تازہ ترین
شاہراہ بند کا پہلا دن، این سی ، پی ڈی پی، پی سی کا احتجاج: مکمل رپورٹ
خبراردو:
حکومت کی طرف سے سرینگر جموں شاہراہ پر فورسز کانوائے کو جنگجوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھنے اور فورسز اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر لیے گئے تازہ فیصلے جس میں شاہراہ کو ہفتے میں 2روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل پرقدغن عائد کرنا شامل ہیں، کے پہلے روز بارہمولہ سے اُدھم پور تک 300کلومیٹر لمبی شاہراہ پر اتوار کو مکمل ہوکا عالم چھایا رہا جس دوران یہاں کسی بھی عام شہری کو فورسز اہلکاروں نے پر مارنے کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا کہ بارہمولہ، پٹن، لاوے پورہ، ایچ ایم ٹی، پانتھ چوک، پانپور، لیت پورہ، بارسو، اونتی پورہ، چرسو، سنگم، بجبہارہ، اننت ناگ، قاضی گنڈ ، بانہال، رام بن پتنی ٹاپ، اُدھم پور وغیرہ شامل ہیں میں انتظامیہ نے فورسز کی اضافی اور خصوصی دستوں کو تعینات کیا تھا جنہوں نے دوران شب ہی شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر خار دار تاریں نصب کرنے کیساتھ ساتھ یہاں فورسز کے خصوصی دستوں کو الرٹ رکھا تھا۔بارہمولہ سے قاضی گنڈ تک بالخصوص شاہراہ سے لگنے والے علاقوں کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر فورسز نے سخت بندشیں عائد کررکھی تھیں جس کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں سے کسی بھی شخص کو شاہراہ کی جانب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عینی شاہدین نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ اتوار کی صبح جونہی لوگ اپنی اپنی بستیوں سے معمول کے مطابق اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکلے تو وہ اُس وقت حیران ہوئے جب یہاں سرینگر جموں شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر فورسز نے خار دار تاروں کیساتھ ساتھ ٹین کی چادریں نصب کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے اگر چہ صبح سویرے دودھ اور روٹی کی خریداری کے لیے یہاں موجود فورسز اہلکاروں سے منت سماجت کی تاہم اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ بعض مقامات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے لوگوں کی نقل و حمل کو شاہراہ سے دور رکھنے کے لیے ڈھنڈوں اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں اننت ناگ، پلوامہ اور بارہمولہ کے کئی علاقوں میں دن بھر افرا تفری کا ماحول گرم رہا۔ موصولہ اطلاعات کے شاہراہ پر سیولین ٹریفک کی نقل وحرکت پر پابندی کے پہلے روز شمال و جنوب میں بیماروں، مریضوں اور تیمارداروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شمالی کشمیر کے کنسپورہ، پٹن اور چھور نامی علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضرورت مند افراد بالخصوص بیماروں اور تیمار داروں کو سرینگر کی جانب پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں کئی بیماروں کو سرراہ درد سے کراہتے ہوئے پایا گیا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ اور پلوامہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ اتوار کے سبب انہیں بذریعہ شاہراہ مختلف علاقوں کا سفر کرنا تھا تاہم حکومت کے تازہ فیصلے کے تنیجے میں انہیں اپنی تمام مشغولیات کو مؤخر کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اُن کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
لوگوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں شادیوں کا موسم شروع ہوا تھا جس دوران بیشتر شادیاں سنیچر اور اتوار کو ہی طے پاتی ہے تاہم حکومت کے تازہ فیصلے نے بہت سارے خاندانوں کو مایوس کردیا ہے کیوں کہ اپابندی کے نتیجے میں لوگوں کا اتوار کے روز شاہراہ پر سفر کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت فورسز اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق واقعی فکر مند دکھائی دے رہی ہے تو اسے عام لوگوں کو مزید تکلیف دینے کے بجائے فورسز اہلکاروں کو متبادل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایاعام لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال سے گزارنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ دوران شب ریل سروس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں کو اپنے اپنے مقامات پر منتقل کریں۔ ادھر پابندی کے پہلے روز شاہراہ کو فورسز چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا جس دوران شمال و جنوب میں شاہراہ پر فوج، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز اہلکاروں کو بندوقوں، لاٹھیوں اور ڈھنڈوں کے ساتھ تیاری کی حالت میں دیکھا گیا۔ اس دوران جہاں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کے علاوہ تجارتی انجمنوں نے سرکاری فیصلے کو پاگل پن ، انسانی المیے اور ظالمانہ ہتھکنڈے سے تعبیر کیا وہیں سماجی رابطہ سائٹوں پر لوگوں نے مذکورہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بارہمولہ سے اُدھم پور تک شاہراہ کو ہفتے میں دو روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے بند کئے جانے کے فیصلے کو پاگل پن قرار دیا ہے۔
سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ ’’میں اُوری کی طرف چل رہا ہوں جس دوران میں نے اپنی آنکھوں سے حکومتی فیصلے کا مشاہدہ کیا ہے جس سے عام لوگوں کوعبور و مرور میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہ سب اس لیے کیوں کہ حکومت کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جو پاگل پن پر مبنی ہے‘‘۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہراہ پر عام لوگوں کی نقل و حمل پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کرنے کی کارروائی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو شاہراہ پر آکر کرفیو جیسی بندشیں توڑنے کی اپیل کی ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہاں کی سڑکیں کشمیریوں کی ہیں۔انہوں نے اس موقعے پر بتایا کہ ’’لوگوں کو شاہراہ پر چلنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ہند کو ایسے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، وہ کشمیر میں قابض طاقت نہیں ہے لیکن اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ میں اپنے لوگوں کا اس طرح تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، میں نے شاہراہ پر متعدد مقامات پر ضرورت مند نوجوانوں اور بزرگوں کو پیدل سفر کرتے ہوئے دیکھا۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ حکومتی فیصلہ کا مقابلہ کرنے کی خاطر پی ڈی پی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، پی ڈی پی ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کریگی۔ادھر پی سی چیر مین اور سابق وزیر سجاد غنی لون نے سرینگر جموں شاہراہ کو عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے ہفتے میں دو روز تک مکمل طور پر بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ’’شاہراہ پر پابندی اب انسانی المیے کی شکل اختیار کررہی ہے، ریاست بھر سے سینکڑوں لوگوں نے فون کالز کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ، لوگ سخت مشکلات میں ہیں اور روز مرہ کے معاملات کے نپٹارے کے لیے وہ خود کو بے یار و مددگارمحسوس کررہے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک کو چاہیے کہ مذکورہ غیر انسانی حکم نامے کو فی الفور منسوخ کریں‘‘۔اس طرح سماجی رابطہ سائٹس پر مختلف لوگوں نے حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عام لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایک سینئر صحافی نے سماجی رابطہ سائٹ پر تحریرکیا کہ ’’جو لوگ چناوی جلسوں میں شرکت کرنے کے لیے جارہے ہیں انہیں بھی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’’الیکشن کے پیش نظر شاہراہ سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز واقعی طور پر غور طلب ہیں، شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ چناوی جلسوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں شاہراہ پر موجود فورسز اہلکار آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ٹویٹر پر ایک اور سینئر صحافی جس نے شاہراہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپلوڈ کیا، نے حکومتی فیصلے کو ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ یعنی دو مصیبتوں کے درمیان پھنس جانے سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے حکومتی فیصلے کو مضحکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پابندی اُن لوگوں کے لیے غیر سارکاری دوڑ کی مانند ہے جنہیں آج اس شاہراہ پرسفر کرکے اپنی اپنی منزلوں کو پہنچنا تھا، مجھے اپنے لوگوں کے درپیش مشکلات کا احساس ہے، عام لوگوں کے لیے بھی، جنہیں دو مصبیتوں کے درمیان پسا جارہا ہے۔ادھر شہر کی پریس کالونی میں بھی حکومتی فیصلے کے خلاف متعدد تجارتی اداروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی۔ احتجاج کرتے ہوئے تجار پیشہ افراد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے شاہراہ کو سیولین مومنٹ کے لیے بند کرنے سے 90فیصدی آبادی کو شہر آنے سے روکا گیا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر کا کاروباربری طرح سے متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداروں کے بغیر یہاں تجارتی اداروں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔تجار نے بتایا کہ اتوار کو چونکہ شہر سرینگر کے گھونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، ریگل چوک، بتہ مالو، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، لل دید، لعل چوک، کورٹ روڑ جیسے تجارتی مقامات پر خریداروں کا جم غفیر اُمڈ آتا تھا تاہم آج حکومت کی جانب سے پابندی کے نتیجے میں شہر کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے لعل چوک میں تجارتی سرگرمیاں ماند دکھائی دے رہی ہیں۔دوکانداروں نے اس موقعے پر حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندی کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کریں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
