تازہ ترین
بھارت میں بڑھتی گرمی : پیڑ کہاں سا یہ کہاں پانی کہاں؟
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
خا لق کا ئنات نے اپنی مخلوق کے لیے ہر ضرورت کی چیز پیدا فر مائی، سب کی ضروریات الگ الگ ہیں کچھ ضروریات تو تمام مخلوق کی ایک ہی طرح کی ہیں جیسے ہوا، پانی اور آکسیجن(ہوا اور پانی کا وہ جز جس پر روشنی اورزندگی موقوف ہے۔) انسان ہو یا جانور ہر جاندار کو اس کی ضرورت ہے ،یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلا آکسیجن کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، اس کے بغیر موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور یہ انمول شئے(نایاب چیز) اللہ رب العزت نے درختوں، پو دوں میں رکھی ہے یاد رہے آکسیجن درختوں اور پو دوں کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی ہے۔ اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی انسان کتنا نادان اور ظالم ہے جو چیز اسے درختوں اور پودوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی اسی کو ختم کرتے جارہاہے( اسی کو کہتے ہیں آ بیل مجھے مار ، نہیں بلکہ دوڑ کے مار) پیڑ ، پودے انسان کی اہم ضرو ریات میں شامل رہے ہیں اور رہیں گے جب سے دنیا میں انسان نے آنکھ کھو لی ہے، درخت اس کی بنیادی ضرو یات میں شا مل رہے ہیں۔انسان کی یہ بڑی بھول ہے کہ ہم ہر چیز کے مالک ہیں، یہ صفت صرف خالق کائنات کی ہے۔ *اَ للَّہُ خَا لِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وّ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ*( القرآن،سورہ39،آیت62) تر جمہ: اللہ ہر چیز کا پیدا کر نے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے آسما نوں زمین کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جو اس کی ملکیت کا انکار کرتا ہے اور اپنا قبضہ جماکر کسی چیز کو بے دریغ استعمال کرتا ہے وہی نقصان اور گھا ٹا اٹھا تا ہے۔درختوں کو پیدا فر مانے کی بہت سی ضرورت و حکمت قرآن مجید میں مطا لعہ فر مائیں۔تر جمہ: وہ کون ہے جس نے آ سمانوں اور ز مینوں کو پیدا فر مایا اور تمھا رے لیے آسمانی فضا سے پانی اتا را، پھر ہم نے اس پانی سے تازہ اور خوشنما باغات اگا ئے؟ تمھارے لیے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کو ئی(اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو( راہ حق سے)پرے ہٹ رہے ہیں۔( القرآن، سورہ نمل27،آیت60) کل کائنات کو پیدا کر نے والا سب کو روزی دینے والا تمام جہان کی تد بیر کر نے والا، صرف اللہ تعا لیٰ ہے، کھیتیاں، باغات، پھل ،پھول، دریا ،سمندر،حیوانات،خشکی،تری کے تمام جاندار اللہ نے پیدا کئے۔آسما نوں سے پانی برسا کر اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ کھیتیاں ،باغات سب وہی اگاتا ہے جو خو بصورت منظر ہونے کے علا وہ بہت کار آمداور مفید ہوتے ہیں خوش ذائقہ ہو نے کے ساتھ زندگی کو قا ئم رکھنے والے ہیں۔ انسانوں اور دوسری مخلوق کی روزی اور زندگی کی دوسری ضرو ریات کے لیے خالق کائنات نے کھیتاں باغات پیدا فرمائے۔ لیکن انسان ایسا جا ہل اور ظا لم ہے کہ اپنی بر باد ی کا سامان خود کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نے انسان کی اس فطرت کا ذکر کیا ہے۔سورہ احزاب آیت 72، بیشک انسان اپنی جان پر بڑی زیا دتی کر نے والا ہے۔ بے تحا شہ جنگلوں کی کٹا ئی نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ اللہ کی دوسری مخلوق کے لیے پریشانی باعث ہے۔
*شجر کاری کے فوائد:
