تازہ ترین
انٹر نیٹ:2۔جی رفتار،مشروط بحالی،محدود رسائی ’درد ِسر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں‘
فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کر نے کا اقدام،عوام اورعدالت ِعظمیٰ کو مطمئن کرنے کی کوشش:صارفین
شوکت ساحل
سرینگر:جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات کی 2۔جی رفتار کیساتھ مشروط بحالی اور محدود رسائی کے حکومتی فیصلے پرصارفین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اِس اقدام کو درد سر اور مذاق سے تعبیر کیا۔
طلبہ،تاجروں اور صحافیوں نے حکومتی فیصلے اور حکمنانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام اور عوام وسپریم کورٹ آف انڈیا کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سنیچر کی سہ پہر سے جموں وکشمیر کے سبھی22اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات 2۔جی رفتار اور مشروط بنیادوں پر بحال کی گئی،تاہم صارفین محدود طور ہی انٹر نیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سفید فہرست میں شامل کی گئیں 301ویب سائٹس تک صارفین کی رسائی ہوگی۔اس حوالے سے جموں وکشمیر کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کی شب 10صفحات پر مشتمل ایک حکمنامہ بھی جاری کیا۔یہ فیصلہ قریب قریب چھ ماہ تک جاری رہنے والے’انٹر نیٹ کرفیو‘ کے بعدلیا گیا۔
اتوار کو 26جنوری کے پیش نظر سہ پہر تک پوری وادی میں دوبارہ مکمل طور پر مواصلاتی بریک ڈاؤن کیا گیا۔حکومتی فیصلے پر عوامی ردِ عمل:
حکومتی فیصلے،دعوے اور حکمنامے پر سماج کے مختلف طبقہ ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں کشمیر، حکومتی اقدام کی وجہ سے پتھر کے زمانے میں واپس لوٹ چکا ہے۔ایک نجی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر محبوب جیلانی کہتے ہیں:’مجھے حکومتی فیصلے پر حیرانی ہے،حکومت ہند ڈیجٹل انڈیا کے منصوبہ کو عملانے کا بڑا دعویٰ کررہی ہے،لیکن دوسری طرف کشمیر گذشتہ چھ ماہ سے انٹر نیٹ کی سہولیت سے محروم ہے‘۔
بی ایس سی سیکنڈ ائر کی طالبہ،رابعیہ نور کہتی ہیں:’2۔جی رفتار کیساتھ آپ ای۔میل بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں،مطالعہ کر نا دور کی بات ہے،اُس پر ستم ظریفی یہ کہ وائٹ لسٹ ویب سائٹس تک ہی رسائی ہے،یہ اقدام درد سر اور مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔
ایک راہ گیر نور محمد کہتے ہیں:’انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی کا فیصلہ اقوام عالم کو گمراہ کرنے کا اقدام ہے‘۔
ای۔کامرس اور آئی ٹی سیکٹر:ایک نوجوان انٹر پرینور نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’میں نے سال2018میں اپنا اسٹارٹپ،ای ڈی آئی کی وساطت سے شروع کیا،لیکن میرے خواب چکنا چور ہوئے،میں جموں وکشمیر سے باہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 65ہزار ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتا تھا،لیکن سوچا تھا کشمیر واپس آکر خود روزگار منصو بے کے تحت اپنے لئے اور دوسروں کیلئے روزگار کے وسائل پیدا کروں گا،اب افسوس ہی ہورہا ہے،میں لوٹ کر کیوں واپس آیا،سب کچھ تباہ ہوگیا‘۔ایک محتاط اندازے کے مطابق کشمیر میں ای۔ کامرس اور آئی ٹی سیکٹر سے 50سے زیادہ افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہیں،سب بے روزگار ہوگئے ہیں،کیونکہ یہ دونوں سیکٹر زمین بوس ہوگئے جبکہ کئی افراد نے ذریعہ آمدنی کیلئے متبادل ڈھونڈ نے کی تلاش بھی شروع کردی۔
سمارٹ فون تجارت بھی متاثر:برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تقریباً 6 مہینے سے انٹرنیٹ پر پابندی نے تقریباً 500 کروڑ روپے کی سمارٹ فون کی تجارتی صنعت کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایسا سمجھیں کہ جیسے کشمیر میں مہنگے سمارٹ فونز اب سمارٹ نہیں رہے۔رپورٹ میں سرینگر کے لال چوک میں سمارٹ فون سٹور کے مالک مْنیر احمد قریشی حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ’کشمیر میں ہر ماہ 40ہزار فونز فروخت ہوتے تھے، لیکن اب مشکل سے 2ہزار فون بکتے ہیں، اس تجارت سے جْڑے لوگوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔‘موبائل سٹور میں کام کرنے والے وسیم احمد کہتے ہیں ’میرے کئی ساتھیوں کو نوکری سے نکالا گیا، اور جس ڈسٹری بیوٹر کے پاس میں ہوں وہاں بھی ہماری نوکری ختم کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کئی سال سے میں یہ کام کررہا تھا، اب سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔‘
