تازہ ترین
جموں کشمیر کا مسئلہ بجلی کب حل ہو گا؟
خبراردو ڈیسک :
۱۹ مئی ۲۰۱۸ کو تب کی ریاست اور آج کی یوٹی جموں کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں ۳۳۰ میگا واٹ کے کشن گنگا پاور پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا تھا ۔”جموں کشمیر میں اپنی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے علاوہ پورے ملک کو بجلی مہیا کرنے کی صلاحیت موجود ہے“ ۔
لیکن دوسری جانب سے صورتحال یہ ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد بھی جموں کشمیر اتنی صلاحیت ہونے کے باوجود بھی یہ اپنی بجلی کی طلب پورا نہیں کر پا رہی اور خاص طور پر تو سرما کے مہینوں میں گاﺅں میں بجلی غل تو ہونا عام بات ہے ہی لیکن اب قصبوں میں بھی اسکی عادت لوگوں ہونے لگی ہے ۔
اور ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے بجلی محکمے کے خلاف احتجاج اور شکایات کی خبریں باقاعدہ طور موصول ہو رہی ہیں ۔
رواں سال کی اگر بات کی جائے تو جنوری سے اکتوبر کے درمیان دونوں صوبوں میں ہر ماہ کئی فیصد کی بجلی میں کمی دیکھی گئی ۔
محکمہ بجلی کی جانب سے تیار کردہ اعدادو شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں جموں کشمیر میں 2840 میگا واٹ بجلی کی طلب کے مقابلے میں 2143 میگا واٹ بجلی میہا کی گئی ۔یعنی اس ماہ میں ۷۰۰ میگا واٹ بجلی کی کمی رہی ہے ۔جس میں سے جموں میں۱۸۰ میگا واٹ اور کشمیر میں ۵۱۷ میگا واٹ سپلائی کی کمی رہی ۔
اسی طرح سے فروری کے مہینے میں کشمیر میں ۱۶۵۰ میگا واٹ طلب کے مقابلے میں ۴۶۴ میگا واٹ کی کمی پائی گئی ۔ جموں میں ۱۰۳۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۸۲ میگا واٹ کی کمی دیکھی گئی ۔
مارچ میں وادی میں ۱۵۷۰میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۲۵۱ میگا وا ٹ مہیا کی گئی ، جموں میں ۹۶۰ کی طلب کے مقابلے میں۷۹۱ میگا واٹ ہی مہیا کی گئی ۔
اپریل میں وادی کو ۱۴۰۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۳۳۰ میگا واٹ کی بجلی میہا کی گئی ۔ جموں میں ۹۴۰ کے مقابلے میں ۷۶۳ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
مئی میں وادی کو بجلی کی ۱۴۱۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۱۱۴۲ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔جموں میں ۱۱۱۰ کی مانگ کے مقابلے میں ۸۷۷ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
جون کے مہینے میں ۱۳۶۰ کی مانگ کے مقابلے میں وادی کو ۱۱۱۴ میگا واٹ بجلی دی گئی ، جموں میں اسی دوران ۱۲۶۰ کی طلب کے مقابلے میں ۹۵۱ میگا واٹ بجلی دی گئی ۔
جولائی کے مہینے میں ۱۳۵۰ میگا واٹ مانگ کے مقابلے میں ۱۱۰۷ میگا واٹ بجلی وادی کی عوام کو دی گئی ۔اسی طرح سے جموں میں ۱۰۵۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۷۹۱ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔
اگست میں کشمیر کو ۱۳۲۰ میگا واٹ کی مانگ کے مقابلے میں ۱۰۵۴ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔جبکہ جموں کو ۸۲۰ کے مقابلے میں ۶۶۶ میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی ۔
ستمبر میں کشمیر کو ۱۲۳۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۹۴۴ میگا واٹ بجلی فراہم کی گئی جبکہ جموں کو ۱۰۲۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۸۲۰ میگا واٹ
بجلی مہیا کی گئی ۔
اکتوبر میں کشمیر کو ۱۵۵۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۱۱۴۲ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔ اسی طرح سے جموں کو ۸۸۰ میگا واٹ کے مقابلے میں ۷۰۷ میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ۔ اگر اوسطا ََ دیکھا جائے تو کشمیر کو ۲۵ سے ۳۰ فیصد اور جموں کو ۱۵ سے ۲۰ فیصد بجلی کی کمی رہتی ہے ۔