قرآن کریم نے شجر کاری کےساتھ معیشت اور خوش حالی کے گہرے تعلق کاذکر بڑے خوبصورت لفظوں میں کیا ہے۔حسن فطرت کی رعنا ئیاں، دلکش منا ظر جس سے آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور دل ودماغ کو قوت ملتی ہے، باغات کا ذکر فر ما کر قرآن نے پیڑ پو دوں کی اہمیت بتائی۔روئے زمین پرجا بجا پھیلے پیڑ پودے بنی نوع انسان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ ماحو لیاتی آلود گی کو کم کرتے ہیں، سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا تے ہیں،زمین کے کٹا ئو کو روکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کسی بھی ملک کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کم ازکم 25 فیصدجنگلات کا ہو نا بہت ضروری ہے ور نہ ماحول کی آلود گی انسانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔بد قسمتی سے ہما رے ملک ہندوستان میں جنگلوں کی کٹائی بہت ہو رہی ہے،اور جنگل مافیا ویرپن سے لیکرآج تک سینکڑوں ویرپن جنگلوں کو ویران بنا رہے ہیں اور اس بہتی گنگا میں نیچے سے لیکر اوپرتک سب رین کوٹ پہن کر نہا رہے ہیں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔انسان اپنے تعیش کے لیے قدرتی نظام کو بر باد کررہا ہے یہ بہت بڑی بھول ہے، نظام الٰہی نے خود انسانوں کوآرام پہچانے کا بندو بست کردیا ہے جس کا کو ئی نعم ا لبدل نہیں-
درخت جس رفتار سے کاٹے جارہے ہیں اس کے نتا ئج میں آج فضا میں آکسیجن کم اور کار بن ڈائی آکسائیڈ (CARBON DIOXIDE) زیا دہ ہور ہی ہے،قدرت کا اعلیٰ نظام دیکھئے درخت کار بن ڈا ئی آکسائیڈ بطور خو راک استعمال کرتے ہیں اگر درخت کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ فضا میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے گی اور گلوبل وار منگ یعنی زمینی تپش میں اضا فہ ہوجائے گااور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔آکسیجن پیدا کر نے کے لیے قا بل ذکرکوئی ٹکنا لوجی مو جود نہیں ہے۔ اور جو قدرتی آکسیجن مو جود ہے جس کی ضرورت سب کو ہے،اسی کو بچانے کے لیے قابل قدر کوئی کام نہیں ہے بہت لمحہ فکریہ ہے عوام حکو مت پر نظریں لگائے ہو ئے ہیں حکو متوں کا حال سب کو معلوم ہے بھینس کے آ گے بین بجائے، بھینس کھڑ ی پگور ائے و الی مثال ہے۔درختوں سے انسانوں کو بے شمار فوائد ہیں زندگی سے لیکر معاشی فوائد بھی ہیں، معاشی فوائد میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسا نوں کو قدم قدم پر کام آتی ہے، فر نیچر بنا نے سے لیکر، جلانے کے کا م آتی ہے ، یہاں تک کہ بعد مرنے کے قبر کے استعمال میں بھی لکڑی کام آتی ہے۔ درختوں کی شاخیں پتے جانوروں کی خوراک کے کام آتے ہیں، سوکھے پتوں سے کھاد بنتی ہے، پھلوں سے لیکر پھو لوں، بچوں کے کھیلنے کے لیے سایہ دار جگہ کی ضرورت کے لیے درختوں کی ضرورت پڑ تی ہے، درختوں سے طرح طرح کی لکڑیاں ملتی ہیں جو مختلف کاموںمیں کام آتی ہیں درختوں سے ہمیں شہد، پھل،، روغنیات،اور دوائوں کے لیے جڑی بو ٹیاں اور مختلف قسم کے ریشے، لاکھ، گوند، گندہ بروزہ،ابریشم، کاغذ بنا نا کرنسی نوٹ( رو پیے) بھی انھیں درختوں کی دین ہیں،شدید دھوپ میں انسا نوں ،جانوروں کو سایہ انھیں درختوں سے نصیب ہو تا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہر معاشرے میں درختوں کی بہت قدرو قیمت اور ضرورت ہوتی ہے۔
*نبوی تعلیمات:
احا دیث طیبہ میں بھی پیڑپو دوں کی اہمیت کو بتایا گیا ہے ۔آقا ﷺ نے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے اور دوران جنگ میں بھی پھل دار اور سایہ دار درختوں کو کاٹنے سے سخت منع فر مایا ہے۔ہم اور آپ زرا( تھوڑا) غور کریں کہ ہم کس در جہ میں ہیں۔شجر کاری کر نے وا لوں سے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے،رحمت عا لم ﷺ نے فر مایا: کہ مسلمان کوئی درخت لگا ئے یا کھیتی لگا ئے اور اس میں سے انسان، درندہ، پرندہ یا چو پا یا کھائے تو وہ اس کے لیے صد قہ ہو جاتاے۔( مسلم ) اس حدیث پاک سے شجر کاری کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ شجر کاری میں بہت خیر ہے،ایک اور حدیث پاک میں اس طرح سے ہے آپ ﷺ فر ماتے ہیں جس کے پاس زمین ہو اسے اس ز مین میں کاشتکاری کر نی چا ہیے،اگر وہ خود کا شت نہ کر سکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے،تاکہ وہ کاشت کاری کرے۔( مسلم ،حدیث:1536)
*اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:
