تازہ ترین
جاپان: 200 سال میں پہلی بار تاج سے از خود کنارہ کشی
خبراردو:
جاپان کے شہنشاہ اکیہیتو آج اپنے تخت و تاج سے دست بردار ہو رہے ہیں۔ وہ گذشتہ دو سو سال سے زیادہ عرصے میں پہلے شہنشاہ ہوں گے جو اپنا تخت و تاج چھوڑ رہے ہیں۔
85 سالہ شہنشاہ کو تخت چھوڑنے کی قانونی اجازت اس وقت ملی جب انھوں نے کہا کہ وہ اپنی عمر اور گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اپنا کردار نبھانے کے قابل نہیں رہے۔
ان کے بیٹے شہزادہ ولی عہد ناروہیتو اس کے دوسرے روز کریسینتھیمم تخت پر بیٹھیں گے جو کہ ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔
جاپان میں شہنشاہ کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک علامت کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔
شہنشاہ اکیہیتو کا عہد بیماریوں اور آفات کے شکار لوگوں کے ساتھ ان کے میل جول کے طور پر یاد کیا جائے گا اور ان کے اسی رویے نے جاپانیوں کے دل میں ان کے لیے مخصوص جگہ بنائی ہے۔
شہنشاہنے تخت چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
اکیہیتو سنہ 1817 کے بعد پہلے جاپانی شہنشاہ ہیں جو اپنی مرضی سے تخت چھوڑ رہے ہیں۔
85 سالہ شہنشاہ نے سنہ 2016 میں اپنے ایک خطاب میں کہا کہ انھیں یہ خوف ہے کہ ان کی عمر انھیں ان کے فرض منصبی کو نبھانے میں مشکلات پیدا کرے گی اور انھوں نے قوی عندیہ دیا کہ وہ دست بردار ہونا چاہتے ہیں۔
اس وقت انھوں نے کہا تھا: ‘جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری صحت گر رہی ہے تو میں پریشان ہو جاتا ہوں کہ ریاست کی علامت کے طور پر مجھے اپنے فرائض منصبی کو نبھانے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔’
رائے عامہ کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ جاپان کی اکثریت نے شہنشاہ کی ریٹائر ہونے کی خواہشات کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ایک سال بعد پارلیمان نے ایک قانون بنایا جس کی وجہ سے ان کا عہدے سے دست بردار ہونا ممکن ہو سکا. ان کے بیٹے شہزادہ ولی عہد ناروہیتو اب ان کی جگ شہنشاہ بنائے جائيں گے۔
تخت و تاج سے دست برداری کے وقت کیا ہوگا؟
تائیریئی-سیڈن-نوگی یعنی تخت و تاج چھوڑنے کی رسم عین ممکن ہے کہ شاہی محل کے ماتسونوما ریاستی کمرے میں ہو لیکن زیادہ تر رسم کی ادائيگی پس پردہ ہو گی۔
اس رسم کا آغاز مقامی وقت کے مطابق منگل کے روز شام پانچ بجے ہو گا جب شہنشاہ اکیہیتو اور ان کی رانی میچیکو اس کمرے میں داخل ہوں گی۔ اس وقت 330 خدمت گار بھی موجود ہوں گے۔
سرکاری ٹی وی ‘این ایچ کے’ کے مطابق تقریب تقریباً دس منٹ تک جاری رہے گی
تقریب کا اختتام اکیہیتو کے شہنشاہ کے طور پر حتمی خطاب سے ہو گا لیکن وہ تکنیکی طور پر نصف شب تک شہنشاہ رہیں گے۔
بدھ کی صبح شہزادہ ولی عہد ناروہیتو کو شہنشاہ بننے کی پہلی رسم کے طور پر وراثت میں شاہی خزانہ دیا جائے گا۔
شہزادہ ولی عہد کون ہیں؟
شہزادہ ناروہیتو جاپان کے 126 ویں شہنشاہ ہوں گے اور وہ باضابطہ طور پر نئے ‘ریوا’ عہد میں ملک کی سربراہی کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی رواں ‘ہیسیئي’ عہد کا خاتمہ ہو جائے گا جو کہ اکیہیتو کے تخت نشین ہونے کے ساتھ سنہ 1989 میں شروع ہوا تھا۔
59 سالہ ناروہیتو کی تعلیم آکسفورڈ میں ہوئی ہے اور وہ 28 سال کی عمر میں ولی عہد بنائے گئے۔
