تازہ ترین
’جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کی جائے‘: نیشنل کانفرنس
جنونیت کے مؤقف میں تبدیلی اور امن کی خواہش خوش آئندہ
کرگل۔ اسکردو، جموں۔سیالکوٹ، پونچھ۔ راولاکوٹ سمیت تمام روایتی راستوں کھولا جائے
سرینگرنیشنل کانفرنس نے بھاجپا کے موقف میں واضح تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی کابینہ کے دو سینئر وزراء شری راج ناتھ سنگھ اور شری نتن گڑکری کے حالیہ بیانات یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ حکمران جماعت جارحانہ رویہ ترک کرکے امن اور اتحاد کی راہ اپنانا چاہتی ہے۔
کے این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ، محمد اکبر لون، حسنین مسعودی اور سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، شمی اوبرائے، قمر علی آخون، دیوندر سنگھ رانا، خالد نجیب سہروردی اور جاوید رانا نے اپنے مشترکہ بیان میں شری نتن گڑکری کے اُس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ”بھارت پاکستان یا چین سے زمین کی توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتا“ اور ”بھارت صرف امن اور ہم آہنگی چاہتا ہے“۔بیان میں تنن گڑکری کی قد کے لیڈر کی طرف سے اُس جرأت مندانہ اعتراف کا بھی خیر مقدم کیا گیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”میں اور میرے ساتھی بھارت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں“ اور ”طاقت توسیع سے نہیں آتی ہے“ اور وہ ”امن نہ کہ تشدد“ چاہتے ہیں اور وہ ”مل کر کام کرنا چاتے ہیں“
۔بیان میں جارحانہ اور سخت رویہ میں تبدیلی پر بھی اطمینان ظاہر کیا گیا کہ جہاں پہلے آئے روز لائن آف کنٹرول کے اُس پار حملوں اور کارروائیوں کی باتیں ہورہی تھیں وہیں آج وزیر دفاع شری راج ناتھ سنگھ اپنے پارٹی ورکروں سے خطاب میں مصالحت کی وکالت کرتے دیکھے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ”امن، محبت اور ہم آہنگی“ کی فضاء محض بیان بازی سے قائم نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی یہ بیانات تب تک کوئی معنی رکھتے جب تک نہ حکومت ہند جموں وکشمیر کے عوام کے سیاسی جذبات اور خواہشات کا احترام نہیں کرتی۔بیان میں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور وقتاً فوقتاً دی گئی آئینی ضمانتوں کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا، جو5اگست2019کو غیر جمہوری، غیرآئینی، من مانے اور یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کے عوام سے چھین لیگئیں۔
5اگست2019کے فیصلوں کو منسوخ کرنا اور تمام فریقین کیساتھ غیر مشروط بات چیت کرنا خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے اہم ہے۔ مشترکہ بیان میں 5اگست 2019 کے تمام فیصلوں کو فی الفور منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کی4 اگست 2019 کی آئینی پوزیشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔بیان میں لائن آف کنٹروں اور سرحدوں پر جاری جھڑپوں اور اس کے نتیجے میں ہورہے جان و مال کے نقصان پر زبردست تشویش اور دکھ کا اظہار کیا گیا۔
اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی، سرحدی علاقوں میں شہری آبادی بہت زیادہ معاشی بدحالی کا شکار ہے اور سرحدوں پر جاری گولہ باری ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔نیشنل کانفرنس لیڈران نے کرگل۔ اسکردو، جموں۔سیالکوٹ، پونچھ۔ راولاکوٹ سمیت تمام روایتی راستوں کے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ کنٹرول آف لائن اور سرحدی آبادی کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جاسکے اور عوام کو عوام سے رابطہ کرنے اور بین الاقوامی علاقائی تجارت اور ثقافتی روابط کو تقویت مل سکے۔
جموں و کشمیر
بڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
سری نگر، جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے بالائی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران پاکستانی لشکر طیبہ کے مشتبہ دہشت گرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
یہ جھڑپ منگل کی دیر رات یوسمرگ کے کورگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم شروع کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔
فوج نے بتایا کہ ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس نے یوسمرگ کے کورگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی تھی۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’چوکس فوجیوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
فوج اور پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم سکیورٹی ذرائع کو شبہ ہے کہ وہ پاکستانی شہری تھا اور لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔اس ماہ بڈگام کے جنگلات میں یہ دوسری جھڑپ ہے۔
4 ستمبر کو یاسر نامی ایک پاکستانی شہری، جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور مبینہ طور پر کئی برس سے جموں و کشمیر میں سرگرم تھا، بڈگام کے بلند پہاڑی علاقے اشدر گلی میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز کو شبہ تھا کہ اس جھڑپ کے دوران ایک اور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ 4 ستمبر کی جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڈگام کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں مشتبہ جنگجو کا سراغ لگانے کے لیے تلاشی مہم مزید تیز کر دی تھی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا
ماسکو، برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برنہم نے منگل کو لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک نئے قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم اگلا انتخاب انتخابی نظام میں تبدیلی کے عزم کے ساتھ لڑیں گے، تاکہ ہر شخص کے ووٹ کی اہمیت ہو اور ہر شخص کی آواز سنی جائے۔‘‘
برنہم نے زور دے کر کہا کہ صرف 30 فیصد ووٹروں کی حمایت سے حکومت بننا ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی سطح کے پیش نظر برطانیہ نہ تو اپنے داخلی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ایک باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔ برنہم نے بتایا کہ وہ 10 برس میں ملک کے ساتویں وزیر اعظم ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا، ’’ہم کسی طرح کی ایک کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جس میں شاید 10 افراد ہوں… تاکہ یہ کمیٹی پورے شعبے کی نگرانی کر سکے۔‘‘
صدر نے یقین ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ’’اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘ اور مزید کہا کہ اگر انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو اپنی نگرانی اور ضابطے کے لیے ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ اقدامات کرنے ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک کے 2 ملازمین نے اپنی رائے ظاہر کی کہ آئندہ 10 برس کے دوران مصنوعی ذہانت کے انسانیت کو تباہ کرنے کا امکان 10 فیصد ہے۔
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تیاری میں عالمی سطح پر رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
امریکی ارب پتی ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔
14 ستمبر کو ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا پر قبضہ کر لے گی اور انسانیت کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ صدر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