اللہ نے اپنے بندوںکو بے شمار نعمتوں سے نوازہ ہے ،اعلان الٰہی ہے۔(القرآن،سورہ14،آیت34) تر جمہ:اور اللہ نے تمھیں ہر وہ چیز عطا فر مادی جو تم نے اس سے مانگی،اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کر نا چاہو(تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی نا شکر گزارہے،راحت وآرام والی نعمتوں کا اظہار بطور خاص فر مارہاہے اور یادد لا رہاہے۔سبھی جانتے ہیںدرختوں سے ہی سایہ نصیب ہو تا ہے اور فرحت بخش ہوا نصیب ہو تی ہے،ایک مقام پر زیتون کے درخت کے فوائد کا ذکر قرآن کریم اس طرح فر مارہا ہے۔وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآ ئَ تَنْبُتُ بِا لدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰ کِلِیْنَ ۔(القرآن،سورہ مومنون23،آیت20) تر جمہ:اور (پیداکیا) وہ درخت جو طور سینا پہاڑپر نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن ہے۔ زیتون کے درخت کو مبا رک درخت قرار دیا گیا، سورہ نور آیت 35۔اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں شجر کاری کے بہت فوائدو اہمیت بتا ئی گئی ہے۔
*گلو بل وار منگ کے نقصانات:
مو جودہ حالات میں ماحو لیات کی آلود گی سے سینکڑوں پریشانیاں لاحق ہیں خطر ناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں کینسر، ہیپا ٹا ئٹس،ٹی بی، کھانسی،اور سانس کی بہت سی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیںآلودگی کی وجوہات میں سے انڈ سٹر یوں سے زہریلا دھواں اور پانی کا نکلنا، بے تحاشا جنگلات کی کٹائی سے جنگلات کی کمی اور پلاسٹک بیگیز کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔گلوبل وار منگ یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضا فہ موجو دہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
*زمینی تپش کے نقصانات:
زمینی حرارت(گرمی) زیادہ ہونے کے باعث بر فانی تودے اور گلیشیرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیںاور سب سے بڑا خطرہ اوزون لیئر (O Zone Layer)کو خطرہ بڑھتے جارہاہے،اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے فضا میں ایک گیس پیدا کیاہے۔جو زمین سے دس کیلو میٹر کی اونچائی سے شروع ہو کر پچاس کیلو میٹر تک جو حصہ ہے اس میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک باریک سبز رنگ کی گیس ہے جسے اوزون تہہ یا لیئر کہتے ہیں یہی تہہ ہے،جو زمین کو سورج کی خطر ناک زہریلی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے، ماحولیاتی آلود گی میں بڑھتے ہوئے اضافے سے اوزون پرت کو بہت نقصان پہنچا ہے اس سے بھی بہت بیماریاں بڑھ رہی ہیں خاص کر جلدی بیماریاں،اسی وجہ کر سخت گر می بڑھ رہی ہے جس سے ان گنت مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اللہ رب ا لعزت نے اس کرہ ارض میں کوئی ایسی چیز نہیں پیدا فر مائی جو انسانوں وتما م مخلوق کے فائدے و فلاح کے لیے نہ ہو، لیکن اس کے باوجود انسان رب کے بنائے ہوئے قوانین اور طریقوں میں تبدیلی کا مر تکب ہو رہا ہے جس کے چلتے موسم میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور انسانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ چند برسو ں میں سیلابوں کی وجہ کر دنیا کا برا حال رہاہے ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، پا کستان،جاپان، امریکہ، ابھی حال ہی میں امریکہ میں شدید طوفان وبارش سے سیلاب نے زبر دست تباہی مچائی تھی اور جاپان میں بھی،خود کر دہ را علاج/ علاجے نیست ۔خود کے کئے کا کوئی علاج نہیں-
*حکیمانہ نظام:
رب کائنات نے اس عظیم کائنات میں ہر چیز کو ایک خاص نظام وتر تیب کے تحت بنایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(القرآن،سورہ انبیاء21،آیت16)تر جمہ: اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر(بے کار) نہیں بنایا۔ اگر نظام الٰہی میں بگاڑ پیدا کر نے کی کو شش کی گئی تو اس سے خود ہمیں اور ہمارے ماحول کو نقصان ہوگا،اور ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ بھوگ بھی رہے ہیں، ارشاد الٰہی ہے کہ۔تر جمہ:اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین پر فساد مت پھیلائو،تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر تے ہیں۔ اور جو لوگ فساد پھیلانے وا لے ہیں ایسے لو گوں پر خدا کی لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(القرآن)اسلام کی پا کیزہ تعلیم انسا ن و کو دین ودنیا کا سکون دیتی ہے اور دین ودنیا کی کامیابی کی بھی ضامن ہے –
