تازہ ترین
جموں وکشمیر حکومت کی ترجیح عوامی راحت رسانی نہیں بلکہ وزیر اعظم آفس کو خوش کرنا ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، 18مارچ(یو این آئی(جموں وکشمیر کی موجودہ حکومت کو یہاں کے عوام کی پریشانیوں اور دکھ درد کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں ، یہ لوگ یہاں کے عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے انہیں زیادہ تکلیف دینے کا کام کررہے ہیں اور ان کا واحد مدعاو مقصد یہی ہے کہ دلی والے ہم سے خوش رہیں۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج دمہال حانجی پورہ نوآباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈران سے سیکورٹی چھینی گئی اور جب ہم حکومت سے سیکورٹی مانگتے ہیں تو حکومت کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہمارے پاس گاڑیوں اور نفری نہیں ہیں لیکن جب باہر سے لوگ آتے ہیں اُس وقت خود بہ خود سیکورٹی اور گاڑیاں دستیاب ہوجاتی ہیں۔
گجرات سے ایک شخص یہاں وارد ہوتا ہے اور خود کو وزیر اعظم دفتر سے آیا ہوا افسر جتلاتا ہے اور ہمارے حکمران بنا کوئی پوچھ تاچھ کئے موصوف کو ڈبل اسکارٹ، بلٹ پروف گاڑی اور فائیو سٹار ہوٹل میں قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں بلکہ موصوف نے گلمرگ، اوڑی اور لائن آف کنٹرول کا معائینہ کرنے کے علاوہ اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں صورتحال کا جائزہ بھی لیتا ہے اور ہمارے حکمران ایک بار نہیں بلکہ 4بار اس نقلی افسرسے دھوکہ کھا جاتے ہی اور کوئی بھی افسر نئی دلی فون کرکے موصوف کے بارے میں جانچ پڑتال کرنے ذہمت بھی گوارا نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ جو افسران ہمارے فون تک نہیں اُٹھاتے ہیں وہ اس نقلی افسر کے تلوے چاٹ رہے تھے۔ معلوم نہیں کہ ایسے کتنے نقلی افسر یہاں آئے ہونگے اور کتنے اس وقت موجود ہیں، سننے میں تو آیا ہے کہ تین ایسے ہی نقلی افسران حال ہی یہاں سے رفوچکر ہوگئے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکمران یہاں کے لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے نہیں بلکہ وزیر اعظم آفس کو خوش کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔
ایک چنی ہوئی حکومت اور ٹھونسی ہوئی حکومت میں یہی فرق ہوتا ہے۔ جو حکومت لوگ ووٹوں کے ذریعے چنتی ہیں اُس کی ترجیح وزیرا عظم آفس کو نہیں بلکہ یہاں کے عوام کو خوش کرنا ہوتا ہے۔
این سی نائب صدر نے کہا کہ موجودہ حکمران کہیں پر بھی ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں اور اسی لئے یہ یہاں الیکشن نہیں کروا رہے ہیں۔ 2014کے سیلاب کے وہ دن میں نہیں بھول سکتا ہوں جب موسم کی قہرسامانیوں نے جموں و کشمیر میں سب کچھ تہس نہس کر کے دکھ دیا تھا، اُس وقت میں نے انہی بی جے پی والوں سے درخواست کی تھی کہ الیکشن کچھ ماہ کیلئے موخر کیا جاءے اور لوگوں کو مصیبت سے نکالنے کو ترجیح دی جاے۔
اگر اُس وقت الیکشن وقت پر کرانے ضروری تھے تو آج کیوں نہیں ہیں؟ اب تو یہاں الیکشن ہوئے 8سال ہوگئے؟ اب تو الیکشن کی تاخیر کیلئے کوئی بہانہ بھی نہیں بچا ہے۔حکومت کی عوام کُش اور نوجوان مخالف پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہا کہ جہاں دیکھو حکومت کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کو پریشان کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جہاں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ جموں و کشمیر کے عوام کو زمین پر مالکانہ حق دیئے وہیں موجودہ سرکار میں بیٹھے لوگ یہاں کے پشتینی باشندوں سے زمینیں چھیننے کا کام کررہے ہیں۔
لوگوں کو چن چن کر تنگ کیا گیا۔ کہیں بلڈوزر بھیجے گئے، کہیں افسر بھیجے گئے اور کہیں تاربندی کی گئی اور اس میں بھی سیاست کا استعمال کیا گیا۔ جموں میں اُس شو روم پر بلڈوزر چلایا گیا جس کا مالک مسلمان تھا اور کھنہ بل میں اُس شاپنگ کمپلیکس کو محض دکھاوے کیلئے سیل کیا گیا جس کا مالک بھاجپا کا لیڈر تھا اور کچھ دنوں بعد وہ سیل بھی غائب ہوگئی۔
یہی حال یہاں کے غریبوں کے ساتھ بھی ہوا اور چن چن کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اب مکانوں پر ٹیکس لگانے کا فرمان جاری کردیاگیا ہے۔ یہاں کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں۔
گیس سلینڈر کی قیمت اس وقت1230روپے، پیٹرول100روپے سے زیادہ، بجلی بلیں آسمان چھو رہی ہیں جبکہ راشن کا کوٹا کم کرکے 5کلو کردیاگیا ہے۔”خدارا پہلے لوگوں کو کمانے کا موقع تو فراہم کیجئے!یہاں کمانے کا کوئی نام و نشان نہیں اور آپ ٹیکس لگا رہے ہیں“۔ 5اگست2019کو کہا گیا تھا کہ اب نوجوانوں کو گھر بیٹھے بیٹھے نوکریاں فراہم کی جائینگی لیکن یہاں تو پہلے سے روزگار کمانے والوں کو بھی بے روزگار بنادیا گیا۔
ایک دن بھرتی کا لسٹ نکلتا ہے اور دوسرے روز اسے منسوخ کیا جاتاہے اور ایسے ہی ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے۔
عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ جو نوجوان اس لسٹوں کی منسوخی عمل میں عمر کی حدیں پار کرجاتے ہیں اُن کو کون انصاف دے گا؟ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے بھرتی امتحانات کیلئے جموں وکشمیر حکومت کو وہی کمپنی ملی جو باقی ریاستوں میں بلیک لسٹ ہے ۔ اس سے بڑی حکومتی ناکامی اور بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
