تازہ ترین
انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت پلوامہ جیسی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہا ہے: شاہ محمود قریشی
خبراردو:
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق بھارت اپریل ہی کے مہینے میں پلوامہ جیسے ایک نئے واقعے کی منصوبہ بندی کررہا ہے ، ممکنہ ہدف مقبوضہ کشمیر ہوسکتا ہے، اس حوالے سے پاکستان پی فائیو ممالک کے سفیروں کو بحیثیت مبصر صورتحال کا جائزہ لینے کی دعوت دے رہا ہے۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اپنے آبائی علاقے ملتان میں اتوار کے روز نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ بھارت 16 سے 20 اپریل کے دوران پلوامہ کی طرز پر کوئی کارروائی کرکے پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کے آغاز پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سےمتعلق موضوع پربات کرناچاہتاہوں،قومی سلامتی کامعاملہ بہت سنجیدہ ہے۔14فروری کوپلواماکاواقعہ رونماہوا،پلواماواقعےکےبعدبھارت کارویہ سب نےدیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نےپاکستان کوموردالزام ٹھہرانےکی کوشش کی،بھارت نےپاکستان پرانگلیاں اٹھائیں، الزامات کی بوچھاڑکی۔ اس کے برعکس پاکستان کارویہ سب کے سامنے ہے،بھارت کشیدگی بڑھاتارہااورپاکستان کم کرنےکےاقدامات کرتارہا۔ بھارت کی جانب سے جنگی کیفیت کو ہوا دی گئی اور پورےخطےکےامن واستحکام کومتاثر کیاگیا۔ پاکستان کو اس معاملےپرکل بھی تشویش تھی اور آج بھی ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پی 5ملکوں کےسفیروں کواسلام آبادطلب کرنےکافیصلہ کیا ہے ،پانچوں سفیروں کودعوت دی،اپنی تشویش سےآگاہ کیا ہے ۔ ہم چاہتےہیں کہ عالمی برادری بھارت کےغیرذمہ دار رویےکانوٹس لے، اور بھارت کو تنبیہ کرےکہ وہ اس راستےپرنہ چلے۔
ان کا کہنا تھا کہ 26فروری کوبھارت نےپاکستان کے خلاف جارحیت کرتے ہوئے 1971کےبعد پہلی بارایل اوسی کوعبور کیا۔ بھارت کی اس کارروائی پرذمےدارممالک یہ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے کہ بھارت کی یہ حرکت یو این چارٹرڈ کی خلاف ورزی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مستند انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت ایک نیا منصوبہ تیارکررہاہے،بھارت کی جانب سےپلاننگ کی جارہی ہے،اطلاع کےمطابق16سے20اپریل تک بھارت کارروائی کرسکتاہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوانکشاف کرنےجارہاہوں اس کوماضی سےجوڑیں تواحساس ہوگاکہ مودی سرکارنےسیاسی مقاصد کیلئےالیکشن میں خطےکےامن کوداؤپرلگایا ہے اور بھارتی میڈیا نے بھی اس چیز کو رپورٹ کیا۔حال ہی میں بھارتی کابینہ کمیٹی سیکیورٹی کااجلاس ہوا جس کی صدارت بھارتی وزیراعظم نےکی تھی۔اس اجلاس میں تینوں مسلح افواج کےافسران شریک ہوئے۔ ان افسران کا کہنا تھاکہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے تیارہیں،ان کےافسران کہتےہیں کہ ہمیں سیاسی اجازت چاہیے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے بادل ابھی بھی پوری طرح چھٹےنہیں،مودی کہتےہیں میں نےتوفوج کو فری ہینڈدےرکھاہے۔ نریندر مودی کی یہ قابل تشویش اورقابل غوربات ہے،ایسی باتیں جنگ کی جانب دھکیلنےکےمترادف ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
