ہندوستان
انٹیلیجنس وارننگز کے بعد ہندوستان نے بنگلہ دیش سے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا
نئی دہلی، باوثوق ذرائع کے مطابق، ہندوستان کو ایسی معتبر انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بنگلہ دیش میں ہندوستان کی سفارتی موجودگی، بشمول مشنز، سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
ان اطلاعات کے نتیجے میں ہندوستان نے بنگلہ دیش سے اپنے سفارت کاروں کے خاندانوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ محمد یونس کی قیادت میں قائم حکومت کے دور میں تعلقات کو خراب ہونے دیا گیا ہے۔‘‘
انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بدامنی کے بعد بڑی تعداد میں رہا ہونے والے عسکریت پسندوں نے بنگلہ دیش کے اندر دوبارہ منظم ہونا شروع کر دیا ہے۔ انٹیلیجنس جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عناصرہندوستانی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
خطرے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ ہند نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش میں تعینات ہندوستانی سفارت کاروں کے اہل خانہ کو احتیاطی طور پرہندوستان واپس آنے کی ہدایت دی۔
ہندوستان کا اسٹریٹجک اسٹیبلشمنٹ بنگلہ دیش میں انتہا پسند قوتوں کے دوبارہ سر اٹھانے اور اسلام پسند عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے ہندوستان کے خلاف سخت بیان بازی اورمعاندانہ رویے سے تیزی سے تشویش میں مبتلا ہو رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کچھ حدتک قائم استحکام کے خاتمے کی علامت ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مسلسل تعاون کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں ‘یو این آئی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حکومتِ ماریشس کے سابق قومی سلامتی مشیر اورانڈین پولیس سروس کے ریٹائرڈ سینئر افسر شانتنو مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان کی مشرقی سرحد کے پار حالیہ پیش رفت عسکریت پسندی کے خلاف حاصل کی گئی سخت محنت کی کامیابیوں کے الٹ جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بنیاد پرست انتہا پسند قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر بین الاقوامی ’’جہادی‘‘ نیٹ ورکس کا مرکز بن جائے، جیسا کہ 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہوا تھا۔
مکھرجی نے خبردار کیا کہ ’’جس طرح گزشتہ سال رہا ہونے کے بعد ان گروہوں نے دوبارہ صف بندی کی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اس سے نہ صرف بنگلہ دیش کے اندر تشدد کا خطرہ بڑھ گیا ہے بلکہ ہندوستان کے لیے سرحد پار سے نئے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘
ہندوستانی حکام خاص طور پر اس امکان پر فکر مند ہیں کہ بنگلہ دیشی عسکریت پسند گروہ پاکستان اور مغربی ایشیا کی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ دوبارہ رابطے استوار کر رہے ہیں، جس سے پرانے علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس کے بحال ہونے کا خدشہ ہے جو حالیہ برسوں میں بڑی حد تک ختم کر دیے گئے تھے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
