تازہ ترین
اُردو زبان: موجودہ حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں؟
غازی سہیل خان: 
اُردو، بر صغیر میں ا کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔ جو اپنی جاذبیت و مٹھاس کی وجہ سے تمام قوموں میں مقبول ہے، خصوصاً برصغیر ہندوو پاک میں، جہاں کثرت سے اُردو زبان بولی جاتی ہے، پاکستان میں اُردو سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ بھارت میں بھی کثیر آبادی یہ زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل تمام قومیں جن میں ہندو،مسلم، سکھ، اکثر مذاہب سے وابستہ لوگ اُردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرکاری زبان یہی اُردو ہے۔ یہاں کی کثیر لسانی صورت حال کے پیشِ نظر اُردو ایک اہم ضرورت بن گی تھی اور یہ ضرورت بدستور قائم ہے۔کشمیر، جموں، لداخ کی مقامی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، لداخی،پہاڑی، شنا اور بلتی کے علاوہ بہت ساری نسلوں،تہذیبوں اور مذہبی اکائیوں سے وابستہ زبانیں مثلاً گوجری‘پشتو‘پنجابی‘ بھدرواہی ‘بکروالی وغیرہ، ان تمام زبانوں کے درمیان اُردو کو رابطے کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس زبان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی علاقے کی مادری زبان نہیں بلکہ سب کی لسانِ مشترک ہے۔باوجود اس کے کہ ُاردو اس وقت عالمی زبان بن گئی ہے ۔دنےا کی بڑی بڑی ےونیورسٹیوں مےںآج اُردو پڑھائی جاتی ہے، یہ اب ہندوستان اور پاکستان کی زبان نہیں بلکہ اس زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔
جموں کشمیر کے ڈوگرہ راج میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے 1889ءمیں دفعہ 145 کے تحت اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا۔لیکن شومئی قسمت جموں و کشمیر کے دستور میں ایسے دفعات موجود ہیں جن کی باری باری یہاں کے حکمرانوں اور نیتاوں نے کانٹ چھانٹ کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہیں ۔ اگرچہ اُردو کو یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم جو اس زبان کا حال آج ہمارے سامنے ہے وہ سب کے سامنے عیاں وبیاں ہے ۔چند سال قبل یہاں بچوں کو بُنیادی تعلیم اُردو زبان میں ہی دی جاتی تھی اور آج حال یہ ہے کہ بچوں کو اُردو پڑھنا تو دور کی بات اُردو زبان میں بات کرنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔اجتماعی سطح پر یہاں کی آبادی اس زبان سے دور کی جا رہی ہے، تاہم یہاں مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے اس لیے ان کامذہبی لٹریچر جس میں تفاسیر،احادیث،فقہ وغیرہ 80 فیصداُردو زبان میں ہے ، جس کی وجہ سے ابھی بھی اُردو زندہ ہے۔ اُردو سے دوری کے بعد یہاں کی نوخیز نسل مغربی تہذیب کا دلدادہ بنتی جا رہی ہے ۔اسلامی روایات کو دن دہاڑے دفن کیا جا رہا رہاہے۔
اُردو زبان کی بدحالی کے لئے جہاں یہاں کی حکومتوں اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھرایا جاسکتا ہے وہیں یہاں کے ادباء،شعرا اور اُردو کے نام پر روٹیاں کھانے والوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانا غلط نہیں ہو گا۔ جب اُردو کے نصاب کی بات کرتے ہیںتوآج کے اس مابعد جدیدیت (post modern)کے دور میں بھی ہمارے طلبہ کو ”رگے گُل سے بلبل کے پر باندھنے“ کو کہا جاتا ہے،وہی الف لیلی داساتانیں اور مافوق الفطرت قصے اور کہانیاں پڑھائی اور سُنائی جاتی ہیں ، بس ”طوطے کی رٹ “ کی طرح اُردو کے نصاب میں کبھی کوئی تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔اسی طرح سے اُردو کے نام پر ایک ایسا طبقہ ریاست میں کام کر رہاہے جس کو ”اُردو مافیا“(urdu mafia) کے لقب سے پُکارا جا سکتا ہے، اس طبقے نے کبھی سنجیدگی سے اُردو زبان و ادب کی اشاعت و فروغ کے لئے کام نہیں کیا ،کبھی اُردو زبان سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بس اپنا نام اور زر کمانے کے لئے اس زبان کو استعمال میں لایا ۔اسی طرح سے ہمارے اداکرنا پڑتا ہے ،۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اُردو ورلڈ سرینگر(Urdu world srinagar)کی ٹیم کے ساتھ پیش آیا۔حسب معمول جب یہ ٹیم ماگام کے ایک پرائیوٹ اسکول پہنچی تو بچوں سے بات چیت کے دوران جب اُردو میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوںنے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ ہمیں اُردو زبان میں بات کرنی نہیں آتی اور ساتھ ہی اُساتذہ صاحبان نے کہا کہ اگر ہمیں اسکول انتظامیہ نے اُردو میں بات کرتے ہوئے دیکھاتو دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتاہے ۔واحسراتا….!
