تازہ ترین
جموں وکشمیر کے لوگوں کو بااختیار بنانے کیلئے اسمبلی انتخابات ناگزیر:الطاف بخاری
جموں،29اپریل(یو این آئی) اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ لوگ اپنی عزت اور وقار کی بحالی چاہتے ہیں اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو بااختیار بنانے کے لئے جموں وکشمیر میں بلا تاخیر اسمبلی انتخابات کرائے جائیں۔
ضلع راجوری میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا”جموں وکشمیر کے لوگ بیروکریٹک نظام میں خود کو بے اختیار محسوس کر رہے ہیں۔
دوسری طرف اسمبلی انتخابات کے انعقاد میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے لوگوں میں احساس ِ اجنبیت میں اضافہ ہورہا ہے ، وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں جس کو جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے“۔
بخاری نے کہاکہ ”لوگوں کو بنیادی ضروریات چاہئے وہ بجلی، پینے کا صاف پانی، سڑک یا اسپتالوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ ہو یا پھر تعلیمی ادارے وہ راجوری اور اِس کے سرحدی دیہات میں بیروکریٹوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دستیاب نہیں۔
سول انتظامیہ مکمل طور ناکام ہوچکی ہے، یہ اہم وقت ہے کہ لوگوں کے اعتماد کو بحال کیاجائے جوکہ اپنا منتخب نمائندہ یا سرکار نہ ہونے کی وجہ سے خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں“۔
ان کا کہناتھاکہ دونوں خطوں کے لوگوں کا مطالبہ ایک ہی ہے کہ ریاستی درجہ بحال کیاجائے اور بلا تاخیر جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیاکہ اگر آپ کرناٹکہ ، اتر پردیش، بہار، گجرات اورملک کی دیگر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں انتخابات کراسکتے ہیں تو پھر جموںوکشمیر میں تاخیر کیوں۔
لوگ اپنا عزت اور وقار واپس چاہتے ہیں جوکہ ریاستی درجہ کی بحالی سے ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران نے ناجائز تجاوزات مخالف مہم ، اولڈ ایج پنشن اسکیم کی لوازمات کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا لیکن زیر التواترقیاتی پروجیکٹوں کو مکمل کرنا بھول گئے
الطاف بخاری نے کہاکہ”ضلع راجوری کے اندر مختلف محکموں میں آسامیاں خالی پڑی ہیں جنہیں پ
انہوں نے بھرتی ایجنسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاجن کی وجہ سے سرکاری نوکریوں کے خواہشمند نوجوانوں میں بد اعتمادی پیدا ہوئی۔
الطاف بخاری نے مزید کہاکہ ”جموں وکشمیر میں عام آدمی کے لئے حالات سازگار نہیں۔ بیروکریٹس جموں وکشمیر اور اِس کے لوگوں کی فلاح کے لئے کوئی کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
شفافیت کے نام پر گاو ں سطح پر پانچ لاکھ تک کے کاموں کے لئے بھی ٹینڈرنگ عمل پر مجبور کرکے متعلقہ گاو ¿ں کے مقامی ورکروں کو نظر انداز کیاگیا۔
نوجوان بے روزگار ہیں لیکن ٹھیکیدار جن کی افسران کے ساتھ سازباز ہے وہ گاو ں سطح پر ٹھیکے حاصل کر رہے ہیں۔ راجوری ضلع کی بیشتر پنچایتوں/گاو ں میں فنڈز کی عدم دستیابی سے ترقیاتی عمل رکا پڑا ہے۔
الطاف بخاری کا مزید کہناتھاکہ اپنی پارٹی کے قیام سے حزب اختلاف جماعتیں لوگوں کے درمیان مشکو ک ہوگئیں اور وہ اپنی زمین کھوچکی ہیں۔
حزب اختلاف سیاستدان 5اگست2019کے فیصلے کے بعد اپنے گھروں، گیسٹ ہاو ¿س اور ہوٹلوں میں خاموشی اختیار کرکے اپنے دن پرسکون گذار رہے تھے لیکن ہم خاموش نہیں رہے۔ ہم نے خود کو خطرے میں ڈالا اور لوگوں کی نمائندگی کے لئے آگے آئے۔اپنی پارٹی کے صحیح معنوں میں لوگوں کی ترجمانی کی۔
انہوں نے کہا کہ ”ہم جموں و کشمیر کے شہریوں کے لئے نوکری اور زمین کے تحفظ کے لیے دہلی گئے البتہ دوسری سیاسی جماعتیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً جموں و کشمیر پر حکومت کی وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دہلی جاتی تھیں۔ اس لیے وہ عام عوام کی طرف سے بات نہیں کر سکتے۔
