تازہ ترین
جمہوریت میں کھویا ہوا اعتماد بیدار کرنا مودی کی سب سے بڑی کامیابی ہے/مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ
نئی دہلی، (یو این آئی): مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج کہا کہ کثیر الجماعتی جمہوری نظام میں ملک کے لوگوں کے کھوئے ہوئے اعتماد کو زندہ کرنا وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی میں سب سے بڑی کامیابی ہے۔
بدھ کو یہاں وگیان بھون میں کتاب ’مودی@20 ڈریمز میٹ ڈلیوری‘ کے اجراء کے موقع پر منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئیمسٹر شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک منفرد محب وطن اور ملک کے لیے وقف لیڈر ہیں جن پر لوگوں کا اٹل اعتماد ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”مودی جی نے ملک کے لیے خود کو وقف کر دیا ہے اور اپنا بہترین دے کر لوگوں کا اعتماد جیت لیا ہے اور وہ ملک کے غیر متنازعہ لیڈر ہیں۔
اگر کوئی ان سے پوچھے کہ مسٹر مودی کی پچاس سالہ عوامی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے تو میں کہوں گا کہ انہوں نے ملک کے عوام میں کثیر الجماعتی جمہوری نظام پر کھوئے ہوئے اعتماد کو واپس لایا ہے جو کہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔“
مسٹر شاہ نے کہاکہ ”میں بہت کم عمر سے ہی جمہوری نظام کا طالب علم رہا ہوں۔ سال 2012 اور 2014 اور اس کے درمیان ایک ایسا دور آیا جب کثیر الجماعتی جمہوری نظام کے نظام سے ملک کا اعتماد اٹھ گیا۔
یہ سوچ تھی کہ یہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور ملک کو آگے نہیں لے جا سکتا۔ اس وقت بی جے پی نے مودی جی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا تھا۔ انہوں نے بی جے پی کی قیادت کی اور ملک کے عوام نے ان کی گجرات کی گڈ گورننس پر انہیں ملک کا لیڈر منتخب کیا، انہیں وزیر اعظم بنایا اور آج عوام میں کوئی وہم نہیں ہے جو ہمارا کثیر الجماعتی جمہوری نظام دے سکتا ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ انہوں نے دفاعی پالیسی کو خارجہ پالیسی کے سائے سے باہر نکالا ہے۔انہوں نے کہاکہ“ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کے درمیان بہت بڑی غلط فہمی تھی۔ ہندوستان کی دفاعی پالیسی خارجہ پالیسی کے سائے سے کبھی باہر نہیں آ سکی۔
مودی جی کی خارجہ پالیسی نے بدل دیا ہے کہ ہم سب کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے لیے ہندوستان کی سلامتی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ سات دہائیوں میں کسی لیڈر نے اتنی وضاحت سے نہیں کہا۔“
ہندوستان
کھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کے یومِ پیدائش کے موقع پر جمعہ کے روز انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مسٹر کھرگے اور مسٹر گاندھی نے باپو کے سمادھی استھل راج گھاٹ اور مسٹر شاستری کے سمادھی استھل وجے گھاٹ پہنچ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مسٹر کھرگے نے مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ باپو کی پوری زندگی سچائی، عدم تشدد، رحم دلی اور خدمت روشنی کا ایسا مینار ہے جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے سچائی کو طاقت، عدم تشدد کو ہمت اور ستیہ گرہ کو ناانصافی کے خلاف سب سے موثر ہتھیار بنایا اور ہندستان کی جدوجہدِ آزادی کو سمت دینے کے ساتھ پوری دنیا کو انسانیت، رحم دلی اور امن کا راستہ دکھایا۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سادگی، سچائی اور قوم کی خدمت کی علامت مسٹر شاستری کی زندگی ہندستان کے لیے وقف کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ زرعی اصلاحات سے لے کر سبز اور سفید (دودھ) انقلاب کی بنیاد کو مضبوط کرنے، ریلوے میں تھرڈ کلاس کو ختم کرنے، بسوں میں خواتین کے لیے نشستیں مختص کرنے اور 1965 کی جنگ میں ملک کو مضبوط قیادت فراہم کرنے تک، قومی تعمیر میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی وادی قدروں اور اعلیٰ افکار سے لبریز مسٹرشاستری کی سادہ زندگی اہل وطن کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔
