جموں و کشمیر
عمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو جمہوریت میں کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت منتخب حکومت کو ایسے فیصلے لنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
مسٹر عمر عبداللہ جموں و کشمیر بھر کی لائبریریوں اور عوامی اداروں سے کتابیں ہٹائے جانے سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ عمر عبداللہ حکومت نے منگل کو اسمبلی کو بتایا تھا کہ وسیع پیمانے پر جانچ کے بعد لائبریریوں اور دیگر عوامی اداروں سے 4767 کتابیں ہٹا دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ جمہوری نظام میں کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے وسیع تر سوال کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’کتابوں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے یا نہیں، اس بارے میں میری اپنی رائے ہے۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ نظام میں منتخب حکومت کے طور پر ہمیں ان معاملات کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں صرف اس صورت حال کے بدلنے کا انتظار کرنا ہوگا۔ ہم جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا نئے سرے سے جائزہ لیں گے۔‘‘
ان کا یہ بیان جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ایک دن پہلے قانون ساز اسمبلی کو دی گئی اس اطلاع کے بعد آیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سرکاری ڈگری کالجوں میں 21.81 لاکھ سے زیادہ کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کے بعد 4249 کتابیں سرکولیشن سے ہٹا دی گئی ہیں۔ ہٹائی گئی کتابوں میں سے 3996 کشمیر اور 253 جموں سے ہیں۔ مزید 1752 کتابیں ماہرین کی جانچ کے لیے بھیجی گئی ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ قابل اعتراض مواد کی شناخت کے لیے ’’واضح اور معروضی‘‘ معیار اپنایا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے آئینی اقدار، تعلیمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج اور ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے احترام کو برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔
تاہم اس انکشاف کے بعد ہٹائی گئی کتابوں کی شناخت اور ان پر لاگو کیے گئے معیار کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کشمیر کے اعلیٰ مذہبی پیشوا اور حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں کتابوں کو قابل اعتراض کیوں قرار دیا گیا۔
میر واعظ نے ایکس پر کہا کہ ’’قانون ساز اسمبلی میں حکومت کی جانب سے یہ انکشاف کہ اعلیٰ تعلیم محکمہ نے جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے 4249 ’قابل اعتراض‘ کتابیں ہٹا دی ہیں، جن میں سے تقریباً 4000 صرف کشمیر سے ہیں، تشویش اور افسوس کی بات ہے۔ آخر ان کتابوں کو قابل اعتراض بنانے والی چیز کیا تھی؟ ان کے کتابوں کے نام اور انہیں ہٹانے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیمی آزادی اور مختلف نقطہ نظر تک رسائی تعلیم اور معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’طلبہ کیا پڑھ سکتے ہیں اور کیا نہیں پڑھ سکتے، اسے نظریاتی طور پر منظم کرنے کی کوششیں تعلیم اور تنقیدی سوچ کو محدود کرتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’ان کتابوں کو ہٹا کر منتخب حکومت کس کے ایجنڈے پر عمل درآمد کر رہی ہے — اپنے ایجنڈے پر یا کسی اور کے؟ لوگوں کو اس بارے میں وضاحت ملنی چاہیے۔‘‘
میر واعظ نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور علم تک رسائی سے متعلق اس قدر اہم معاملے میں شفافیت ضروری ہے اور عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کتابوں کو سرکولیشن سے ہٹانے کی بنیاد کیا تھی۔
تازہ تنازع جموں و کشمیر میں تعلیمی مواد کی جاری جانچ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ جولائی میں حکام نے اسکولوں کو ہدایت دی تھی کہ لائبریریوں، دفاتر، کلاس رومز اور عملے کے کمروں میں رکھی کتابوں کی ’’نامناسب یا قابل اعتراض مواد‘‘ کے لیے جانچ کی جائے۔ یہ اقدام اسکول کی لائبریریوں کے لیے حاصل کی گئی 2 کتابوں پر پیدا ہوئے تنازع کے بعد کیا گیا تھا، جن میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند اور عسکریت پسند شخصیات کے حوالے تھے۔
یہ معاملہ اگست 2025 میں کشمیر پر 25 کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے نوٹیفکیشن کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جن میں اے جی نورانی اور اروندھتی رائے جیسے مصنفین کی تصانیف شامل تھیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھائے
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2 الیکشن کمشنروں کی جانب سے ان کے علم یا منظوری کے بغیر جاری کیے گئے فیصلوں اور بیانات پر اٹھائے گئے اعتراضات ’’بہت سے سوالات پیدا کرتے ہیں‘‘۔
مسٹر عمر عبداللہ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ تحقیقاتی صحافت کا ایک بہت اچھا حصہ تھا۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ کسی خبر کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں تو یہ ناممکن نہیں ہے۔‘‘
