے لے کر اب تک صدر ٹرمپ کی کم از کم 10 ٹوئٹس ایسی ہیں جن پر ٹوئٹر نے اپنی پالیسی کے مطابق لیبل لگایا ہے۔

ٹوئٹر نے امریکی انتخابات سے قبل ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ الیکشن سے متعلق گمراہ کن معلومات کو اپنے پلیٹ فارم سے روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔ تین نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے اگلے روز ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ لیبل لگا دیا تھا جس میں انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ اور دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔’ووٹ کو عزت دو’: امریکی انتخابات پر پاکستانیوں کے دلچسپ تبصرے امریکہ کا 46 واں صدر کون ہوگا؟ اس سوال کے جواب کا انتظار صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف لوگ بے تابی سے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ ساتھ دلچسپ چٹکلوں اور میمز کا بازار بھی گرم ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر سے متعلق ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دلچسپ میمز گردش کر رہی ہیں۔ کوئی نتائج میں تاخیر پر اپنا حال میمز کے ذریعے بیان کر رہا ہے تو کوئی بازی جو بائیڈن کے حق میں دیکھ کر صدر ٹرمپ پر میمز بنا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ بھی ان ہی میمرز بھی شامل ہو گئی ہیں۔
Tonight at The White House… pic.twitter.com/IN1P2HQv5B
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) November 5, 2020
انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صدر ٹرمپ سے متعلق ایک مزاحیہ میم شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی رات وائٹ ہاؤس میں کچھ ایسا ماحول ہے۔ ایک اور صارف نے امریکی الیکشن کے نتائج میں پیدا ہونے والی سنسنی کو مشہور ویب سیریز ‘مرزا پور’ سے ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات کی جو صورتِ حال چل رہی ہے وہ ‘مرزاپور ٹو’ سے زیادہ دلچسپ اور ڈرامائی ہے۔
The stuff going on currently i.e. #USAelection2020 is way more dramatic and fun to watch compared to Mirzapur 2. The way #BidenHarris2020 and #Trump2020 is going on is quite amazing.
Clearly, Mirzapur 2 failed our expectations. pic.twitter.com/mjjR7QUfFB— Het Daftary (@DaftaryHet) November 4, 2020
ووٹوں کی گنتی کرنے والے عملے کی سیکیورٹی مزید سخت

امریکہ میں صدارتی انتخابات کا نتیجہ اب تک واضح نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں فریقین کے حامیوں کے درمیان تناؤ کے بڑھنے سے کچھ ریاستوں کے حکام نے ووٹوں کی گنتی کرنے والے عملے کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے حامیوں کی زیادہ تر توجہ ریاست پنسلوینیا، نیواڈا اور ایریزونا پر مرکوز ہے جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ یہ ریاستی کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ووٹنگ کے عمل اور گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی وجہ سے گنتی کرنے کی جگہوں کے باہر کشیدگی کی فضا ہے۔ نیواڈا کی کلارک کاؤنٹی کی رجسٹرار جو گلوریا نے کہا کہ ’’مجھے اپنے اسٹاف کی حفاظت کی فکر ہے۔‘‘
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز کرنے پر ٹرمپ نے پوتن سے ڈیزل معاہدہ کیا: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک امریکی عہدیدار نے ‘ایکسیوس’ کو یہ اطلاع دی۔
اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا، ”زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اعلان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے ”غیر منصفانہ اور غیر دیانت دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ ان حملوں سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے مساوی نہیں سمجھتے تھے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
امریکی وفد کے مطابق، یہ فیصلہ کیف کی جانب سے حملے روکنے سے بار بار انکار کے بعد کیا گیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستوں کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کر دے گا۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچیوں نے اس کے بجائے اس بات پر زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