مسٹرراہل گاندھی نے مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی، عدم تشدد اور بے باکی ہی باپو کی سب سے بڑی میراث ہے۔ باپو نے سکھایا ہے کہ ناانصافی کے آگے کبھی جھکنا نہیں اور سچائی و عدم تشدد پر ڈٹے رہنا ہی حقیقی طاقت ہے۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘جے جوان، جے کسان’ کا نعرہ دے کر انہوں نے اہل وطن کے حقوق اور ان کے وقار کے تحفظ کا عزم کیا اور ملک کو ایک نئی راہ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ شاستری جی کی سادگی اور ملک کے لیے ان کی لگن ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
لداخ کے نقشے پر نشان زد 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات
نئی دہلی، ایک اہم اسٹریٹجک اور سفارتی اقدام میں مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے پر 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو ان کے معیاری مقام اور نام کے ساتھ شناخت کیا ہے۔
جمعہ کو یہ معلومات دیتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کا مقصد ان جگہوں کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عام لوگوں میں ان کے بارے میں بیداری بڑھانا ہے۔
سروے آف انڈیا کے لداخ کے نقشے پر جن 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو نشان زد کیا گیا ہے ان میں پہاڑی چوٹیاں، پہاڑ، راستے، خطہ، گلیشیئر، وادیاں، جھیلیں، دریا اور آبی ذخائر شامل ہیں۔
نشان زدہ مقامات میں اتیشا گیری، برانگسا، چپچنگل درہ، کنشک چوٹی، کرن پیر، کُکسیل، مارتنڈ گیری، پرپک گلیشیئر، اسکامری گلیشیئر، شچمیرک درہ، شکورگا وادی، زوراور چوٹی، دیہرا کمپاس، درک کرپو، گوگرا، جولموری، کمارائن نقطہ، پنگلنگ، رِنچن زانگپو، شاکیہ شری گیری، گرو رِنپوچے، شمل لُنگپا، یانگپا ندی، ہاٹ اسپرنگ، مارپا لوتساوا ری، ملاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشور ری شامل ہیں۔
لداخ کا نقشہ، بشمول اضافی مقامات اور جغرافیائی خصوصیات، سروے آف انڈیا کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کو سفارتی اور تزویراتی نقطہ نظر سے اہم سمجھا جاتا ہے اور اسے چین کے علاقائی دعووں اور مشرقی لداخ کے علاقوں کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں کے سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “اگر کالیننگراد سمیت روس پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر اور فوراً زیرِ غور آجائے گا۔”
ولادیمیر پوتن نے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ولدای مباحثہ کلب کی سالانہ نشست میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی سمیت یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کے کالیننگراد کے بارے میں بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط میں شامل عبارتوں کا دفاع کرتے ہوئے پوتن نے کہا: “اگر روس سے منسلک کسی بھی علاقے پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر اور فوری ماہیت اختیار کر لے گا۔”
پوتن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو دھمکانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “ہم کسی کو ڈراتے نہیں ۔ روسی وزارتِ خارجہ کا بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے خلاف دھمکانے کی کوشش کا جواب ہیں۔”
پوتن نے اعادہ کیا کہ ہم کسی پر حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے: “نہ 2029 میں، نہ 2030 میں، نہ 2050 میں ہمارے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ، مگر اگر حملہ ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یورپی ممالک کے شہریوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ہمارے موقف اور اُن کے ممالک کے بعض سیاسی حکمرانوں کے موقف میں فرق ہے۔”
پوتن نے بتایا کہ روس کے سامنے ایک فریق ہے جس کی آبادی روس سے دو گنا ہے اور جس کے پاس بڑی اقتصادی و عسکری صلاحیت موجود ہے اور کہا کہ ایسے خطرے کے مقابلے میں ہماری طاقت اور وسائل محدود رہیں گے، اس لیے ہمیں اپنی برتری استعمال کرنا پڑے گی۔
ولادیمیر پوتن نے کہا: “آج روس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ یہی ہماری برتری ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
