ہندوستان
جب ملک کی ہر ریاست، ہر ضلع اور ہر گاؤں ترقی یافتہ ہو گا تب ہی ترقی یافتہ ہندوستان خواب پورا ہوگا : وزیراعظم
جگدل پور، (چھتیس گڑھ ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج چھتیس گڑھ کے جگدل پور اور بستر میں 27ہزار کروڑ روپے کی لاگت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔ ان پروجیکٹوں میں بستر ضلع میں 23800 کروڑ روپے سے زیادہ کے ناگر نار میں این ایم ڈی سی اسٹیل لمیٹڈ کا اسٹیل پلانٹ کے ساتھ متعدد ریلوے اور سڑک پروجیکٹ شامل ہیں۔ انہوں نے تروکی – رائے پور ڈی ای ایم یو ٹرین سروس کو بھی ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
یہاں ایک عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب اسی وقت پورا ہوگا جب ملک کی ہر ریاست ، ہر ضلع اور ہر گاؤں ترقی یافتہ بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے تقریباً 27 ہزار کروڑ روپے کی لاگت والے پروجیکٹ ان عزائم کو پورا کرنے کے لئے شروع کئے گئے ہیں اور انہوں نے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لئے چھتیس گڑھ کے عوام کو مبارکباد دی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے ٹھوس سماجی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال بنیادی ڈھانچے کے لئے 10 لاکھ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں یعنی 6 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔
ریل ، سڑک ، ہوائی اڈہ ، بجلی کے پروجیکٹوں ، ٹرانسپوٹیشن ، غریبوں کے لئے مکان ، تعلیم اور حفظان صحت کے اداروں میں اسٹیل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے پچھلے 9 برسوں میں ملک کو اسٹیل کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’چھتیس گڑھ اسٹیل تیار کرنے والی بڑی ریاست ہونے کے بھرپور فوائد حاصل کررہی ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے آج ناگر نار میں انتہائی جدیدترین اسٹیل پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا ۔
انہوں نے کہا کہ اس پلانٹ میں پیدا ہونے والی اسٹیل ملک میں آٹو موبائل ، انجینئرنگ اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے سیکٹر کو نئی توانائی دے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ’’بستر میں پیدا ہونے والی اسٹیل دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنے کے ساتھ مسلح افواج کو بھی مستحکم کرے گی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اسٹیل پلانٹ بستر اور آس پاس کے علاقوں کے تقریباً 50ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرےگا۔انہوں نے مزید کہا کہ’’نیا اسٹیل پلانٹ مرکزی حکومت کے ذریعہ بستر جیسے امنگوں والے اضلاع کی ترقی کی ترجیح میں نئی رفتار پیدا کرےگا۔‘‘
کنیکٹوٹی پر مرکزی حکومت کی مخصوص توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ میں اقتصادی راہ داری اور جدید شاہراہوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2014 کے مقابلے چھتیس گڑھ کے ریلوے کے بجٹ میں تقریباً 20 گنا اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تروکی آزادی کے اتنے سال بعد ایک نئی ریلوے لائین کا تحفہ حاصل کررہی ہے۔ ایک نئی ڈی ای ایم یو ٹرین نے ملک کے ریلوے کے نقشے پر تروکی کو جوڑا ہے جو راجدھانی رائے پور کے لئے سفر کو مزید آسان بنائے گی۔جگدل پور اور دانتے واڑہ کے درمیان ریلوے لائن کو چوڑا کرنے کا پروجیکٹ لاجسٹکس کی لاگت میں کمی کرےگا اور سفر میں آسانی پیدا کرےگا ۔
وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ چھتیس گڑھ نے ریلوے پٹریوں کی سو فیصد برق کاری کا کام پورا کرلیا ہے۔وندے بھارت ٹرین بھی ریاست میں چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چھتیس گڑھ میں 30 سے زیادہ اسٹیشنوں کو امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت جدید ترین اسٹیشن بنایا جارہا ہے۔ ان میں سے 7 اسٹیشنوں کی جدید کاری کا سنگ بنیاد پہلے ہی رکھا جاچکا ہے ، ان کے ساتھ آج بلاسپور، رائے پور اور درگ اسٹیشنوں کے ساتھ جگدل پور اسٹیشن کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آنے والے دنوں میں جگدل پور اسٹیشن شہر کا خاص مرکز بن جائے گا اور یہاں مسافروں کو جدیدترین سہولیات فراہم کرائی جائیں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’پچھلے 9 برسوں میں ریاست کے 120 سے زیادہ اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی سہولت فراہم کی گئی ہے۔‘‘
