دنیا
ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، سفارتی حل پر زور
ریاض/تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
عباس عراقچی نے اتوار کو ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں کہا کہ سیاسی حل کو نظرانداز کرکے فوجی طریقہ اختیار کرنے پر اصرار صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت شروع کرانے اور سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ریاض کے ہوائی اڈے پر حالیہ مہلک حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یمن میں امریکہ کے کردار پر نظرثانی کرنے کا عندیہ دیا اور ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی۔
یہ بیان جمعرات کو دیے گئے ان کے اس بیان سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کرے گا۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اختلافات کے باوجود سفارتی تعلقات برقرار ہیں۔ دونوں ممالک کے سفارت خانے 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت دوبارہ کھولے گئے تھے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان سات سال تک سفارتی تعلقات منقطع رہے تھے، جس کے دوران خطے میں پراکسی تنازعات کو ہوا ملی۔
فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ریاض اور تہران کے تعلقات میں پھر سے کشیدگی آئی ہے۔ حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادی گروپوں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں سعودی عرب کے تیل کے کنویں بھی شامل ہیں۔
مارچ 2026 میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب اور پڑوسی خلیجی ممالک پر حملوں کو مزید برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ انہوں نے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی حملوں میں شدت، سعودی عرب کو دفاعی میزائلوں کی قلت کا سامنا
ریاض، یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان سعودی عرب کو میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت کا سامنا ہے، جس سے اہم تنصیبات کے تحفظ اور مزید حملوں کو روکنے کی مملکت کی صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق، دفاعی میزائلوں کی قلت سعودی عرب کی حملوں کو روکنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے اور مملکت کو ستمبر کے وسط سے ہی اس بحران کا سامنا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، مصر اور پاکستان سمیت علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے میزائل حملوں کے خلاف دفاع میں مدد طلب کی ہے۔
پیر کو سعودی عرب کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغیوں کے زیر قبضہ ہوائی اڈے پر فضائی حملے کی اطلاع دی تھی۔
دفاعی میزائلوں کی قلت کا مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکہ کے پاس بھی میزائلوں کو روکنے والے دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دفاعی نظام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
مسلسل حملوں نے سعودی فضائی دفاعی نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے اور شہری تنصیبات و فضائی سفر کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مملکت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ بھی شامل ہے، جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، کاروباری اداروں اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں پر پروازیں چلانے کے خلاف انتباہ دہرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں۔
سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا، ”ہم دنیا بھر کی تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور مسافروں کو دوبارہ خبردار کرتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں، کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہیں۔ البتہ مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود اس سے مستثنیٰ ہیں۔”
حملوں میں تازہ شدت ایسے وقت آئی ہے جب سعودی عرب حوثیوں کے خلاف جنگ میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت بڑھا رہا ہے۔ ریاض نے گزشتہ ہفتے یمنی حکومتی فورسز کی مدد کے لیے بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، تاہم حوثی باغیوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور سعودی سرزمین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ہوائی اڈے پر حملہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شامل تھا، جس کے بعد مملکت کی قیادت پر جوابی کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دستاویزی فلم میں شامل گمنام ذرائع کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فلم میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اہداف کے تعین کے نظام استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو ہلاک کیا۔
ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں اور مخبرین کے بیانات شامل ہیں، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ محصور غزہ میں بڑی تعداد میں شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے فوج نے ان نظاموں کا استعمال کیا۔
نیتن یاہو نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”میں چیف آف جنرل اسٹاف، شن بیٹ کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فلم ‘نازا’ میں حصہ لینے والوں کے خلاف جامع تحقیقات شروع کریں اور معلومات کے تحفظ کی سنگین خلاف ورزیوں، مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں ایک جھوٹا، گمراہ کن اور جانبدارانہ بیانیہ پیش کیا گیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور اس کی فوج کی شبیہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں مخبرین کے الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کے بعض دعوؤں کو ”مضحکہ خیز” اور متضاد قرار دیا تھا۔ فوج کا اصرار تھا کہ اس کی پالیسیوں کے مطابق حملوں کے اہداف کے انتخاب اور منظوری کا عمل صرف انسانی اہلکار انجام دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر بھی فلم میں شامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے فلم کی تیاری میں استعمال ہونے والی خفیہ فوجی معلومات افشا ہونے کے شبہے میں تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔
فلم ‘نازا’ کا نام اسرائیلی فوج کی اصطلاح سے لیا گیا ہے، جو فضائی حملوں میں متوقع شہری ہلاکتوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ عبرانی زبان کے اس فقرے کی مختصر شکل ہے جس کا مطلب ”ضمنی نقصان” ہے۔
فلم کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، جہاں اسے 25 منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجانے کے غیر معمولی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
فلم نے اسرائیل میں سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔ اس کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل شور کو ”غداری” کے الزامات کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو اور وزیر ثقافت میکی زوہار دونوں نے ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل کے قومی محکمۂ عوامی سفارت کاری کی سربراہ تزیپی ہوٹویلی نے ایک دوسری فلم ‘نازا: دی ریئل اسٹوری’ کے تخلیق کاروں کو تعریفی اسناد پیش کیں۔ ان کے مطابق، اس فلم کا مقصد اصل فلم میں کیے گئے ان الزامات کا جواب دینا ہے جنہیں انہوں نے ”خونریزی کے بے بنیاد الزامات” قرار دیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق، نئی فلم میں ایسے فوجیوں کے بیانات شامل ہیں جو اصل فلم کے دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، اسرائیلی خبر رساں ادارے چینل 12 کے مطابق، اسرائیل کی 43 انسانی حقوق کی تنظیموں نے ‘نازا’ کے فلم سازوں کا دفاع کرتے ہوئے ان کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز اور دیگر فلسطینی گروپوں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 21,000 بچے شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
تہران، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے تہران کی سات شرائط میں سے کچھ کو قبول کر لیا ہے، لیکن اس کا ردعمل اب بھی ناکافی ہے۔
مسٹررضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “امریکہ نے ایران کی سات شرائط میں سے کچھ کو قبول کر لیا ہے، لیکن ہم اس کے ردعمل کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ ایران کی سفارت کاری بدل چکی ہے اور اب پہلے جیسی پوزیشن میں واپس آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
ایک دوسری پوسٹ میں، محسن رضائی نے ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کی سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے انسانی تاریخ کی سب سے احمقانہ جنگوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں ناکام رہا ہے۔
محسن رضائی نے زور دے کر کہا، “امریکی فوج کبھی اتنی شرمناک حد تک نہیں گری ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
دنیا1 week agoروس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
-
جموں و کشمیر7 days agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
