جموں و کشمیر
بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پراقوام عالم کو تشویش
تناﺅکو کم کرنے میںتعاون اورثالثی کی پیشکش
امریکہ ،روس ،برطانیہ ،چین،سعودی عرب اور گروپ7ممالک پیش پیش
سرینگر:جے کے این ایس : بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں شدت آنے کے بعد امریکہ ،روس ،برطانیہ ،چین،سعودی عرب اور گروپ7نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور براہ راست مذاکرات کی کوششیں تیز کردی ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو غلط حساب کتاب سے بچنے کے لئے کشیدگی کو کم کرنے اور براہ راست مواصلات کو دوبارہ قائم کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے۔واشنگٹن نے مزیدکہاکہ دونوںملکوںکومستقبل کے تنازعات کو ٹالنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت کی سہولت فراہم کرنے میں امریکہ اپنی جانب سے تعاون فراہم کرنے کو تیارہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹمی بروس نے ہفتہ کی صبح ایک بیان میں کہاکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیونے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کےساتھ الگ الگ بات کی، ۔بدھ کے اوائل میں بھارت کے آپریشن سندور اور اس کے بعد پاکستان کی جانب سے 15 بھارتی شہروں پر حملے کی ناکام کوشش کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرخارجہ ایس جے شنکر کےساتھ اپنی بات چیت میں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیون نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریقوں کو غلط اندازے سے بچنے کے لیے کشیدگی کوکم کرنے اور براہ راست مواصلات کو دوبارہ قائم کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے۔ روبیو نے مستقبل کے تنازعات کو ٹالنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکی حمایت کی مزید تجویز پیش کی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ بات چیت میں، مارکوروبیو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کو موجودہ صورتحال کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہوں گے اور غلط حساب کتاب سے بچنے کے لیے براہ راست رابطے کو دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ روبیو نے مستقبل کے تنازعات سے بچنے کے لیے تعمیری مذاکرات شروع کرنے میں امریکی مدد کی پیشکش بھی کی۔اس سے قبل، امریکی وزیرخارجہ روبیو نے پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر سے بات کی تھی اور انہوں نے مستقبل کے تنازعات سے بچنے کے لیے تعمیری بات چیت شروع کرنے میں امریکی مدد کی پیشکش کی تھی۔ اس دوران ،روس ،برطانیہ ،چین،سعودی عرب اورایران نے بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کوکم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں جبکہ جی7 ممالک نے پاک بھارت تنازع میں ’فوری طور پر تناو ¿ کم کرنے‘ کا مطالبہ کیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام کے جی 7 گروپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ میں فوری طور پر کمی اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ کیا، کیونکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔7 دولت مند جمہوریتوں کے وزرائے خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ ہندوپاک کے درمیانمزید فوجی کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو پرامن نتائج کے لیے براہ راست بات چیت میں مشغول ہونا چاہیے۔کینیڈا نے جی 7 کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں کہاکہ ہم فوری طور پر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں اور دونوں ممالک کو پ ±رامن نتائج کے لیے براہ راست بات چیت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوںنے مزیدکہاکہ ہم واقعات کی قریب سے نگرانی کرتے رہتے ہیں اور ایک تیز اور دیرپا سفارتی حل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہیں ۔بیان میں کہا گیاکہ ہم، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جی7 وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے اعلی نمائندے، 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے خوفناک دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہندوستان اور پاکستان دونوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے پر زور دیتے ہیں۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
سری نگر میں پاکستانی لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو پناہ دینے والی جائیداد این آئی اے نے ضبط کی
سری نگر، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو سری نگر میں ایک رہائشی جائیداد کو ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے مبینہ طور پر وابستہ سرحد پار دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس جائیداد کا استعمال پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مجرمانہ شواہد چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے بتایا کہ سری نگر کے حضرت بل علاقے کے گاؤں دانی ہامہ میں واقع یہ رہائشی جائیداد ملزم غلام محمد میر عرف ماما گیس کی ملکیت ہے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 25 کے تحت جائیداد ضبط کی گئی۔
ایجنسی کے مطابق سال 2026 کے اس معاملے کی تحقیقات سے جائیداد اور مبینہ دہشت گردانہ سازش کے درمیان براہ راست تعلق ثابت ہوا ہے۔
