تازہ ترین
جماعت پر پابندی کے خطر ناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں: محبوبہ
خبراردو:
پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دئے جانے اور اس پر 5سال تک پابندی عائد کرنے کی کارروائی کو افسوسناک قرار دینے کے علاوہ حکومت کو خبر دار کیا کہ آنے والے دنوں میں اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے نتیجے میں آنے والے وقت میں اس کے خطرناک نتائج نکلنے کے امکانا ت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی شخص کو قید کرنا آسان ہے البتہ کسی نظریے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر میں انتقام گیری پر مبنی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے یہاں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کرنے کے علاوہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی ہے۔محبوبہ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی و سماجی تنظیم ہے لیکن جس طرح سے انہیں انتقام گیرانہ طریقے پر نشانہ بنایا جارہا ہے وہ انتہائی مذمو م ہے۔انہوں نے بتایا کہ جماعت سے وابستہ اسکولوں میں پوزیشن ہولڈرز بچے زیر تعلیم ہے جو یہاں سے نکل کر بعد میں سماج کی مختلف سطحو ں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ جماعت کے ساتھ فی الوقت ہزاروں لاکھوں لوگ جڑے ہوئے ہیں اُن کی گرفتار کرنے سے کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔
پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ حکومت شاید یہ گمان کررہی ہے کہ جماعت سے وابستہ ہزاروں لوگوں کو قیدخانوں میں ڈال کر وہ کامیاب ہوں گے ، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جماعت ایک نظریہ ہے اور نظریہ کو قید نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ فی الوقت ریاست میں سرحدوں کے ساتھ ساتھ اندرون میں بھی انتہائی ناخوشگوار حالات ہے ، ہر طرف تناؤ اور غیر یقینی صورتحال ہے۔انہوں نے بتایا کہ پونچھ میں گزشتہ روز ہی پرکئی افراد پرتناؤ صورتحال کے ہتھے چڑھ گئے۔انہوں نے سوالیہ اندا زمیں بتایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیم اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے قلیتی طبقوں کو نشانہ بناتے ہوئے ملک بھر میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا ہے۔ آر ایس ایس سے وابستہ لوگ آئے روز لوگوں کو مار پیٹ کرکے ہلاک کرتے ہیں۔ گائے کا گوشت موجود ہونے کے شبے پر آر ایس ایس نے ملک بھر میں لاقانونیت کا مظاہرہ جاری رکھا ہو اہے لیکن مرکزی حکومت نے کبھی بھی آر ایس ایس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی جو ریاست کے کونے کونے میں فلاحی و رفاعی اُمور کو انجام دینے میں ہر ہمیشہ پیش پیش رہی ہے مرکزی حکومت نے انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت اسی کو نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ جماعت کے شعبے فلاح عام ٹرسٹ کے زیر نگرانی بہت سارے اسکول کام کررہے ہیں جہاں غریب اور یتیم طلبا و طالبات زیر تعلیم ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت ان اسکولوں کو نشانہ بناکر انتقام گیری پر مبنی پالیسی سے کام لے رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جماعت سے وابستہ قائدین و کارکنان کو جیلوں میں ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے جس کے خلاف ہم نے احتجاج کیا لہٰذا حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے بصورت دیگر پابندی کی آڑ میں مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں خیالات کی جنگ ممکن ہے ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ کے پاس بہتر خیال دستیاب ہے تو آپ سامنے آکر اس کا مقابلہ کریں نہ کہ طاقت اور جبر کے ساتھ آپ لوگوں کو جیل خانوں میں بند کرکے پابندی عائد کرے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے ریاست میں من مانیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور آئے روز عوام کش فیصلے اُٹھارہی ہے۔
ہم(پی ڈی پی) جب اُن کے ساتھ اتحاد میں تھے تو ہم نے ان پر لگام کس لی تھی اور ہم نے انہیں اس طرح کی من مانیاں کرنے کی اجازت نہیں دی ۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے ملک بھر میں ایک ایسا ماحول تیار کیا ہوا ہے کہ بیرون ریاست جہاں بھی کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس پر تالیاں بجائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں تھے ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا جائے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ جماعت کا حزب المجاہدین کے ساتھ قریبی تعلق ہے لیکن اس سلسلے میں ہمیں ایسا کوئی سراغ نہیں ملا۔انہوں نے بتایا کہ جب بھی حکومت عوام کش اقدامات اُٹھاکر عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے گی تب تب پی ڈی پی میدان میں آکر حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتی رہے گی۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
