تازہ ترین
برطانوی موسیقار سر سائمن ریٹل کا جرمن شہریت کے حصول کا فیصلہ
برطانوی میوزک ڈائریکٹر سر سائمن ریٹل کا شمار دنیا کے بہترین موسیقاروں میں ہوتا ہے۔ اس وقت وہ لندن سمفنی آرکیسٹرا کے میوزک ڈائریکٹر ہیں اور اب انہوں نے جرمن شہریت کے حصول کے لیے درخواست دے دی ہے۔
سر سائمن ریٹل کی عمر اس وقت 65 برس ہے اور ان کا جرمنی کے ساتھ ہمیشہ ہی سے ایک خاص تعلق رہا ہے۔ وہ اس وقت برطانیہ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ لندن سمفنی آرکیسٹرا کے میوزک ڈائریکٹر ہیں اور 2023ء تک وہ وہاں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
میونخ میں سمفنی آرکیسٹرا کے چیف میوزک ڈائریکٹر
سر ریٹل کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں جرمن شہر میونخ کے سمفنی آرکیسٹرا اور جرمن صوبے باویریا کے نشریاتی ادارے باویرین براڈکاسٹنگ کے کوائر کے چیف میوزک ڈائریکٹر ہوں گے۔ میونخ میں ان کے کنسرٹس کا آغاز 2023ء اور 2024ء کے سیزن سے ہو گا۔
سائمن ریٹل برطانیہ کے شہری ہیں اور موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں برطانوی ملکہ کی طرف سے سر کا خطاب بھی دیا جا چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی برطانوی شہریت بھی آئندہ اپنے پاس رکھنا چاہیں گے کیونکہ دوسری صورت میں ان کے لیے ”ایسا کرنا جذباتی طور پر ناممکن ہوتا۔‘‘
‘فیصلہ موسیقی کی وجہ سے بھی اور ذاتی نوعیت کا بھی‘
سر سائمن ریٹل کے اس اعلان نے کہ وہ قریب ڈھائی سال بعد لندن سمفنی آرکیسٹرا چھوڑ کر میونخ سمفنی آرکیسٹرا سے وابستہ ہو جائیں گے، برطانیہ میں کلاسیکی مغربی موسیقی کے ماہرین اور شائقین کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔
ان کے اس اعلان کے بعد یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ان کے اس فیصلے کا تعلق برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ سے ہو۔
اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اپنے اس فیصلے کی کوئی بھی سیاسی وضاحت کرنا بہت آسان ہوتا، ”لیکن سچ تو یہ ہے کہ میرا یہ فیصلہ موسیقارانہ نوعیت کا ہے اور بہت ذاتی نوعیت کا بھی۔‘‘
اہل خانہ طویل عرصے سے برلن میں
سر سائمن ریٹل اور ان کی چیک جمہوریہ سے تعلق رکھنے والی موجودہ اہلیہ ماگڈالینا کوزینیا لندن میں رہتے ہیں۔
کوزینیا بھی کلاسیکی مغربی موسیقی کی دنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ سر سائمن ریٹل کے تین بچے ہیں، جو سب جرمن دارالحکومت برلن میں رہتے ہیں۔
سر ریٹل کہتے ہیں، ”جب میں اور میری اہلیہ برلن میں اپنے گھر پر ہوتے ہیں تو ہمارے بچوں کے چہرے کھلنے لگتے ہیں۔ جرمنی میں میرا گھر برلن میں ہے اور میرا خاندان طویل عرصے سے وہاں رہتا ہے۔ میں میونخ سمفنی آرکیسٹرا کا چیف میوزک ڈائریکٹر ہوتے ہوئے بھی برلن میں ہی مقیم رہوں گا۔‘‘
ان کے مطابق، ”میرا گھر برلن ہے لیکن میں لندن کے ساتھ اپنا رابطہ بھی پوری طرح ختم نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
برطانیہ پر تنقید بھی
سر سائمن ریٹل برطانیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کے ثقافتی منظر نامے کا حصہ بننا کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ اب لیکن صورت حال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور صبر آزما ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا، ”بریگزٹ کے بعد اب برطانوی فنکاروں کو یورپ آ کر کام کرنے کے لیے ویزا لینا پڑے گا۔ یوں کسی بھی موسیقار کی زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔‘‘ سر ریٹل نے کہا کہ وہ اپنے لیے جرمن شہریت کے حصول کی درخواست دے چکے ہیں۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
بڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
سری نگر، جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے بالائی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران پاکستانی لشکر طیبہ کے مشتبہ دہشت گرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
یہ جھڑپ منگل کی دیر رات یوسمرگ کے کورگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم شروع کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔
فوج نے بتایا کہ ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس نے یوسمرگ کے کورگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی تھی۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’چوکس فوجیوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
فوج اور پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم سکیورٹی ذرائع کو شبہ ہے کہ وہ پاکستانی شہری تھا اور لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔اس ماہ بڈگام کے جنگلات میں یہ دوسری جھڑپ ہے۔
4 ستمبر کو یاسر نامی ایک پاکستانی شہری، جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور مبینہ طور پر کئی برس سے جموں و کشمیر میں سرگرم تھا، بڈگام کے بلند پہاڑی علاقے اشدر گلی میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز کو شبہ تھا کہ اس جھڑپ کے دوران ایک اور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ 4 ستمبر کی جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڈگام کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں مشتبہ جنگجو کا سراغ لگانے کے لیے تلاشی مہم مزید تیز کر دی تھی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا
ماسکو، برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برنہم نے منگل کو لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک نئے قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم اگلا انتخاب انتخابی نظام میں تبدیلی کے عزم کے ساتھ لڑیں گے، تاکہ ہر شخص کے ووٹ کی اہمیت ہو اور ہر شخص کی آواز سنی جائے۔‘‘
برنہم نے زور دے کر کہا کہ صرف 30 فیصد ووٹروں کی حمایت سے حکومت بننا ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی سطح کے پیش نظر برطانیہ نہ تو اپنے داخلی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ایک باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔ برنہم نے بتایا کہ وہ 10 برس میں ملک کے ساتویں وزیر اعظم ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا، ’’ہم کسی طرح کی ایک کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جس میں شاید 10 افراد ہوں… تاکہ یہ کمیٹی پورے شعبے کی نگرانی کر سکے۔‘‘
صدر نے یقین ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ’’اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘ اور مزید کہا کہ اگر انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو اپنی نگرانی اور ضابطے کے لیے ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ اقدامات کرنے ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک کے 2 ملازمین نے اپنی رائے ظاہر کی کہ آئندہ 10 برس کے دوران مصنوعی ذہانت کے انسانیت کو تباہ کرنے کا امکان 10 فیصد ہے۔
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تیاری میں عالمی سطح پر رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
امریکی ارب پتی ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔
14 ستمبر کو ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا پر قبضہ کر لے گی اور انسانیت کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ صدر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
