تازہ ترین
جموں میں تشدد کے واقعات کے بعد وادی سے تعلق رکھنے والے ،لوگ اور سیکرٹریٹ ملازمین خوف زدہ
خبراردو:
جنگجوؤں کی اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کانوائے کو نشانہ بنائے جانے جس میں 50کے قریب اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے کے بعد ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں میں بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اُٹھا ہے۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کو جموں بند کال کے دوران فرقہ پرست سیاسی جماعتوں بشمول بی جے پی، اے بی وی پی، وی ایچ پی سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں نے یہاں رہائش پذیر کشمیریوں پر بے تحاشہ حملے کئے جس دوران جموں اور مضافاتی علاقوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی۔
نمائندے کے مطابق جموں کے گجر نگر، توفشیر خان، جانی پورہ سمیت دیگر مسلم آبادی والے علاقوں میں فرقہ پرستوں اور بلوائیوں نے جمعہ کے روز ادھم مچاتے ہوئے کوارٹروں اور گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ معلوم ہوا کہ گجر نگر میں بلوائیوں نے جنگجوؤں اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے یہاں موجود کشمیری مسلمانوں کے رہائشی کوارٹروں پر سخت سنگ باری کی اور سینکڑوں کشمیریوں کو تختہ مشق بنایا۔فرقہ پرستوں اور بلوائیوں نے گجر نگر، توفشیر خان، جانی پور اور دیگر علاقوں میں جہاں کشمیری مسلم ملازمین اپنے اہلخانہ سمیت رہائش پذیر ہیں میں 200کے قریب گاڑیوں کو زبردست نقصان پہنچانے کے علاوہ درجنوں گاڑیوں کو پھونک ڈالا۔ اس دوران یہاں بھڑک اُٹھے تشدد کے نتیجے میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور طلبا سمیت دیگر لوگ انتہائی خوف و دہشت میں مبتلا ہوئے ہیں ۔معلوم ہوا کہ جانی پورہ، گجر نگر اور توفشیر خان علاقوں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والی مسلمان خواتین اور بچیاں روتے بلکتے ہوئی دیکھی گئیں جس کے نتیجے میں یہاں انتہائی خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا۔
معلوم ہوا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ملازمین جو سیول سیکرٹریٹ کے ساتھ وابستہ ہیں حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سے واپس وادی آنے کا سوچ رہے ہیں ۔ سیول سیکرٹریٹ ائمپلائز یونین کے صدر غلام رسول میر نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز سے ہی یہاں کے حالات و واقعات کو بھانپتے ہوئے صوبائی کمشنرجموں، ڈپٹی کمشنر جموں اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو گزارش کی کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو سیکورٹی فراہم کریں تاہم ابھی تک انہوں نے اس حوالے سے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری ملازمین اور اُن کے اہلخانہ کو فرقہ پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔میر کا کہنا تھا کہ گزشتہ شام سے یہاں قیامت کا سا سماں غالب ہے جس دوران فرقہ پرست عناصر ہمارے رہائشی کوارٹروں کے اندر گھسنے کی مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی انتظامیہ کو ملازمین کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی خاطر یہاں پولیس تعینات کردینی چاہیے تھی تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
غلام رسول میر کا کہنا تھا کہ سیول سیکرٹریٹ سے وابستہ ملازمین اس وقت جموں میں مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں۔ ہمارے ساتھ ہمارے گھر والے، خواتین اور بیٹیاں ہیں جن کی سلامتی سے معلق فکر ہمیں اند رہی اندر کھائے جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے سرد مہری کے نتیجے میں ہمارے مال وجان اور عزت کو انتہائی خطرات لاحق ہیں اور اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو سیول سیکرٹریٹ سے وابستہ ملازمین اجتماعی طور پر سنیچر کو جموں چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہماری زندگیاں ہی محفوظ نہیں تو ہمیں نوکریوں کو کیا کرنا ہے۔ میر کا کہنا تھا کہ ہم اپنی نوکریوں سے اجتماعی طور پر مستعفی ہوکر جموں کو چھوڑ کر کشمیر واپس آجائیں گے۔غلام رسول نے مزید بتایا کہ ہم نے تمام ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جانوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے رہائشی کوارٹروں سے باہر نہ آئیں۔انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرستوں نے ملازمین کی درجنوں گاڑیوں کو پھونک ڈالا اور متعدد کوارٹروں پر حملے بھی کئے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوائیوں نے جمعہ کو مسلم آبادی والے علاقوں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والی درجنوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا ۔انہوں نے بتایا کہ بلوائی کشمیر ی مسلمانوں پر حملہ انجام دینے کی تاک میں ہے اور وہ ہماری کالونیوں کے باہر الرٹ ہیں ، اگر چہ ہم نے سیول و پولیس انتظامیہ کو اپیل کی تھی کہ وہ یہاں پولیس پہرے کا بندوبست کریں تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ گورنر ستیہ پال ملک کی قیادت والی انتظامیہ جموں میں مقیم کشمیری ملازمین کو سیکورٹی فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوئی ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہم اجتماعی طور پر سنیچر کو جموں سے ہجرت کریں گے۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