حکومت چھتیس گڑھ کے عوام کے لئے زندگی کو آسان بنانے کی خاطر ہر ممکن کوششیں کررہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ کہتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج کے پروجیکٹ ریاست میں ترقی کی رفتار میں اضافہ کریں گے ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور نئی صنعتوں کی ہمت افزائی کریں گے۔ خطاب کا اختتام کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی حکومت چھتیس گڑھ کی ترقی کے سفر میں اپنا تعاون جاری رکھے گی اور ریاست ملک کی قسمت تبدیل کرنے میں اپنا رول ادا کرےگی۔ انہوں نے اس موقع پر ریاست کی نمائندگی کرنے اور ریاست کی ترقی کے بارے میں فکرمند ہونے کے لئے چھتیس گڑھ کے گورنر بسوابھوشن ہری چندن کا شکریہ ادا کیا ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بحرِ ہند میں سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والا ہندوستان پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بحرِ ہند کے خطے میں آفت یا بحران کے وقت سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والے نیز پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اسٹریٹجک صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے اور بحریہ کو سمندری شعبے میں بدلتے چیلنجوں کے پیشِ نظر نگرانی اور جوابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس کے دوسرے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین، بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں ہندوستانی جنگی جہازوں کی موجودگی ملک کی ‘سمندر’ میں بحری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ حکمتِ عملی کے اعتبار سے مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سمندری شعبے میں جہازوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ، دھوکہ دہی اور ‘گرے-زون’ سرگرمیوں نے صورتِ حال کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور بڑھتی ہوئی سمندری آمد و رفت کے تجزیے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ ‘وکست بھارت 2047’ کے تصور میں حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ بحریہ کا کردار صرف سمندری سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ معاشی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور طاقت کے مظاہرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ بحریہ کو حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سمندری طاقت کا مقصد صرف سمندر میں ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ جہاں بھی ترنگا نظر آئے وہاں سکیورٹی، بھروسے اور اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر سمندر محفوظ ہیں، تو ہندوستان محفوظ ہوگا اور اگر ہندوستان محفوظ ہے، تو وکست بھارت کا عزم مزید مضبوط ہوگا”۔
وزیرِ دفاع نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن اورجا سرکشا’ کے تحت آبنائے ہرمز سے ہندوسانی پرچم والے تجارتی جہازوں، خاص طور پر ایل پی جی ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 85 سے 90 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 50 فیصد سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے سمندری راستوں کی سکیورٹی ملک کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
بحریہ کومقامی بنانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان جنگی جہاز سازی کا نظام اب عالمی معیار کو پورا کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کیے گئے جنگی جہازوں میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کو جنگی جہازوں کی برآمد بھی کرنی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے موجودہ سال کو بحریہ کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 جنگی جہازوں کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے جو بحریہ کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے اسے ملک کے گھریلو بحری جہاز سازی کے نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا اشارہ بتایا۔
انہوں نے ‘آل رینکس، آل رولز’ کے تحت خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بحریہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فرنٹ لائن جنگی جہازوں اور طیاروں پر خواتین افسران کی تعیناتی اور ‘ناوِکا ساگر پریکرما’ میں ان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ دفاع نے مشترکہ بحری افواج کے تحت ‘کمبائنڈ ٹاسک فورس-154’ کی کمان سنبھالنے پر بحریہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کوچی میں ہندوستان کی کمان کے دوران ہوئے ‘آپریشن سدرن ریڈینس’ کا بھی ذکر کیا، جس میں 27 ممالک کے 276 اہلکاروں، 76 ماہرین اور چار بین الاقوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے ‘لوکاین-26’ کے لیے آئی این ایس سدرشنی کی تعیناتی کو بھی ہندوستان کی سمندری سفارت کاری اورہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ لگاؤ کے لحاظ سے اہم بتایا۔
بحریہ کے کمانڈروں کی تین روزہ کانفرنس یکم اکتوبر تک چلے گی۔ اس میں بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنل تیاریوں، سمندری سکیورٹی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی کا جائزہ لے رہی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
