تازہ ترین
ا کثریت ملی تو پی ایس اے کا نام و نشان مٹادوں گا: عمر عبداللہ
خبراردو:
سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ ریاست سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کرے گی۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اُن کی پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ فوراً سے پیشتر ریاست جموں وکشمیر سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کوختم کرے گی۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اکثریت ملنے کی صورت میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر لوگ ہمیں مضبوط منڈیٹ دیں گے تو ہم جموں و کشمیر سے ان قانون کا نام و نشان مٹادیں گے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہم یہاں افسپا کا قانون مرکز سے بات کئے بنا نہیں اُٹھا سکے، لیکن جو اپنے قانون ہیں، اُن کو ہم کیوں نہیں اُٹھا سکتے، میں نے طے کیا ہے اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں جس دن نیشنل کانفرنس کی اپنی حکومت بنی ،انشاء اللہ کچھ ہی دنوں کے اندر اندر پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کے دائرے سے باہر نکال دوں گا۔
ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہونگے اور والدین بھی پریشان نہیں ہونگے۔‘‘ہل میں ہی حل کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ حکومت عوام کو راحت پہنچانے کیلئے ہوتی ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے بل پر حکومت چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور دیگر تمام مشکلات کے باوجود ہم نے 2014میں پی ڈی پی اور بھاجپا کو جو ریاست سونپی، یہ لوگ کم از کم اُسی پوزیشن کو سنبھال کے رکھتے تو بہت بڑی بات ہوتی لیکن پتہ نہیں ان لوگوں نے ہمیں کتنے سال پیچھے دھکیل دیا۔پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران سب سے زیادہ خمیازہ جنوبی کشمیر کو اُٹھانا پڑا، یہاں کوئی گھر نہیں ہے جہاں ماتم نہ ہو،یہاں کے نوجوانوں کیساتھ سب سے زیادہ استحصال ہوا، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ گن اور گولیاں چلیں، سب سے زیادہ لوگ مارے گئے، سب سے زیادہ نوجوان بندوق کی طرف مائل ہوئے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ذرائع ابلاغ میں کہیں نہ کہیں کریک ڈاؤن،کسی نہ کسی کے مرنے کی خبر، کسی نہ کسی کے زخمی ہونے کی خبر، کسی نہ کسی نوجوان کے ملی ٹنسی جوائن کرنے کی خبر دیکھنے ، سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔
عمر عبداللہ نے پارٹی لیڈران اور کارکنان سے وعدہ کیا کہ اگر این سی مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آتی ہے تو وہ ریاست جموں وکشمیر سے متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو ختم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’’میں پارٹی لیڈران اور کارکنان کو اور آپ کے ذریعے سے عوام کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ جس دن نیشنل کانفرنس اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کرے گی، میں فوراً سے پیشتر ریاست سے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے بدنام زمانہ قانون کو منسوخ کروں گا۔میں اپنے کارکنان کے سامنے وعدہ بند ہوں کہ میں اس (پی ایس اے) قانون کو کاغذات سے مکمل طور پر ختم کردوں گا‘‘۔اس موقعے پر پارٹی لیڈران اور کارکنان کی طرف سے این سی لیڈر کے مؤقف کو سراہا گیا اور پورا ہال تالیوں کی گونج سے جھوم اُٹھا۔سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط اتحاد کی شکل میں کئی کمزور حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ہمیں ایک دوسرے کے نظر و کرم پر گزارا کرنا پرا۔
ماضی قریب میں ریاست میں تشکیل پاچکی مخلوط حکومت سازی پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط سیاسی نظام کی شکل میں کئی حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ایک سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹی کے تابع رہ کر کام کرنا پڑا۔مرحوم مفتی محمد سعید جب ریاست کے وزیراعلیٰ تھے تو انہیں غلام نبی آزاد کے تابع رہ کر کام کرنا پڑااور جب غلام نبی آزاد وزیرا علیٰ تھے وہ مرحوم مفتی محمد سعید کی تابعداری انجام دیتے تھے، حتیٰ کہ میں (عمر عبداللہ) خود بھی کانگریس کی سیاسی مدد سے ریاست جموں وکشمیرکا چھ برس تک وزیرا علیٰ رہا۔عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ لوگ فخر کیساتھ کہتے تھے ہم نے 200ملی ٹنٹ مارے، ہم نے 250ملی ٹنٹ مارے۔ ارے کس کو مارا؟ یہ تو ہمارے اپنے ہی مارے جارہے ہیں، جو نوجوان کل تک ہمارے پاس نوکری کیلئے درخواست لاتا تھا اُسی کو تو تم نے اس طرف (بندوق) دھکیلا۔‘‘انہوں نے کہاکہ الیکشن کا بگل بجتے ہی مگر مچھ کے آنسو پھر شروع ہوگئے۔’’ حکومت میں رہ کر محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ جو نوجوان مارے گئے وہ پولیس تھانوں پر حملے کررہے تھے وہ دو دھ اور ٹافی لانے نہیں گئے تھے، بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا سی آر پی ایف اور فوج کی بندوق دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں یہ استعمال کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور آج یہی محبوبہ مفتی مارے گئے ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانے جاتی ہیں۔ اگر موصوفہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر رونے جاتی، تو میں مانتا محبوبہ مفتی دلیر لیڈر ہے ، اگر محبوبہ مفتی بھاجپا کیساتھ اتحاد کے دوران کسی ملی ٹنٹ کے گھر جاکر تو میں مانتا کہ وہ دلیر ہے۔‘‘کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ اُس وقت محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ کشمیر کو بچانے والا صرف اور صرف مودی ہے، میں نے مودی جی سے جو مانگا وہ بھی ملا اور جو نہیں مانگا وہ بھی مل گیا۔لیکن اُس کے بعد یہاں صرف بندوقیں زیادہ آئیں، فورسز زیادہ آئے، تباہی زیادہ ہوئی، لوگ زیادہ پریشان ہوئے، لوگوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ شائد محبوبہ مفتی نے یہی کچھ مانگا ہوگا؟این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’این آئی اے کی گرفتاریاں محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں ہوئی اور ان گرفتاریوں میں موصوفہ کی حکومت نے معاونت کی اور آج گرفتار کئے گئے افراد کو چھوڑنے کا رونا روتی ہو۔ہم نے جہاں ایک منزل کا بنکر توڑا، ان لوگوں نے دو منزلہ بنکر بنائے، ہم نے جہاں 100لوگوں کا کیمپ اُٹھایا ان لوگوں نے وہاں 500لوگوں کا کیمپ قائم کروایا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جب تک انسان کی نیت صاف نہیں ہوتی، تب وہ اپنے اداروں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، ہم نے 2008میں اپنے گھر، اپنے رشتے دار اور اپنی تنظیم بچانے کیلئے حکومت نہیں سنبھالی،ارادہ تھا ریاست کی خدمت کریں، بہتری لانے کوشش کریں، بڑے بڑے سیاسی مسئلہ سے لیکر چھوٹے سے چھوٹا گولی کوچے کا مسئلہ حل کرنے کی نیت تھی، 6سال حکومت کی اور جتنا ہوسکتا کام کیا، جو کرنا تھا اُس کا 100فیصدی نہیں کرپائے لیکن ایسا کوئی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں ہم نے بہتری کا کام نہیں کیا۔ ہم نوجوانوں کو بھر پور روزگار نہیں دے سکے لیکن ہم نے انہیں ملی ٹنسی کی طرف بھی نہیں دھکیلا۔ کیونکہ ہماری نیت صاف تھی۔اس کے برعکس پچھلے 4سال کا حال دیکھئے، سارا آپ کے سامنے ہے، جن نوجوانوں کو ہمیں نے روزگار کے آرڈر تھمانے تھے ، اُن نوجوان کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں آئی اُن نوجوانوں نے پتھر اُٹھائے۔ کیونکہ حالات نے اُن کو مجبور کیا۔پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جہاں پر ہم مسئلے کی بات کرتے تھے، وہاں ان لوگوں نے ہمارے مسائل اور زیادہ بڑھادیئے، جہاں ہم نے بات چیت کیلئے دروازے کھول دیئے، ان لوگوں نے دروازے کیا کھڑکیاں بھی بند کردیں۔کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ ہم نے کم از کم حالات میں اس حد تک سدھارے تھے کہ ہم مرکز سے افسپا اُٹھانے کی بات کر پاتے تھے، آج تو ان لوگوں نے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رکھا۔کیوں؟ کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا انہوں نے جموں وکشمیر کی بقاء کیلئے نہیں، نوجوانوں کے روزگار کیلئے نہیں، پاور پروجیکٹوں یا تعمیر و ترقی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کیا۔وہ الگ بات ہے آج اُن کی جماعت کاکیا ہے، محبوبہ مفتی نے تو 3سال جماعت کو ٹوٹنے سے بچایا لیکن ریاست کی تباہ کردیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے کہتے تھے پاور پروجیکٹ واپس لائیں گے، اُلٹا جو ہمارے پاس پاور پروجیکٹ تھے وہ بھی اُن کے حوالے کردیئے۔آج سوشل میڈیا پر وہ خطوط وائرل ہیں جن پر مرکزی وزیر بجلی نے محبوبہ مفتی کو ریٹلے پروجیکٹ مرکز کو سونپنے کیلئے لکھے تھے، اگر محبوبہ مفتی نے اُس وقت انکار کیا ہوتا تو آج فائل گورنر صاحب کے ٹیبل پر نہیں ہوتی۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ سابق مخلوط حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ریاست میں بہت سارے مسائل نے جنم لیا جنہیں عوامی مفاد کے پیش نظر دور کرنے کی انتہائی ضرورت ہے تاہم اس کے لیے صرف ایک پارٹی کا حکومت سازی میں آنا ضروری ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ریاست جموں وکشمیر سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاؤرز ایکٹ کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت لازمی ہے۔مرکزی سرکار کے ساتھ افسپا سے متعلق بات چیت ناگزیر ہے کیوں کہ یہ قانون مرکزی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذااُن کے بغیر اس قانون کو ریاست سے دفع نہیں کیا جاسکتا۔اگر نیشنل کانفرنس اقتدار میں آگئی تو ہم اولین فرصت میں اس قانون کو منسوخ کرنے کے حوالے سے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ افسپا کے علاوہ اور کئی ایسے قوانین یہاں نافذ ہیں جن کو منسوخ کرانا ریاستی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذا ایسے قوانین کو ہم ختم کیوں نہیں کرسکتے؟کشمیری نوجوانوں کی طرف اپنی بات کا رخ موڑتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے کیوں کہ ایسے میں اُن کے والدین اور رشتہ دار در در کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور ہوجاتے ہیں
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