کہا جاتا ہے کہ سنہ 1986 میں وہ اپنی اہلیہ اور شہزادی ولی عہد مساکو اووادا سے ایک چائے پر ملے۔ انھوں نے سنہ 1993 میں شادی کی۔
ان دونوں کو ایک ہی اولاد شہزادی آئیکو سنہ 2001 میں ہوئی۔ بہر حال جاپان کا حالیہ قانون خواتین کے وراثت میں تخت حاصل کرنے کے خلاف ہے اس لیے وہ تخت کی جانشین نہیں ہیں۔
ان کے چچا شہزادہ فومیہیتو جانشینی کی صف میں سر فہرست ہیں پھر اس کے بعد ان کے چچازاد بھائی شہزادہ ہیساہیتو ہیں جو شہزادی سے 12 سال بڑے ہیں۔
جاپانی تخت نشینی کی اس تبدیلی کو کیسے منا رہے ہیں؟
ملک کے گولڈن ویک یعنی سنہرے ہفتے کی چھٹی کو رواں سال بڑھا کر دس دن کر دیا گیا تاکہ نئے شہنشاہ کی تخت نشینی کے جشن کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ ویسے یہ سالانہ موسم بہار کی چھٹی ہوتی ہے۔
تخت سے دست برداری کو جشن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور یہ شہنشاہ اکیہیتو کی 30 سال قبل تخت نشینی سے بالکل مختلف ہے جب وہ اپنے والد کے انتقال پر تخت نشین ہوئے تھے اور ملک ان کے والد کی موت کا سوگ منا رہا تھا۔
لیکن اس بار لوگ چھٹیوں پر باہر نکلیں گے، سنیما گھروں کا رخ کریں یا پھر گھر پر رہ کر تخت سے سبکدوشی اور تخت نشینی کی تقاریب دیکھیں گے اور ان دونوں کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔
یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی بھی زندہ شخص تخت سے سبکدوشی کی تقریب دیکھ رہا ہو گا۔
اور یہ تاج پوشی کا دوسرا واقعہ ہو گا جو ٹی پر براہ راست نشر ہو رہا ہو گا۔ اس سے قبل شہنشاہ اکیہیتو کی تاج پوشی کی 30 سال قبل لائیو سٹریمنگ ہوئی تھی۔
جاپان کی شہنشاہت اتنی اہمیت کی حامل کیوں ہے؟
یہ دنیا کی قدیم ترین موروثی شہنشاہت ہے جو آج تک جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ 600 قبل مسیح سے جاری ہے۔
در حقیقت جاپانی بادشاہوں کو خدا کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن شہنشاہ اکیہیتو کے والد شہنشاہ ہیروہیتو نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر جب جاپان کو ہتھیار ڈالنا پڑا تھا اس وقت عوامی طور پر اپنی خدائیت کو ترک کر دیا تھا۔
لیکن پھر شہنشاہ اکیہیتو نے جنگ کے بعد جاپان کے وقار کو ہونے والے نقصان کی تلافی میں تعاون کیا تھا۔
انھیں شہنشاہ اور عوام کے بیچ کو دوری کو پاٹنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
شہنشاہ شاذ و نادر ہی عوام سے کبھی ملے ہوں لیکن اکیہیتو نے اپنے کردار کی نئی تعریف کی اور وہ آفات میں بچ رہنے والوں کے لیے اپنی ہمدردانہ رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
تاج پوشی کے دو سال بعد سنہ 1991 میں اکیہیتو اور ان کی رانی نے روایت کو توڑتے ہوئے ناگاساکی میں پھٹنے والے آتش فشاں سے متاثرہ افراد سے اظہار ہمدردی کے لیے عوام کے سامنے جھکے اور اس کے بعد وہ اکثر ایسا کرتے رہے۔
جذام جیسے مہلک امراض کے شکار افراد سے ان کا ملنا جلنا بھی ماضی کے شہنشاہوں کے طریقے کے بالکل مختلف تھا۔
اخیر میں اکیہیتو نے سفارت کار کا کردار اپنا لیا اور جاپان کے غیر سرکاری سفیر کے طور پر وہ دوسرے ممالک کا وسیع طور پر سفر کیا اور نئے شہنشاہ ناروہیتو سے اسے جاری رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