*ذمہ داری:
اسلام صفائی وستھرائی کا حکم دیتا ہے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو اور آب و (پانی) ہوا خراب نہ ہو تاکہ انسان صحت مند و تندرست رہے، تندرست مو من اللہ کو پسند ہے۔(حدیث)گلو بل وار منگ سے جو زمینی گر می بڑھ رہی ہے اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہم سب کوچا ہیے اس پر غور کریں ہر انسان کم از کم پانچ درخت لگائے،ہر انسان اپنے حصے کا کام کرے دوسرے پر انحصار نہ کرے،اپنے لیے اوراپنے آنے والے نو نہالوں(نسلوں) کے لیے کچھ تو کریں پرانے پیڑکی کٹا ئی سے حتی الا مکان پر ہیز کریں۔دنیا میں کئی ایسی چیزیںہیں جن کی وجہ سے دنیا قا ئم ہے ان میں سے شجر کا ری بھی ہے۔شجر کاری ہر دور کے انسان کے لیے اہم رہی ہے اور موجودہ دور میں تو اس کی اہمیت ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا ئے جا ئیں۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اورآنے والی نسل کو بھی شجر کاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرایا جائے۔
رابطہ:hhmhashim786@gmail.com
دنیا
امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
بغداد، عراق امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے موقع پر چار روزہ قومی تعطیلات ’’یومِ خودمختاری‘‘ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم دو دہائیوں سے زائد عرصے کی غیر ملکی فوجی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ بغداد کو ایک نئی اور پیچیدہ سکیورٹی صورتحال میں توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
بدھ کو امریکی فوج کے انخلا کی آخری تاریخ مقرر ہے، جس کے تحت عراق میں موجود چند سو امریکی فوجی بھی ملک سے روانہ ہوں گے۔ یہ فوجی 2015 میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے بین الاقوامی اتحاد کے آپریشن میں مشاورتی کردار ادا کر رہے تھے۔
وزیر اعظم علی الزیدی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی امریکی انخلا کا منصوبہ طے ہو چکا تھا، تاہم یہ عراق کی ریاستی عمل داری دوبارہ مضبوط کرنے کے ان کے وسیع تر منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ اس منصوبے میں جون 2027 تک ملک کی تمام ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں تیز کرنا بھی شامل ہے، جن میں ایران نواز کئی طاقتور گروپ بھی شامل ہیں، جو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران خطے میں حملے کر چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے الزیدی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ امن اور جنگ کے معاملات میں ریاست ہی حتمی فیصلہ ساز ہو اور ہتھیار اور طاقت کے ذرائع آئینی اداروں کے ہاتھ میں رہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے ساتھ ہم اپنے تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جا رہے ہیں، جہاں فوجی تعاون سے اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کی طرف منتقلی ہوگی تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات پورے ہوں۔‘‘
عراق میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان کے مطابق امریکی انخلا ایران سے وابستہ بااثر ملیشیاؤں کو ’’سیاسی طور پر کمزور‘‘ کرنے کی الزیدی کی حکمت عملی کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
ان ملیشیاؤں نے طویل عرصے سے عراق میں امریکی فوج اور ترکی جیسے دیگر غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو اپنے ہتھیار اور الگ کمانڈ ڈھانچہ برقرار رکھنے کا جواز قرار دیا ہے۔ بعض گروپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کریں گے۔
سلیمان کے مطابق وزیر اعظم عراقی عوام کے سامنے یہ سیاسی جواز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے زیادہ زیر اثر وہ گروپ، جنہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر ہتھیار استعمال کیے، اب ان ہتھیاروں کو رکھنے کی سیاسی وجہ نہیں رکھتے۔
