تازہ ترین
تین سابق وزرائے اعلیٰ کی نظربندی اورغیریقینی سیاسی صورتحال کے بیچ پنچایتی انتخابات کااعلان،کلینڈربھی جاری
5سے20مارچ تک 8مراحل میں ہونگے انتخابات:چیف الیکٹورل آفیسر
جموں:۳۱،فروری:تین سابق وزرائے اعلیٰ سمیت کئی سینئرمین اسٹریم لیڈروں کی نظربندی اورغیریقینی سیاسی صورتحال کے بیچ لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ نے خالی پڑے پنچایتی وارڈوں اورحلقوں کیلئے 8مراحل پرمحیط انتخابات کااعلان کردیا،خیال رہے 2018میں کرائے گئے پنچایتی انتخابات کے دوران کشمیرمیں 60فیصدپنچایتی حلقوں میں انتخابات نہیں ہوپائے تھے۔یونین ٹریٹری جموں وکشمیر کے چیف الیکٹورل آفیسرشلیندرکمار نے مارچ 2020میں پنچایتی انتخابات کرانے کاشیڈول جاری کرتے ہوئے کہاکہ مجوزہ انتخابات 5سے20مارچ تک8مراحل میں کرائے جائیں گے۔سرمائی راجدھانی جموں میں جمعرات کوایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسرشلیندرکمار نے اعلان کیاکہ جموں وکشمیرمیں خالی پڑے لگ بھگ60فیصد پنچایت حلقوں میں عام انتخابات کرانے کاشیڈول مرتب کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ پنچایتی انتخابات5سے20مارچ تک8مراحل میں کرائے جائیں گے،جس کے تحت مجوزہ پنچایتی انتخابات مارچ کی5،7،9،12،14،16،18اور20تاریخ کوہونگے۔چیف الیکٹورل آفیسر کاکہناتھاکہ پنچایتی انتخابات کیلئے سبھی تیاریوں کوحتمی شکل دی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ووٹر فہرستوں کوجلد مکمل کرنے کیساتھ ساتھ دیگرلوازمات کوبھی پوراکیاجائیگا۔ شلیندرکمار نے مزیدکہاکہ 5مارچ کوہونے والے پنچایتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے15فروری کوالیکشن نوٹیفکیشن جاری کی جائے گی۔چیف الیکٹورل آٖفیسر کاکہناتھاکہ پنچایتی الیکشن کیلئے بیلٹ بوکس استعمال کئے جائیں گے اوراس مقصدکیلئے درکارمقدار میں بیلٹ بوکس دستیاب رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 5سے20مارچ تک 8مراحل کے دوران 11ہزار639پنچایت وارڈوں اورایک ہزار11پنچایتی حلقوں کیلئے ووٹنگ کرائی جائے گی،اوریہ ساراعمل26مارچ تک مکمل کیاجائیگا۔انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ نومبر،دسمبر2018میں کرائے گئے انتخابات کے دوران کل22ہزار214پنچوں اور3ہزار459سرپنچوں کاانتخاب عمل میں لایاگیاتھا۔خیال رہے جموں وکشمیرمیں گزشتہ پنچایتی انتخابات سال 2018میں ماہ نومبر کی17تاریخ سے 11دسمبرتک9مراحل میں غیرجماعتی بنیادوں پرکرائے گئے تھے،اورتب نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی جیسی اہم علاقائی مین اسٹریم جماعتوں نے دفعہ35Aکے معاملے پرپنچایتی الیکشن کابائیکاٹ کیاتھا۔سال2018میں ماہ نومبر کی17،20،24،27،29اورماہ دسمبر کی1،4،8اور11تاریخ کوکرائے گئے تھے۔سال2018میں کرائے پنچایتی انتخابات میں پنچایت حلقوں کی کل تعداد4378اورپنچایتی وارڈوں کی تعداد33402تھی،جن میں سے کشمیرمیں 2135پنچایت حلقے تھے۔تاہم کشمیروادی میں بائیکاٹ اوردوسری وجوہات کی بناء پر708پنچایت حلقوں میں کسی اُمیدوار کے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرائے جانے کی وجہ سے الیکشن نہیں ہوپائے تھے جبکہ699حلقوں میں ایک ایک ہی اُمیدوارہونے کی بناء پرسبھی ایسے اُمیدواروں کوبلامقابلہ کامیاب قراردیاگیاتھا،یعنی کل2135پنچایت حلقوں میں سے1407حلقوں میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہواتھا۔تاہم سال2018کے پنچایتی انتخابات میں پولنگ کی شرح 74فیصدریکارڈ کی گئی تھی۔کل33402پنچایت وارڈوں میں سے17059کشمیروادی میں تھے،جن میں سے صرف1656وارڈوں میں ووٹنگ ہوئی تھی،اوراس طرح سے کشمیروادی میں لگ بھگ 64فیصدپنچایت وارڈوں میں کسی بھی اُمیدوارکی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرائے جانے کی وجہ سے الیکشن نہیں کرایاگیاتھا،اوریہ سبھی64فیصد پنچایت وارڈ تب سے خالی پڑے ہیں،اوراب ان وارڈوں کیلئے مارچ2020میں 8مراحل میں انتخابات کرائے جائیں گے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