این آئی اے نے بتایا کہ یہ معاملہ ابتدائی طور پر 31 مارچ 2026 کو سری نگر کے زکورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ایجنسی نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دوبارہ درج کیا۔
ایجنسی کے مطابق، تحقیقات میں مقامی اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کے ایک ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے سرغنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی، نقل و حرکت، قیام اور دیگر ضروری انتظامات میں مدد فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ سرکاری اداروں، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ 6 اپریل 2026 کو حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں میر کی رہائشی جائیداد پر تلاشی کے دوران دو مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کا پتہ چلا، جن کی شناخت ابو ہریرہ اور خبیب کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ تھے۔
ایجنسی نے کہاکہ ”جائیداد سے دھماکہ خیز مادے جیسا ایک مشتبہ مادہ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مجرمانہ شواہد بھی برآمد کرکے ضبط کیے گئے۔ تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے اپنی رہائشی جائیداد ان کے حوالے کی تھی اور انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے اس جائیداد کے استعمال کی اجازت دی تھی۔”
انسداد دہشت گردی کی ایجنسی نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانا اور اسے بے نقاب کرنا ہے۔ اس میں دیگر اوور گراؤنڈ ورکرز، سہولت کاروں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد سرغنوں سے وابستہ افراد کی شناخت بھی شامل ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
ستمبر میں لداخ کی سیاحت میں 60 فیصد اضافہ، 55 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد
سری نگر، لداخ میں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ستمبر میں یہاں 55,582 سیاح پہنچے، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ تعداد 34,610 تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں سیاحوں کی آمد میں 60.60 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
عہدیداروں کے مطابق، یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 کے دوران لداخ آنے والے سیاحوں کی تعداد 4,60,667 رہی، جبکہ پورے سال 2025 میں یہاں 3,35,872 سیاح آئے تھے۔ اس طرح 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں ہی سیاحوں کی آمد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں 37.16 فیصد زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام میں ابھی تین ماہ باقی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ثقافتی تجربات، مہم جوئی پر مبنی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور قدرتی ورثے کے باعث لداخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سیاحوں کی آمد میں اس نمایاں اضافے کا سہرا بہتر رابطہ سہولتوں اور مختلف تقریبات کے فروغ کو دیا۔ ان تقریبات میں لداخ بائیک ویک، لداخ میراتھن اور لداخ فیسٹیول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ بلندی پر واقع للیئم پھولوں کے کھیتوں اور ہندوستان کی پہلی بلند پہاڑی جنگلی حیات کی سفاری جیسی نئی اور منفرد اقدامات نے بھی لداخ کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ سال اور رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے اعداد و شمار کا تقابل بھی سیاحت میں نمایاں اضافے کی تصدیق کرتا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران لداخ میں 2,78,599 سیاح آئے تھے، جبکہ اسی مدت میں 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 4,60,667 ہوگئی۔ اس طرح سیاحوں کی آمد میں 65.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی اور غیر ملکی، دونوں زمروں کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں لداخ آنے والے ملکی سیاحوں کی تعداد 4,20,927 رہی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 39,740 تھی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی اسی مدت کے دوران 3,03,838 ملکی اور 32,034 غیر ملکی سیاح لداخ پہنچے تھے۔ اس طرح ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 38.54 فیصد اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 24.06 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا جموں میں انتقال
جموں، جموں و کشمیر کے سابق وزیر ہربنس سنگھ کا پیر کے روز یہاں ایک نجی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔
ہربنس سنگھ نے 1996 سے 2002 تک اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں انہیں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہربنس سنگھ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے آنجہانی کی نمایاں خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
عمر عبداللہ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے ابدی سکون کے لیے دعا کی۔
ہربنس سنگھ پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔
یواین آئی۔ ظا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا1 week agoروس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
