ہندوستان
اڈیشہ، پنجاب، آندھرا پردیش میں چار نئے سیمی کنڈکٹر فیکٹری پروجیکٹوں کو منظوری
نئی دہلی، مرکز نے منگل کو چار نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس کے قیام کے لئے کل 4600 کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری دی انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے تحت منظور شدہ یہ پروجیکٹس سکسیم، کانٹی نینٹل ڈیوائس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (سی ڈی آئی ایل)، 3ڈی گلاس سلوشنز انک، اور ایڈوانسڈ سسٹم ان پیکج (اے ایس آئی پی) ٹیکنالوجیز کی جانب سے رکھی گئی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشون ویشنو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان میں دو سیمی کنڈکٹر کارخانے اڈیشہ اور ایک ایک پنجاب اور آندھرا پردیش میں قائم کیا جائیں گے۔ سکسیم اور گلاس 3ڈی اڈیشہ میں، سی ڈی آئی ایل کا پروجیکٹ پنجاب میں اور اے ایس آئی پی آندھرا پردیش میں قائم کیا جائے گا۔
مسٹر ویشنو نے کہا، “انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن: ہندوستان کے کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر اور ایڈوانسڈ پیکیجنگ سیکٹر میں آگے بڑھنے کے ساتھ رفتار اور بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم میں مومینٹم بڑھ رہا ہے اور چھ منظور شدہ پروجیکٹ پہلے سے ہی نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان چار منظور شدہ پروجیکٹس میں تقریباً 4600 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سہولیات قائم ہوں گی اور توقع ہے کہ اس سے 2034 ہنر مند پیشہ ور افراد کے لیے مجموعی روزگار پیدا ہوگا جس سے الیکٹرانک مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو تحریک ملے گی جس کے نتیجے میں بہت سے بالواسطہ روزگار بھی پیدا ہوں گے ۔ آج ان چار مزید منظوریوں کے ساتھ ، آئی ایس ایم کے تحت کل منظور شدہ پروجیکٹ 6 ریاستوں میں تقریبا. 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ 10 تک پہنچ گئے ہیں۔
ٹیلی کام ، آٹوموٹو ، ڈیٹا سینٹرز ، کنزیومر الیکٹرانکس اور انڈسٹریل الیکٹرانکس میں سیمی کنڈکٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے ، یہ چار نئے منظور شدہ سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
سک سیم پرائیویٹ لمیٹڈ اڈیشہ کے بھونیشور میں واقع انفو ویلی میں سلیکون کاربائیڈ (سک) پر مبنی کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر کی ایک مربوط سہولت قائم کرنے کے برٹین کی کلاس – سک ویفر فیب لیمیٹڈ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یہ ملک کا پہلا تجارتی کمپاؤنڈ فیب ہوگا۔ اس منصوبے میں سلکان کاربائیڈ ڈیوائسز تیار کرنے کی تجویز ہے۔
اس کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب کی سالانہ گنجائش 60,000 ویفرز اور پیکیجنگ کی گنجائش 960 لاکھ یونٹ ہوگی۔ مجوزہ مصنوعات کو میزائلوں، دفاعی آلات، الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، ریلوے، فاسٹ چارجرز، ڈیٹا سینٹر ریک، صارفین کے آلات اور شمسی توانائی کے انورٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔
تھری ڈی گلاس سولیوشنز انک (3 ڈی جی ایس) ، اڈیشہ کے بھونیشور کے انفو ویلی میں عمودی طور پر مربوط ایڈوانسڈ پیکیجنگ اور ایمبیڈڈ گلاس سبسٹریٹ یونٹ قائم کرے گا۔ یہ یونٹ دنیا کی جدید ترین پیکیجنگ ٹیکنالوجی ہندوستان میں لائے گا جو سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں اگلی نسل کی کارکردگی لاتا ہے۔
اس مرکز میں مختلف قسم کی جدید ٹیکنالوجیز ہوں گی جن میں پیسوز اور سلیکون بریجزکے ساتھ گلاس انٹرپوزر اور تھری ڈی ہیٹروجینیئس انٹیگریشن (تھری ڈی ایچ آئی) ماڈیول شامل ہیں۔ اس یونٹ کی منصوبہ بند صلاحیت تقریبا 69600 گلاس پینل سبسٹریٹس، 50 ملین اسمبلڈ یونٹس اور 13200 تھری ڈی ایچ آئی ماڈیولز سالانہ ہوگی۔ مجوزہ مصنوعات میں دفاعی، اعلی کارکردگی والی کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، آر ایف اور آٹوموٹو، فوٹوونکس اور کو- پیکیجڈ آپٹکس وغیرہ میں اہم ایپلی کیشنز ہوں گی۔
ایڈوانسڈ سسٹم ان پیکیج ٹیکنالوجیز (اے ایس آئی پی) 96 ملین اکائیوں کی سالانہ صلاحیت کے ساتھ اے پی اے سی ٹی کمپنی لمیٹڈ، جنوبی کوریا کے ساتھ ٹکنالوجی ٹائی اپ کے تحت آندھرا پردیش میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی۔ تیار شدہ مصنوعات کو موبائل فونز، سیٹ -ٹاپ باکسز ، آٹوموبائل ایپلی کیشنز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات میں استعمال کیا جائے گا۔
کانٹی نینٹل ڈیوائس (سی ڈی آئی ایل) پنجاب کے موہالی میں اپنی ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ مرکز کو وسعت دے گی ۔ مجوزہ مرکز سلیکون اور سلیکون کاربائڈ دونوں میں ہائی پاور ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز جیسے ایم او ایس ایف ای ٹی، آئی جی بی ٹی، شاٹکی بائی پاس ڈائیڈس اور ٹرانجسٹر تیار کرے گی۔ اس براؤن فیلڈ توسیع کی سالانہ صلاحیت 158.38 ملین یونٹ ہوگی ۔ ان مجوزہ اکائیوں کے ذریعہ تیار کردہ آلات کا استعمال آٹوموٹیو الیکٹرانکس جن میں ای وی اور اس کے چارجنگ انفرااسٹرکچر، قابل تجدید توانائی کے نظامات، پاور کنورژن ایپلی کیشنز، صنعتی ایپلی کیشنز اور کمیونی کیشن انفرااسٹرکچرمیں کیا جائے گا۔
ان منصوبوں کی منظوری سے ملک میں سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو نمایاں فروغ ملے گا کیونکہ ان منصوبوں میں ملک کا پہلا تجارتی کمپاؤنڈ فیب کے ساتھ ساتھ انتہائی ایڈوانسڈ گلاس پر مبنی سبسٹریٹ سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ یونٹ بھی شامل ہے۔
حکومت نے کہا کہ یہ صلاحیتیں ملک میں بڑھتی ہوئی عالمی معیار کی چپ ڈیزائن کی صلاحیتوں میں معاونت کریں گی، جو حکومت کی طرف سے 278 تعلیمی اداروں اور 72 اسٹارٹ اپس کو فراہم کردہ ڈیزائن انفرااسٹرکچر سپورٹ سے آگے بڑھے ہیں۔ اس میں 60000 سے زیادہ طلباء ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ پروگرام کے فوائد حاصل کر چکے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