میری اس خامہ فرسائی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے دور کھنا چاہے یا ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلنا چاہئے بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اس حق( اُردو زبان و ادب )سے نا آشنا نہیں رکھنا چاہے ۔
جموں کشمیر میں تو اُردو زبان کے رہبر ہی رہزنی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے نام پر جو نام نہاد تنظیمیں و ا دارے وجود میں آئے ہیں اُن کواگرہم اُردومافیا (urdu mafia)کا نام تفویض کریں تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔ایک واقعہ پیش کرتاہوں:چند سال قبل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کشمیر یونی ورسٹی حضرت بل سرینگر میں بیٹھا تھا ،باتوں ہی باتوں میںہم نے اُردو زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو چھیڑی نتیجتاًمیں نے اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ادروں کے ساتھ ساتھ اُن افراد کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچا تو بھی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے دوست نے کہا کہ ”آپ کو ابھی شاید علم نہیں ہے کہ آپ کن اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کے حوالے سے لکھنے کی جسارت کرنے جا رہے ہیں؟ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ آپ کے مضامین جو اخبار میں آتے ہیں وہ بھی بند کروا دیے جائیں گے ۔“
ذاتی طور پر میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ جن لوگوں نے بھی اُردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ وجود میں لایا ہے آج تک وہ کوئی خاص کام انجام نہیں دے پائے سوائے چند ایک کے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ادارے اور تنظیمیں اخلاص کی بُنیاد پر نوجوان نسل کی تربیت کرتے، اُبھرتے ہوئے قلم کاروں ،شاعروں ،افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے، نئی نسل کواُردو زبان و ادب سے آشنا کرتے لیکن افسوس! کام اس کے برعکس ہی ہو رہا ہے۔ اس پر مزید چوٹیں جو ڈالی گئیں اس میں انٹرنیٹ کا بڑا عمل دخل ہے۔انٹرنٹ کے موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اُردو زبان کی بول چال کا معیار بھی کافی حد تک گرا دیا گیا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں،یہاںآج کل سوشل میڈیا جس میں فیس بک اور یوٹیوب ودیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بہت ساری نیوز چینلیں ہیں، جن کے صحافی اوررپورٹر اس زبان کا ستیاناس کر نے پر تلے ہوئے ہیں، ہم نے یہ دیکھا کہ اگر کسی صحافی یا رپورٹر سے انگریزی میں بات کرنے کے دوران کوئی چوک ہو جائے تو اُسے کبھی عوام معاف نہیں کرتی پہلے تو وہ صحافی انگریزی میڈیا میں کام کر ہی نہیں سکتا جس کی زبان اچھی نہ ہو اور اُردر میڈیا میں نیم حکیم صحافی بھی دو چار باتیں کر کے تُرم خان بن ہی جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں اُردو زبان کی بگڑتی حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں ؟۔تاہم جب ہم موجودہ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو اس وقت ساری دنیا خصوصاً مغرب اسرائیل کی پالسی اور پروگرام کے تحت دُنیا پر اپنے نظریات کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنی دھاڑجمانے میںکامیاب ہو گیا ہے، تبھی تو یہ چند لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ملک مسجد اقصیٰ پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے ہوئے بیٹھا ہے اور دنیا ئے اسلام کی 57آزاد مملکتیں اسرائیل کی جارہیت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اپنی مادری زبان عبرانی(Hebrew) میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد عاشقان اُردو زبان و ادب شایدسمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔
ان سارے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی گستاخی کے بعد یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اگر ہمیں اپنی نسل نو کو تاریخ ،اسلام اور ادب سے وابستہ رکھنا ہے تو اپنے سارے ذاتی مفادات کو بالائے تاق رکھ کر اس زبان کو اس ذبوںحالی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ یہاں کے حکمرانوں اور لیڈروں کوچاہے کہ اُردو کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات اُٹھائےں جن مےں سب سے پہلے اےک اُردو اکےڈمی کا قےام عمل مےں لایا جانا ضروری ہے۔ اُردو کے مضمون کو گریجویشن تک ہر اےک طالب علم کے لئے لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ جن سرکاری محکموں دفتری کام اُردو میں کام کاج ہوتا تھا ان کو اُردو مےں ہی کام کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائےں ۔سرکاری عمارتوں کے ساتھ پرائیوٹ اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ ساین بورڈس اور عمارتوں پر لگے بےنرس پر انگرےزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی تحریر کو لازمی قرار دیا جائے۔ اُردو کے فروغ و اشاعت کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں اور ادارے وجود میں آئے ہیں اُن کو نیت خلوص کے ساتھ اس زبان کو نسل نو تک پہنچانے کی کوشش کرنی چائیے۔ جموںکشمیر کی سےاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے اپنی سطح پر اقدامات اُٹھائےں ،تا کہ اس میں علم کے سرمائے سے نوجوان طبقہ بہرہ ور ہو کر سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کر سکے اورسماج کو اس تہذیبی جارحیت سے خلاصی کے لئے اپنی صلاحتوں کو صرف کریں ۔
اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ہم سب پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اُردو زبان کو عروج بخشنے میں اپنی صلاحتوں کو بروے کار لائیں ۔تا کہ ہم بھی دنےا کے ساتھ چل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں ،اگر ہم ایسا نہ کریں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
رابطہ ۔ghazisuhail09@gmail.com
نوٹ:( مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
