تازہ ترین
جماعت پر پابندی اور گرفتاریاں مداخلت فی الدین،فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج میں شدت لائی جائیگی: محبوبہ مفتی
خبراردو:
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھوار کو پارٹی لیڈران کی قیادت کرتے ہوئے ہاوسنگ کالونی کھنہ بل سے احتجاجی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دینے اور اس پر اگلے 5برسوں تک پابندی عائد کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مرکزی سرکار کی جانب سے جماعت اسلامی پر 5سالہ پابندی عائد کرنے اور ریاست بھرمیں مذہبی رہنماؤں کی بے تحاشا گرفتاریوں کو مداخلت فی الدین سے تعبیر کیا اور کہا کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی پر عائد پابندی کو واپس نہیں لیا تو پی ڈی پی آنے والے دنوں میں اپنے احتجاج میں شدت لائے گی۔احتجاجی مارچ میں شامل پی ڈی پی لیڈران اور کارکنان نے ہاتھوں میں بینر اُٹھارکھے تھے جن پر ’’اسلام میں مداخلت قبول نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔یہاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ جماعت پر پابندی اور شہر و گام میں مذہبی رہنماؤں کا کریک ڈاؤن مداخلت فی الدین ہے اور اگر مرکزی سرکار نے جماعت پر عائد پابندی کو فی الفور واپس نہیں لیا تو پی ڈی پی اس کے خلاف آنے والے دنوں میں اپنے احتجاجی پروگرام میں مزید شدت لائیگی۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی سرکار کی ان عوام کش پالیسیوں کو پی ڈی پی برداشت نہیں کریگی۔
محبوبہ کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست میں پی ڈی پی کی سرکار تھی تو ہم نے کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اُٹھائے۔ ہم نے کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا بلکہ ایک مہینے تک سیز فائر کو یقینی بنایا۔ ہمارے دور حکومت میں جب سرحدوں پر شدید تناؤ پایا گیا تو ہم نے عوامی مفاد کے پیش نظر دونوں اطراف سے سیز فائر کو یقینی بنایا۔ پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ جن نوجوانوں کے خلاف سنگبازی سے متعلق مقدمات درج تھے ہم نے اپنے دور حکومت میں ان تمام کیسوں کو واپس لیا اور نوجوانوں کو مین اسٹریم میں لانے کی کوشش کی۔ ہم نے 14ہزار ایف آئی آر واپس لے کر نوجوانوں میں احساس بیگانگی کو کم کرنے اور انہیں مین اسٹریم کا حصہ بنانے کے لیے عوام دوست اقدامات کا سہارا لیا۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے اپنے دور حکومت میں بی جے پی کی ناک میں نکیل ڈال کر انہیں راہ راست پر رکھا اور جب ان کے 2وزرا نے انسانیت کش اقدام کا سہارا لیا تو انہیں کابینہ سے بے دخل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت میں پی ڈی پی نے بی جے پی کی ناک میں نکیل ڈالی تاہم انہوں نے اپنے ناک سے نکیل باہر نکال کر سرکار سے علیحدگی اختیار کی اور آج ریاست کی مجموعی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے سرحدوں پر کشیدہ ماحول کو پروان چڑھایا اور دوسری طرف اندرون ریاست جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرکے جماعت کے بزرگ رہنماؤں کو بے تحاشا گرفتار کرنے کے علاوہ ان کے دفاتر تک کو سیل کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسی طرح جمعیت اہل حدیث سے وابستہ لوگوں کو بھی حراست میں لیا جارہا ہے ، مولویوں کو بھی گرفتار کیاجارہا ہے جو کہ ہمارے مذیب میں سراسر مداخلت ہے۔پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ پارٹی آنے والے دنوں میں ریاست کے تمام حلقہ انتخاب سطح پر مرکزی سرکار کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی اور جب تک نہ نئی دہلی جماعت پر پابندی کو کالعدم قراردینے کے علاوہ جماعتی رہنماؤں کو رہا نہیں کرتی تب تک پی ڈی پی اپنا احتجاج جاری و ساری رکھے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ جن الزامات کے تحت اُنہوں نے جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ان الزامات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔بی جے پی کو بدمست ہاتھی سے تعبیر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ جب سے اس پارٹی نے اپنے ناک سے پی ڈی پی کی نکیل باہر پھینک ڈالی ہے تب سے بی جے پی ریاست میں تمام اقدار کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی عوام نے گاندھی کے سیکولرزم کو دیکھ کر دو قومی نظریہ کو رد کرتے ہوئے ملک کے ساتھ رہنا پسند کیا۔پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا سال 2016میں جب یہاں حالات پٹری پر نہیں تھے تب ہم نے کسی بھی شخص گرفتار نہیں کیا، ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاہم میں نے اُس وقت ان لوگوں کو واضح کیا کہ پی ڈی پی بناثبوت کے جماعت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریگی۔الیکشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا موجودہ صورتحال میں جب لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہو، جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہو اور ہر طرف غیر یقینی ماحول چھایا ہو تب ایسے میں الیکشن پر بات کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
