تازہ ترین
اچھا انسان بننے کیلئے بچپن میں ہی سکھائیں یہ ۱۰؍ باتیں
سنیتاراجپت
بچپن میں سیکھی ہوئی چیز زندگی بھر یاد رہ جاتی ہے۔ اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کو اچھی عادتیں سکھائیں۔ اگر آپ کم عمر میں ہی بچوں کو صحیح ، اچھی اورکارآمدباتیں بتاتے اور سکھاتے ہیں تو ان کا آنے والا کل بہتر سے بہتر ہوگا اور وہ ایک کامیاب انسان کہلائیں گے
ہم جو بھی بچپن میں سیکھتے ہیں وہ زندگی بھر ہماری ساتھ رہتی ہے۔ ایسے میں والدین کا فرض بنتا ہے کہ انہیں بچپن ہی سے سبھی اچھی عادتوں کو سکھائیں۔ گر آپ کم عمر میں ہی بچوں کو صحیح ، اچھی اورکارآمدباتیں بتاتے اور سکھاتے ہیں تو ان کا آنے والا کل بہتر سے بہتر ہوگا۔ اور وہ ایک کامیاب انسان کہلائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ان باتوں کو اپنائیں گے تو ان کو کامیاب ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہاں جانیں کہ والدین کو کون کون سی سیکھ بچوں کو دینی چاہئے:
وقت کی اہمیت سمجھائیں
آپ کو وقت کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو ہر کام وقت پر کرنے کی ترغیب دیں۔ انہیں وقت کی قیمت بتاتے ہوئے اپنے اور دوسروں کے بھی وقت کی قدر کرنا سکھائیں کیونکہ گزرا وقت واپس نہیں آتا۔
کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں
آج کے دور میں بچے بھی کھیل میں کم دلچسپی رکھتے ہوئے موبائل فون کو زیادہ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جسمانی طور پر فٹ رکھنے کے لئے انہیں کھیل کھیلنے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دیں۔ کھیل ان کے دماغ کو تیز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ساتھ کھیلنے سے مل کر کام کرنے یعنی ٹیم ورک کی عادت پڑتی ہے اور وہ نظم و ضبط کے پابند بھی ہوتے ہیں۔
اپنی چیزوں کی صفائی
اکثر بچے اپنے کپڑے، کھلونے، کتابیں اور دوسرے سامان بکھیر کر رکھتے ہیں لیکن ان عادتوں کو بچپن میں ہی تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں پیار سے صاف صفائی کی عادت ڈالنی چاہئے۔ ایسے میں ان کی یہ عادت آگے چل کر ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔
جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں
جب ناکام لوگ سوتے رہتے ہیں تب کامیاب لوگ اپنے نئے نئے ارادوں کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں صبح الارم بجنے کے بعد سستی یا نیند کے سبب آنکھیں جلدی نہ کھولنا وغیرہ بہانے کرنے سے کوئی بھی جلد کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے بچوں کو وقت پر اٹھنا اور سستی کرنے پر تاکید کریں۔
صبر کرنا سکھائیں
کئی مرتبہ بچے چیزیں یا کھلونے دلانے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں والدین بھی ان کو بہلانے کے لئے ان کی مانگ کو پورا کرنے لگتے ہیں مگر ایسا کرنا غلط ہے۔ والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ انہیں صبر کرنا سکھائیں۔
مدد کا جذبہ
بچوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا سیکھنا چاہئے۔ انہیں بتائیں کہ بھائی بہن کے ساتھ کیسا برتاؤ اختیار کرنا چاہئے۔ انہیں سمجھائیں کہ ان کے برتاؤ سے ان کی شخصیت ظاہر ہوتی ہے۔
محنت کی عادت
کئی بار اسکول سے زیادہ کام مل جانے پر بچے گھر کے بڑوں کی مدد لیتے ہیں۔ چاہیں والدین کو بچوں کی ہر کام میں مدد کرنی چاہئے۔ مگر بچوں کا سارا کام والدین کریں اور اس وقت بچے آرام کریں تو یہ غلط ہے۔ ایسے میں آپ بچوں کو شروع ہی سے محنت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔
دوسروں سے سیکھیں
آج کل کے بچے ہر چھوٹی چھوٹی بات کو دل سے لگا لیتے ہیں۔ ایسے میں انہیں سمجھائیں کہ کسی کے کچھ کہنے یا صلاح دینے پر ان سے ناراض ہونے کے بجائے ان سے سیکھیں۔ چاہیں دوسروں کی صلاح کو ماننا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن آپ ان کی صلاح کو عمل کریں گے اور اپنے کام میں تبدیلی لائیں گے تو آپ کی کارکردگی اور بھی نکھر کر سامنے آئے گی۔
ناکاامی سے نہ ڈریں
بچوں کو سمجھائیں کہ کامیابی پانے کے لئے ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگ ناکام ہونے کے خوف سے کچھ نیا آزمانے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ایسا کرنے سے آپ کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے نہ ہی آپ سے کوئی غلطی ہوگی اور نہ ہی کوئی چیز آپ سیکھ سکیں گے۔ اگر زندگی میں کچھ سیکھا ہی نہیں تو ایسا جینا بے کار ہے۔ اس لئے اپنی کانامی پر شرمندہ ہونے سے اچھا ان پر فخر محسوس کریں۔ ہمیشہ ایسا سوچیں کہ ایک دن آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔
تھوڑا زیادہ کرنے کی کوشش کریں
بچوں کو سمجھائیں کہ آپ جو بھی کام کرنے جا رہے ہیں تو اس کام کو اپنا صد فیصد دیں۔ ہر کام کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہرگز نہ سوچیں کہ یہ کام تو مجھ سے ہوگا ہی نہیں یا اس میں مجھے ناکامی ہی ملے گی بلکہ مثبت انداز میں سوچیں کہ یہ کام میں کرسکتا ہوں۔ والدین بچوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ بچوں کو اس بات کی ترغیب دیں کہ کسی بھی کام میں کامیابی یا ناکامی ملے مگر انہیں اپنی جانب سے بھرپور کوشش کرنی چاہئے کیونکہ کوشش کرنے والوں کو کامیابی ضرور ملتی ہے(انقلاب)
دنیا
برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا
ماسکو، برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برنہم نے منگل کو لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک نئے قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم اگلا انتخاب انتخابی نظام میں تبدیلی کے عزم کے ساتھ لڑیں گے، تاکہ ہر شخص کے ووٹ کی اہمیت ہو اور ہر شخص کی آواز سنی جائے۔‘‘
برنہم نے زور دے کر کہا کہ صرف 30 فیصد ووٹروں کی حمایت سے حکومت بننا ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی سطح کے پیش نظر برطانیہ نہ تو اپنے داخلی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ایک باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔ برنہم نے بتایا کہ وہ 10 برس میں ملک کے ساتویں وزیر اعظم ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا، ’’ہم کسی طرح کی ایک کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جس میں شاید 10 افراد ہوں… تاکہ یہ کمیٹی پورے شعبے کی نگرانی کر سکے۔‘‘
صدر نے یقین ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ’’اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘ اور مزید کہا کہ اگر انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو اپنی نگرانی اور ضابطے کے لیے ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ اقدامات کرنے ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک کے 2 ملازمین نے اپنی رائے ظاہر کی کہ آئندہ 10 برس کے دوران مصنوعی ذہانت کے انسانیت کو تباہ کرنے کا امکان 10 فیصد ہے۔
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تیاری میں عالمی سطح پر رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
امریکی ارب پتی ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔
14 ستمبر کو ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا پر قبضہ کر لے گی اور انسانیت کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ صدر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