تاہم ان کے بقول یہ ایک خطرناک اور پیچیدہ حکمت عملی ہے، جس سے ایران کو عراق میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے اور مستقبل میں ملک کے اندر شدید محاذ آرائی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ اگر عراق میں موجود گروپ امریکی مفادات کو نشانہ بناتے رہے تو واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر مزید دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔
امریکی قیادت میں ’’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘‘ کے خاتمے کے بعد عراقی حکومت جس انداز میں نئی صورتحال سے نمٹے گی، اس کے ملک کی آئندہ سکیورٹی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
2017 میں داعش کی علاقائی شکست کے بعد عراق گزشتہ چند برسوں میں نسبتاً مستحکم رہا ہے، اگرچہ اس کی سرحدیں مسلسل تنازعات اور عدم تحفظ سے گھری رہی ہیں۔ 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد بھی یہ استحکام بڑی حد تک برقرار رہا۔ 2025 کے اختتام تک باقی امریکی فوجی شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں اربیل کے ایک فضائی اڈے پر محدود ہو گئے تھے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
قطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
نیویارک، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کے لیے قطری ثالثوں کی کوششوں میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ مذاکرات سے واقف تین افراد نے ’ایکسیوس‘ کو یہ اطلاع دی۔
مذاکرات میں تعطل نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ تنازع دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔
قطری حکام کی ثالثی جاری رکھنے کی توقع ہے، تاہم دو ذرائع نے بتایا کہ دوحہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے رویے سے بتدریج مایوس ہوتا جا رہا ہے۔
قطری ثالث علی الثوادی نے پیر کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کے ساتھ کئی گھنٹے مذاکرات کیے۔
مذاکرات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز بھی شامل تھی، جس کا مقصد ایران کے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتوں کے اصرار کے درمیان راستہ نکالنا تھا۔
پیر ہی کو الثوادی نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام سے ملاقات کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے ایک حصے میں شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ہفتے کے آغاز میں امریکی حکام نے بالواسطہ مذاکرات کو ’’مثبت اور تعمیری‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر لچک دکھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر غور کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم بعد میں ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔
ایک ذریعے کے مطابق پیر کے مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
ذرائع نے کہا، ’’معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ ایرانی ایسے مطالبات کر رہے ہیں جنہیں امریکہ قبول نہیں کرسکتا، جبکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اس لیے سمجھوتے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
پاکستان اور مصر سمیت علاقائی ثالثوں نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر رعایتیں قبول کرے۔ تاہم مذاکرات سے واقف ایک اور ذریعے کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر اسی وقت غور کرے گا جب واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر واپس آنے پر رضامند ہو۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ تہران پہلے ہی واشنگٹن کو اپنی شرائط سے آگاہ کرچکا ہے۔
ایرانی میڈیا نے ان کے حوالے سے کہا، ’’ٹرمپ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ ایسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘‘
