تازہ ترین
توشہ خانہ کاریکارڈ جاری،عمران خان 10 کروڑ9 لاکھ روپے مالیت کے قیمتی تحائف لے گئے
پاکستان کی وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 تک کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پرکابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پرجاری کردہ ریکارڈ کے مطابق تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اوراعلیٰ سرکاری افسروں کے نام شامل ہیں۔
ریکارڈ کے مطابق سابق صدر پرویزمشرف، سابق وزراء اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجا پرویزاشرف اورعمران خان سمیت دیگرنے توشہ خانہ میں معمولی رقم ادا کرکے بیش قیمت تحائف وصول کیے تھے۔ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے۔
وزراء اعظم کے علاوہ وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق کوئی رقم ادا کیے بغیر ہی رکھ لیے کیونکہ 2022 میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیرادائی کے رکھنے کا قانون تھا۔علاوہ ازیں دس ہزارسے چارلاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فی صد رقم ادا کرنے پررکھنے کی اجازت تھی جبکہ چارلاکھ سے زیادہ مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کی اجازت تھی۔
سابق صدر(ر) جنرل پرویز مشرف
ریکارڈ کے مطابق 2004 میں سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005ءمیں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی ایک گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔انھیں مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورزیورات کے بکس ملے جو انھوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔
سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو چھ اپریل 2006 کو ساڑھے سولہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ یکم اگست 2007ء کو بیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ تین اپریل 2007ء کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 لاکھ روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو چودہ لاکھ روپے کے تحائف ملے۔
شوکت عزیز
سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو 2005ء میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو تین لاکھ پچپن ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انھوں نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائی رکھ لیے تھے۔
شوکت عزیز کو27 ستمبر 2007 کو ملنے والی ایک اور گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، 20 دسمبر2006ء کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے ۔وہ انھوں نے رکھ لیے تھے جبکہ 2006 میں انھوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔
اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006 کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006 کو سابق وزیراعظم کو18 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔24 فروری 2010ء کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی تھی۔
ظفراللہ خان جمالی
سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں رکھوا دیا تھاجبکہ ان کے دور میں جنرل (ر) پرویزمشرف کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 2634387 روپے لگائی گئی۔
آصف علی زرداری
ریکارڈ کے مطابق دودسمبر2008ء کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ادائی کرکے خود رکھ لی جبکہ چھبیس جنوری2009 کو سابق صدرزرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 لاکھ اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔
آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں دو کروڑ دو لاکھ روپے ادا کر کے خود رکھ لیں۔ اٹھائیس اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے سولہ لاکھ پندرہ ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ 11 مارچ 2011ء کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت دس لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی،13جون 2011ء کو سولہ لاکھ مالیت کے تحائف ادائی کر کے رکھ لیے۔ اس کے علاوہ 15 اگست 2011ء کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے تھے۔
یوسف رضا گیلانی
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انھوں نے چھ ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا۔انھوں نے21 لاکھ روپے ادا کرکے زیورات کا باکس رکھ لیا۔یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفے میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ سترہ اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔
نواز شریف
میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 4,255,919 روپے لگائی گئی تھی، بیس اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار 636,888 روپے ادا کر کے رکھ لی۔
شہباز شریف
وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو پندرہ جولائی 2009 میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انھوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ دس جون 2010ءکوسابق وزیراعلی شہبازشریف نے چالیس ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں۔
شاہد خاقان عباسی
ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادرعباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انھوں نے 33 لاکھ 95 ہزارروپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔
ریکارڈ کے مطابق 2018ء میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ 2018ء ہی میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر وسیم کوبیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انھوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔
عمران خان
سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کے قیمتی تحائف موصول ہوئے، جن میں 8 کروڑپچاس لاکھ کی گھڑی تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی۔انھوں نے 2 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار روپے توشہ خانہ میں جمع کرواکر یہ تمام تحائف رکھ لیے تھے۔
صدر عارف علوی
صدر عارف علوی کو دسمبر 2018 میں ایک کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انھوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔
اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہاراور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انھوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔جنوری 2019ء کوصدرعارف علوی کو قیمتی کلاشنکوف اے کے 47 تحفے میں ملی جس کی مالیت 6 لاکھ روپے تھی، صدرنے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے اے کے 47اپنے پاس رکھ لی۔
وزراء، اعلیٰ سول اورعسکری حکام و دیگر
وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو بیس لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انھوں نے رقم ادا کرنے کے بعد رکھ لی۔
ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی۔27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انھوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیے تھے جبکہ 9 فروری 2011 کووزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دو تحائف ادائیگی کر کے رکھ لیے تھے۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005 میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے پانچ لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی جبکہ 16 اگست 2006ء کو جہانگیرترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروادیا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006 کو سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویزکیانی کو تحائف ملے جو انھوں نے دس ہزار روپے ادا کر کے خود رکھ لیے۔مئی 2006ء میں سابق وزیرمملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی تھی۔ سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو29فروری 2010ء کو سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انھوں نے توشہ خانہ میں دے دی۔
28دسمبر2010ء کو صحافی رؤف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ پانچ ستمبر2011 کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے بیس ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور بائیس دسمبر2011 کوسابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے چار لاکھ سے زیادہ مالیت کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے تھے۔
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
