جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میںاگلے 60گھنٹے خطرناک موسم، موسلادھار بارش، بادل پھٹنے اورسیلاب کا خطرہ
48گھنٹوں کےلئے موسمی ریڈ الرٹ کا اعلان،سرکاری مشیری متحرک
سبھی 20اضلاع میں کنٹرول روم قائم ،الگ الگ الرٹ جاری ،متعلقہ ملازمین کی چھٹیاں منسوخ
بارش کے بعدسری نگر جموں قومی شاہراہ اور سنتھن روڈ آمدرفت کیلئے بند،لوگوں کیلئے انتباہات جاری
سری نگر: جے کے این ایس : موسمیاتی مرکز سری نگر نے منگل کو موسمی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے کئی اضلاع میں موسلادھار سے بہت زیادہ بارش کی وارننگ دی ہے۔جموں کے پورے خطے بالخصوص رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ اور کٹھوعہ اضلاع میں منگل کی صبح سے ہی موسلادھار بارش جاری رہی،جبکہ قاضی گنڈ اور کولگام اور اننت ناگ کے اونچے علاقوں میں بھی منگل کی صبح سے ہی مسلسل بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ادھر سری نگرسمیت وسطی اورشمالی کشمیرکے کئی علاقوںمیں بادلوں کا جماﺅ بڑھ جانے کے بعد ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں اور بارش کاامکان بڑھ گیا۔اس دوران ناموافق اورخطرناک موسمی صورتحال کے چلتے سری نگر جموں قومی شاہراہ کے ساتھ جنوبی کشمیرکو کشتواڑ کے جوڑنے والے پہاڑی راستے سنتھن روڈکو بھی گاڑیوں کی آمدرفت کیلئے بند کردیا گیا۔ موسمیاتی مرکزنے خبردارکیاکہ جموں وکشمیر میں اگلے48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بھاری سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے کیونکہ دریاﺅں اورندیوں اور موسمی نالوںمیں پانی کی سطح بڑھ جانے اورپانی کے بہاﺅ میں تیزی آنے کا امکان ہے۔موسم کی خراب ایڈوائزری کے بعد حکام نے جموں و کشمیر میں اگلے48 گھنٹوں کےلئے ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے۔لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آبی ذخائربشمول دریاﺅں،ندی نالوں،ڈھیلے ڈھانچے وغیرہ سے دور رہیں، کیونکہ خطرناک علاقوں میں بادل پھٹنے،تیز سیلاب،لینڈ سلائیڈنگ ، مٹی کے تودے اورپتھر گرآنے کا امکان ہے۔جے کے این ایس کے مطابق موسمیاتی مرکز سری نگرکی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق، 2اور3 ستمبر کو کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ عام طور پر ابر آلود آسمان کی توقع ہے۔ کٹھوعہ، جموں، ادھم پور اور ریاسی سمیت اضلاع میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کا امکان ہے۔دیگر اضلاع ڈوڈہ، سانبہ، راجوری، پونچھ، رام بن، کشتواڑ، اننت ناگ، اور کولگام میں خاص طور پر 2 ستمبر کی دیر رات اور 3 ستمبر کی صبح کے دوران درمیانی سے بھاری بارش ہو سکتی ہے۔تازہ موسم کاری میں 4سے7 ستمبر کے درمیان کچھ مقامات پر بارش اور گرج چمک کےساتھ ہلکی بارش کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے، اس کے بعد 8 ستمبر کی رات اور 9 ستمبر کی صبح جموں ڈویڑن کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش ہوگی۔9 ستمبر سے 11 ستمبر کی شام تک موسم میں بہتری کی توقع ہے۔
ایڈوائزری میں بادل پھٹنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور کئی خطرناک مقامات پر پتھرگرآنے سے خبردار کیا گیا ہے۔اس دوران موسمیاتی ماہرین نے خبردارکیاکہ جموں و کشمیر میں اگلے 60 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر بارش ہونے والی ہے۔حکام نے پانی کی سطح میں اضافے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے لئے الرٹ جاری کیا ہے۔
اورساتھ ہی تمام 20اضلاع میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے الگ الگ الرٹ جاری کرنے کے علاوہ ہنگامی کنٹرول روم بھی متحرک کئے گئے ہیں ۔محکمہ آبپاشی وفلڈ کنٹرول سمیت کئی اہم محکموںکے افسروں،انجینئروں اور ملازمین کی چھٹیوں کو منسوخ کرتے ہوئے اُنھیں اپنے دفاتر سے رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔تمام اضلاع کی انتظامیہ نے متعلقہ حکام کی 34×7حاضری کے ساتھ ہیلپ لائنز اور کنٹرول روم قائم کیے ہیں۔آزادانہ طور پر موسم کی پیشن گوئی کرنے والے ایک ماہر فیضان عارف کینگ،جو اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر کشمیر ویدر کے نام سے مشہور ہیں،کے مطابق جموں خطے کے کچھ حصوں میں شدید سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے، جس میں ندیاں اور ندیاں بہنے کا امکان ہے، کچھ جگہوں پر سیلاب کے خطرے کی سطح کو عبور کر رہے ہیں۔کشمیر کے علاقے میں، بارش کی شدت نسبتاً کم رہے گی، لیکن پیر پنجال کے پہاڑوں اور کولگام، شوپیاں اور اننت ناگ کے اونچے علاقوں میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ فیضان عارف نے کہا کہ دریائے جہلم کے پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے تیز ہواوں ، گرج چمک کےساتھ طوفان، سیلاب اور بادل پھٹنے کے امکانات، اور پہاڑی راستوں کے لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کے خطرات سے خبردار کیا۔دریں اثنا، ٹریفک حکام نے بتایا کہ جموں سری نگر نیشنل قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت شدید بارش کی وجہ سے معطل ہے۔ سنتھن ٹاپ روڈ بھی بند ہے۔ تاہم مغل روڈ اور ایس ایس جی روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جموں سری نگر نیشنل قومی شاہراہ سے گریز کریں اور حالات بہتر ہونے تک اپنے سفر کا احتیاط سے منصوبہ بنائیں۔
شدید بارش کے دوران رہائشیوں کو چوکس رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
