جموں و کشمیر
بی جے پی کو اپنی خاندانی سیاست پر اعتراض نہیں، مگر اسی بہانے دوسروں کو نشانہ بناتی ہے: عمر عبداللہ
جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنے اندر خاندانی سیاست سے کوئی اعتراض نہیں، البتہ وہ اسی بنیاد پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتی ہے۔
جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’بی جے پی بار بار خاندانی سیاست کے خلاف بولتی ہے، مگر خود اسی سیاست کو فروغ دیتی ہے۔ نگروٹا اسمبلی حلقے میں بی جے پی نے اپنے مرحوم ایم ایل اے دیویندر سنگھ رانا کی بیٹی دیویانی رانا کو امیدوار بنایا ہے، لیکن جب یہی معاملہ کسی دوسری پارٹی میں ہو تو وہ اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 11 نومبر کو ہونے والے نگروٹا اور بڈگام اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بھرپور کامیابی کے لیے پُرعزم ہے۔ بڈگام میں پارٹی نے سابق وزیر آغا سید محمود کو جبکہ نگروٹا میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل رکن شمیم بیگم کو نامزد کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’بڈگام ہماری اپنی سیٹ ہے، اور ناگروٹا میں ہم بہتر کارکردگی دکھائیں گے کیونکہ عوام اب بی جے پی کی حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ خاندانی سیاست کے خلاف نہیں بلکہ موقع پرستی کے تحت اسے استعمال کرتے ہیں۔‘
ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں فریق بننے پر غور کر رہی ہے۔ ہم تمام پہلوؤں فائدے اور نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر محسوس ہوا کہ عدالت جانا مفید رہے گا، تو ہم ضرور جائیں گے۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے کشمیری قیدیوں کی واپسی کے لیے عدالت عالیہ میں دائر درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ معاملہ اب عدالت میں ہے، اس پر اسمبلی میں بات نہیں کی جا سکتی۔ جب کوئی معاملہ عدالت کے دائرے میں آ جائے تو اسپیکر اسے زیرِ بحث نہیں لا سکتا۔ اب ہمیں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ریزرویشن پالیسی کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہ ہو۔ کابینہ سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے، جو آئندہ میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی جائے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں میں ریزرویشن کی حد 70 فیصد تک بڑھا دی ہے، جس پر مختلف طبقات نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ مسئلہ تو تب سے ہے جب مرکز نے پہاڑی برادری اور او بی سی کو نئی کوٹہ پالیسی میں شامل کیا۔
سیلابی نقصان کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے نقصانات کا تخمینہ لگا کر مرکز کو میمورنڈم بھیج دیا ہے۔ 2014 کے مقابلے میں اس بار زیادہ نقصان جموں خطے میں ہوا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مرکز جلد ہی ایک جامع امدادی پیکیج فراہم کرے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