یہ واحد اپنی پارٹی ہے جو عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور آنے والی نسل کو پرامن اور روشن مستقبل کی طرف لے جاسکتی ہے۔ان سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی کو بدنام کیاتاہم وہ خود دہلی گئے اور ہندوستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کی لیکن فرق یہ تھا کہ اپنی پارٹی عوام کے لیے دہلی گئیاور اپوزیشن لیڈر اپنے لیے وہاں گئے“۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور دیگر روایتی سیاسی جماعتوں نے دو نوںخطوں کے لوگوں میں غلط فہمی پیدا کی۔ وہ تقسیم کی سیاست کرتے ہیں تاہم ہم جموں و کشمیر میں لوگوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں۔یہ ان کے منقسم منصوبے کا حصہ تھا کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ میں حلقے بنائے گئے اور راجوری-اننت ناگ حلقہ مقامی نمائندوں کی مشاورت کے بغیر بنایا گیا۔
دنیا
صدر ایردوان کی نے انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک بات چیت
انقرہ، صدر رجب طیب ایردوان نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
صدارتی محکمہ اطلاعات کے بیان کے مطابق، گفتگو میں ترکیہ-انڈونیشیا تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی سے خوش ہیں اور اسے برقرار رکھنا ترکیہ اور انڈونیشیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
ایردوان نے زور دیا کہ تجارت اور دفاعی صنعت بالخصوص کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اہم ہے اور اس سمت میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ترک صدر نے سبیانتو کو 9 تا 20 نومبر کو انطالیہ میں منعقدہ COP31 لیڈرز سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے چوواڑی علاقے میں جعلی نوٹ چھاپنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرکے جعلی کرنسی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ شہر میں جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے پیر کو دیر رات چوواڑی علاقے میں کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ملزمان مبینہ طور پر ایک کرائے کے کمرے سے جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے کا کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران 13,500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ، اسکیننگ مشین، پرنٹر، کمپیوٹر اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔‘‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے تمام ملزمان سے یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کتنے جعلی نوٹ بازار میں چلائے ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے رہنے والے وجے ساہنی، مدھیہ پردیش کے رہنے والے راہل اہروار اور جھارکھنڈ کے رہنے والے اندرپال کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ’’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار افراد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چند روز قبل اس علاقے میں آئے تھے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی توپخانے اور طیاروں کے حملے، متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
بیروت، لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے اسپوتنک کو بتایا کہ اسرائیلی توپخانے اور طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں اور رہائشی علاقوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔
ذرائع نے پیر کو بتایا، ’’اسرائیلی توپخانے نے یاطر کے مضافات، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، زوطر الشرقیہ، برعشیت، خیام، کفر تبنیت، میفدون، عیترون، حولا اور دیگر علاقوں کے مضافات پر شدید گولہ باری کی۔‘‘
ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے زبقین، خیام، میس الجبل، حاریس اور حدّاثہ کے درمیان واقع علاقے، منصوریہ، کفر تبنیت اور قنطارہ کے مضافات کو بھی نشانہ بنایا۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں مکمل جنگ بندی اور ملک کے جنوبی حصے پر لبنانی فوج کا کنٹرول بحال کرنے کی شق شامل ہے، تاہم اس کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شرط ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مذاکرات 4 سے 6 اگست تک روم میں جاری رہے تھے۔
اس کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں۔ اسرائیل نے ملک کے جنوبی حصے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جہاں سے مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