اسی روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انہیں یقین نہیں کہ تہران ابھی رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ بہت بری حالت میں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ابھی دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ وہ دستبردار ہوجائیں گے۔ مقصد جوہری ہتھیار کو روکنا ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔‘‘
قطر نے منگل کو کہا کہ وہ ’شٹل ڈپلومیسی‘ جاری رکھے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ ’’فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ‘‘ کر رہا ہے اور کسی معاہدے کے لیے مشترکہ بنیاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تازہ ترین ثالثی کی کوشش ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کے تحت تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور سمندری آمدورفت معمول پر لانے کی پیشکش کی تھی، جس کے بدلے واشنگٹن سے بحری ناکہ بندی میں نرمی اور پابندیوں و منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یو این آئی ۔ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے سرحد پار مشکوک سرگرمیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر نگرانی بڑھائی
جموں، پاکستان میں مقیم ایک ایجنسی کے ساتھ حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں 24 سالہ ٹرک ڈرائیور کی گرفتاری کے بعد پولیس نے بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع اضلاع میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق، کٹھوعہ کے ہریا چک علاقے میں مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار بنے امن کمار کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے فوج کے ٹھکانوں، شاہراہوں، فلائی اوورز اور پلوں جیسی حساس جگہوں کی تصاویر اور معلومات پاکستانی آقاؤوں تک پہنچائیں۔ الزام ہے کہ وہ سرحد پار سے کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ معلومات اکٹھی کرکے اسے شیئر کرتا تھا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر باریکی سے نظر رکھنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس، دوسری سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ رہی ہے، خاص طور پر ان سرگرمیوں پر جن میں پاکستان میں موجود لوگوں کے ساتھ مشکوک رابطہ یا حساس سکیورٹی ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کا اہم مرکز ان لوگوں کی شناخت کرنا بھی ہے جو مبینہ طور پر یہ نیٹ ورک چلا رہے تھے اور یہ پتہ لگانا ہے کہ کون سی معلومات شیئر کی گئی تھیں اور اسے کیسے حاصل کیا گیا تھا۔
ذرائع نے کہا کہ ٹرک ڈرائیور کی گرفتاری نے ایک بار پھر ان خدشات کو اجاگر کیا ہے جو سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوششوں میں سوشل میڈیا اور آن لائن تعلقات کے استعمال کے حوالے سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں اپنی تحقیقات کر رہی ہیں اور مبینہ سرحد پار نیٹ ورک کی پوری معلومات کا پتہ لگانے کے لیے ڈیجیٹل اور مواصلاتی لنکس کی جانچ کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں سوشل میڈیا ایپس اور دوسرے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور سکیورٹی ایجنسیوں کی فہرست میں شامل مشکوک نمبروں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایسی رپورٹیں تھیں کہ سرحد کے قریب رہنے والے کچھ لوگ سرحد پار اپنے آقاؤقوں کو اہم معلومات دے سکتے ہیں اس لیے سکیورٹی ایجنسیوں الرٹ پر ہیں اور ہر مشکوک سرگرمی پر باریکی سے نظر رکھ رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جموں پولیس نے منگل کو بہار کے اصل رہائشی ایک شخص کو ارنیا علاقے میں بین الاقوامی سرحد کے پاس سے مبینہ طور پر پاکستان میں رابطہ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا کیونکہ اس کے موبائل فون میں کچھ مشکوک نمبر پائے گئے تھے۔ وہ مبینہ طور پر اپنے موبائل فون پر وی پی این سروس کا بھی استعمال کر رہا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
