ہندوستان
بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے قوم کو متحد ہوکر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے: شیخ حسینہ
نئی دہلی، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے آبائی ملک میں ہونے والے انتخابات سے چند ہفتے قبل، جہاں ان کی پارٹی کو انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا ہے، بنگلہ دیش کے اپنے ہم وطنوں کو اگست 2024 میں اپنی معزولی کے بعد قائم ہونے والی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ پلٹنے” کے لیے متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جمعہ کے روز یہاں ایک بڑی پریس کانفرنس سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے ڈھاکہ میں عبوری حکام پر ملک کو انارکی (خلفشار) میں دھکیلنے اور جمہوریت کو شدید خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔
یہ ڈھاکہ میں 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش سے فوجی طیارے کے ذریعہ ہندوستان وارد ہونے کے بعد شیخ حسینہ کی پہلی میڈیا کانفرنس تھی۔ وہ گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ملک میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اگرچہ شیخ حسینہ ماضی میں چند ای میل انٹرویوز دے چکی ہیں، لیکن انہوں نے اپنی برطرفی کے بعد کبھی پریس کانفرنس نہیں کی۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ قوم کو بنگلہ دیش میں محمد یونس کی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے متحدہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
شیخ حسینہ نے کہا ”پوری قوم کو محمد یونس کی قیادت میں اس کٹھ پتلی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ وہ تمام قوتیں جو 1971 کے جذبے کی حامی ہیں، وہ یونس حکومت کے غداری پر مبنی عزائم کا مقابلہ کریں۔”
انہوں نے ایک غیر جانبدار حکومت کی بحالی، روزانہ کے تشدد اور لاقانونیت کے خاتمے، اقلیتوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ”پریس اور اپوزیشن کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مبنی کارروائیوں” کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں طلبہ کے احتجاج کے دوران اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش کو ایک ایسی ”غداری پرمبنی سازش” کا سامنا ہے جس کا مقصد ”ملک کے علاقے کا سودا کرنا” ہے، اور متنبہ کیا کہ ملک کی سالمیت اور اتحاد خطرے میں ہے۔
موجودہ صورتحال کو خوف، جبر اور معاشی بدحالی سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”بنگلہ دیش آج ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں خون بہہ رہا ہے۔” عوامی لیگ کی سربراہ نے کہا کہ 5 اگست 2024 کو ان کی برطرفی کے بعد سے ملک لاقانونیت کا شکار ہو گیا ہے۔ شیخ حسینہ نے الزام لگایا کہ ” شدت پسندوں اور محمد یونس نے مجھے زبردستی نکال باہر کیا۔ اس دن سے ملک انارکی میں ڈوب گیا ہے،” انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اداروں کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ نے موجودہ بنگلہ دیش کو ”وسیع قید خانہ” قرار دیا، جہاں عام لوگ روزانہ کے تشدد، عدم تحفظ اور معاشی تنگی کے درمیان بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور موجودہ نظام کے تحت خواتین اور اقلیتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافے کا الزام لگایا۔ عوامی لیگ کے مطالبات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ ان کی جماعت غیر جانبدار حکومت کی بحالی، تشدد اور لاقانونیت کے فوری خاتمے، اور شہری و انتظامی خدمات کی مناسب فعالیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنائیں، پریس اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کریں اور عدلیہ کی آزادی کو بحال کریں۔
سابق وزیراعظم نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کو گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے مدعو کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بین الاقوامی جانچ ناگزیر ہے۔
شیخ حسینہ نے پریس کانفرنس میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا جہاں ہندوستانی اور غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔ تاہم، بنگلہ دیش کے سابق وزیر تعلیم محب الحسن چودھری نوفل نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ عوامی لیگ موجودہ عبوری انتظامیہ کو کس طرح ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا “ہم خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا کرنے کے لیے فوج سے نہیں لڑنا چاہتے ہيں، جس سے یہ ظاہر ہے کہ “لڑائی” جمہوری طریقے اور احتجاج کے ذریعے ہوگی۔”
ڈھاکہ میں عبوری حکام نے شیخ حسینہ کے الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