تجارت پر منفی اثرات:انٹرنیٹ پر تاریخ کی طویل ترین پابندی کے اثرات کا یہ محض ایک پہلو ہے، چھ مہینے سے جاری غیر یقینی کی صورتحال کے باعث کشمیر کی مجموعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس کے ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی زرعی اور غیرزرعی تجارت کو کل ملاکر 18ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔
میڈیا سہولیاتی مرکز کا وجود برقرار:گذشتہ چھ ماہ سے وادی کشمیر میں صحافت محکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ عامہ کی سرکاری عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود ہے۔
کشمیر میں میڈیا ادارے بھی انٹر نیٹ سروس سے مسلسل محروم ہیں۔ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ کی بحالی کو’حلف نامہ‘سے مشروط کردیا گیا ہے۔ نوجوان صحافی الطاف وانی کہتے ہیں:’حکومتی فیصلہ زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،چھ ماہ کے بعد انٹر نیٹ کی مشروط اور محدود بحالی تذلیل ہے،5۔جی اور ڈیجٹل ایج میں 2۔جی کی رفتار بے معنیٰ ہے،اس فیصلے کا سپریم کورٹ آف انڈیا کو نوٹس لینا چاہئے، کیوں کہ اقدام سپریم کوٹ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ صحافی پرندے کی مانند ہوتا ہے،لیکن انٹر نیٹ سے محروم کرکے ہمارے’پَر‘ ہی کاٹ دیئے گئے‘۔
روزنامہ ایشین میل کے مدیر اور سینئر صحافی رشید راہل کہتے ہیں ’سرکار کا یہ فیصلہ بہت ہی غلط ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں کے میڈیاادارے تحریر طور ضمانت دیں کہ کوئی اُنکے انٹر نیٹ کنیکشن کو ہیک نہیں کرسکتا ہے،انٹر نیٹ کی مشروط بحالی نہیں ہونی چاہئے بلکہ میڈیا اداروں میں انٹر نیٹ خدمات بحال ہونے چاہئے،چھ ماہ ہو رہے ہیں،صحافی مشکلات اور مسائل سے دوچار ہیں،2۔جی رفتار کا آج کے دور میں کوئی خریدار ہی نہیں ہے‘۔
محکمہ داخلہ کا حکمنامہ:موبائیل انٹر نیٹ کی رفتار2۔جی تک محدود کردی گئی،سوشل میڈیا تک کوئی رسائی نہیں ہوگی،صرف سفید فہرست والی 301ویب سائٹس کا ہی صارفین استعمال کر سکتے ہیں۔
سکیورٹی ایجنسیوں کوخدشہ:سیکیورٹی ایجنسیوں نے انٹر نیٹ کی بحالی پر خد شات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مخالف عناصر وادی میں انٹر نیٹ کا استعمال غلط کاموں خاص طور ملی۔ٹینسی سے متعلق پروگنڈا مواد کو پھیلانے کیلئے کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ:۔ حالیہ سماعت کے دوران جسٹس این وی رامانا، آر سبھاش ریڈی اور بی آر گوائی پر مشتمل عدالتی بینچ نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو خطے میں انٹرنیٹ سروس پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کا حکم دیاتھا۔جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں 3ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی عارضی معطلی اور شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو کم کرنا صوابدیدی نہیں ہونا چاہیے اور یہ معاملہ عدالتی جائزے کے لیے کھلا ہے۔‘
عدالت نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ کی بندش کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی آرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت آزادانہ تقریر کا ایک بنیادی حق ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو آرٹیکل 19 (1) (جی) کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’کسی خاص مدت کے بغیر اور غیر معینہ مدت‘ تک انٹرنیٹ کی معطلی ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی بینچ نے ریمارکس دیے کہ ’ہماری محدود تشویش لوگوں کی آزادی اور سیکیورٹی سے متعلق توازن تلاش کرنا ہے، ہم شہریوں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے یہاں موجود ہیں، ہم ان احکامات کے پیچھے موجود سیاسی خواہشات تلاش نہیں کریں گے‘۔
مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کشمیر کی محدودخصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب خطے میں سخت کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات کو بند کردیا گیا تھا۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