رواں سال جون میں مرکزی محکمہ بجلی کی جانب سے مرتب کردہ اعداوشمار میں یہ پایا گیا کہ ملک کے دیہی علاقوں میں ہر دن اوسطاََ سب سے کم بجلی جموں کشمیر کو ہی ملتی ہے ۔ اعدادو شما ر کے مطابق اپریل ۲۰۱۹ میں جموں کشمیر کو سب سے کم ۱۴ گھنٹوں سے زائد پاور سپلائی فراہم کی گئی ۔
دوسری طرف مرکز کی جانب سے تمام ریاستوں اور یو ٹیز کو یکم اپریل ۲۰۱۹ تک ۲۴ گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا لیکن یہ پورا نہیں ہو پایا ۔
جموں کشمیر میں بجلی کی کمی کیوں؟
جموں کشمیر میں ہائیڈرو پاور کی صلاحیت ہونے کے باوجود بھی یوٹی کو دوسری ریاستوں اور مختلف کمپنیوں سے بجلی خریدنا پڑتی ہے ۔جموں کشمیر میں اگر چہ ۲۰ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ابھی تک اس میں صرف ۱۰ فیصد کے قریب ہی پیدا کی گئی ہے ۔
جموں کشمیر میں بہتے دریاووں سے اب تک ۳۲۱۰ میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔ اور اسے ۲۸۰۰میگا واٹ کے قریب بجلی ہی درکار ہے ۔ یعنی جموں کشمیر کی عوام اگرچہ ۲۴ گھنٹے بجلی کا فائدہ اٹھا سکتی تھی لیکن اس میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ جموں کشمیر حکومت کے پاس اس میں جے اینڈ کے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت چلائے جانےو الے ۲۱ پاور پروجیکٹ موجود ہیں ، جن سے ۱۲۱۱میگا واٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔
جبکہ باقی ۲۰۱۰ میگاواٹ بجلی نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے پاس ہے اور اس میں صرف ۱۳ فیصد بجلی ہی یو ٹی کو دی جاتی ہے ۔ جبکہ کم پڑ رہی بجلی سرکار کو شمالی گرڈ سے خریدنا پڑتی ہے ۔ اس شمالی گرڈ میں این ایچ پی سی کے پاس ۷ پروجیکٹوں کی بجلی ہرییانہ ،پنجاب ، دلی ، ہماچل پردیش کو بھی دی جا تی ہے ۔
این ایچ پی سی کے پاس ان ۷ پروجیکٹوں کی واپسی کے لئے ماضی میں تمام سیاسی پارٹیوں کی مانگ رہی ہے ۔
۲۰۱۵ میں جموں کشمیر میں وجود میں آئی بھاجپا اور پی ڈی پی سرکار کے ”ایجنڈا آف الائنس “ میں دُل ہستی (۳۹۰ میگا واٹ ) اور اوڑی ٹو(۲۹۰ میگا واٹ) کے پاور پروجیکٹوں کو ریاست کے حوالے کرنا بھی شامل تھا ، لیکن سرکار کے ٹوٹنے تک اس پر کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں آٰیا ۔
۲۰۱۷ میں جموں کشمیر میں جہاں بجلی کی مانگ ۲۱۰۰ میگا واٹ تھی وہیں یہ آج ۲۸۰۰ میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے اور اگلے دو سالوں میں یہ مانگ ۴ ہزار میگا واٹ تک پہنچنے کا امکان ہے ۔
دوسری جانب سے این ایچ پی سی اور جے کے پی ڈی سی کے مابین مشترکہ معاہدے کے تحت ۶ ہزار سے زائد میگا واٹ کے ۱۵ نئے پاور پروجیکٹوں پر کام ہو رہا ہے جو کہ ۸ سے ۱۰ سال میں مکمل ہونگے ۔ ان میں سے معاہدے کے تحت جموں کشمیر کو ۴۹ فیصد بجلی مل پائے گی ۔
جموں کشمیر حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ۲۰۱۴ ، ۲۰۱۵ اور ۲۰۱۶ میں 40027 ملین یونٹ بجلی صارفین کو مہیا کی گئی تھی، جس میں سے حکومت کوتب 31,409 ملین یونٹ یعنی کل ۷۲ فیصد باہر سے خریدنا پڑی تھی ۔
حکومت کے ۲۰۱۶ اکنامک سروے کے مطابق ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۵ تک حکومت نے باہر سے ۲۰ ہزار کروڑ کی بجلی خریدی تھی ۔
اب جب کہ مرکز کی جانب سے خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے بعد یوٹی کو ترقی کی منزلوں پر لانے کا وعدہ کیا گیا ہے ،لیکن سب سے پہلے کئی دہائیوں سے چلے آرہے اس بجلی کے مسلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا نا چاہیے۔ٓ
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