خبر میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 اعتراضات درج کیے، جن میں کہا گیا تھا کہ 10 فیصلے اور بیانات ان کے علم یا منظوری کے بغیر جاری کیے گئے۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابی ادارے کے کام کاج پر پہلے بھی اٹھائے گئے خدشات کے پس منظر میں یہ رپورٹ اہم ہے۔
انہوں نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر ہمیں مسلسل شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔ ایس آئی آر (خصوصی جامع نظرثانی) ملک کے باقی حصے کے لیے مسئلہ بننے سے پہلے، ہمارے لیے حد بندی ایک مسئلہ تھی۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اگست 2019 میں مرکز کی جانب سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں کرائی گئی حد بندی کا عمل شفاف نہیں تھا اور اس میں خامیاں تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ’’ایک سیاسی جماعت اور اس کے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’جو کچھ سامنے آیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خبر کے بعد انتخابی ادارے کی جانب سے جاری کیا گیا بیان ’’اس سے بھی زیادہ سنگین‘‘ تھا۔
مسٹر عمر نے زور دے کر کہا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ’’کچھ اصلاحی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، اگر لوگوں کا انتخابات پر اعتماد ختم ہو جائے تو جمہوریت میں باقی کیا رہ جائے گا؟‘‘مسٹر
مسٹرعمر نے کہا کہ ’’جمہوریت کی بنیاد انتخابات ہیں اور اگر لوگوں کا انتخابات پر اعتماد ختم ہو جائے تو لوگ انتخابات میں حصہ کیوں لیں گے؟‘‘ انہوں نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے اس معاملے کو دیکھنے کی اپیل کی۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس دعوے پر کہ الیکشن کمیشن کے اندر اختلاف ’’ملک سے غداری کا عمل‘‘ ہے، عمر نے اس بات کی حمایت کی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر آپ کسی شخص کو ووٹ دینے سے روک رہے ہیں، جبکہ ووٹ دینا اس کا حق ہے اور وہ ووٹ دینا چاہتا ہے اور بدقسمتی سے ووٹر فہرست سے ہٹائے گئے کچھ لوگوں کو پاسپورٹ نہ دینے کا بہانہ بنا دیا گیا، تو اگر یہ آئین پر حملہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟‘‘
مسٹر عمر نے مزید کہاکہ ’’راہل نے جو کہا وہ بالکل درست ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس کی اصلاح کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: بی جے پی رکن اسمبلی کا لاپتہ بیٹا نئی دہلی میں ملا
جموں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی وجے شرما کا لاپتہ بیٹا نئی دہلی میں مل گیا ہے۔ افسران نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
افسران کے مطابق، ہیرانگر اسمبلی حلقے سے بی جے پی کے رکن اسمبلی وجے شرما کا بیٹا آدتیہ شرما منگل کو لاپتہ ہو گیا تھا۔ وہ تعلیم حاصل کر رہی اپنی بہن سے ملنے نئی دہلی گیا تھا، جہاں اسے تلاش کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’’اس کی بہن نے اہل خانہ کو اس کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ اب وہ گھر واپس آ رہا ہے۔‘‘
دریں اثنا، جموں و کشمیر پولیس نے لاپتہ آدتیہ کی تلاش کے لیے رات بھر مہم چلائی اور تفتیش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں سمیت مختلف مقامات پر اس کی تلاش کی۔ اس کا پتہ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ آدتیہ منگل کی شام تقریباً 5 بجے ایک بس میں سوار ہوا تھا اور کسی نامعلوم مقام کی طرف چلا گیا تھا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں سیاحوں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے پر 6 گاڑیاں ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ ضلع میں سیاحوں اور سیر کے لیے آنے والے افراد کو پریشان کرنے اور ان سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کی شکایات کے بعد ایک خصوصی مہم چلا کر 6 گاڑیاں ضبط کی ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضبط کی گئی گاڑیوں میں سومو اور آٹو شامل ہیں، جو موٹر گاڑی قانون کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔ انہیں ٹنگمرگ میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ضبط کیا گیا۔
یہ کارروائی سیاحوں اور سیر کے لیے آنے والے افراد کی محفوظ، منصفانہ اور پریشانی سے پاک آمدورفت یقینی بنانے اور سیاحت پر برا اثر ڈالنے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔ یہ خصوصی مہم ٹنگمرگ پولیس تھانے کے دائرہ اختیار میں چلائی گئی۔
ذرائع نے کہا، ’’مہم کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث 6 گاڑیوں کو موٹر گاڑی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ضبط کیا گیا۔‘‘
پولیس نے خبردار کیا کہ سیاحوں کو پریشان کرنا، ان سے زیادہ کرایہ وصول کرنا اور ان کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر4 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر4 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا5 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا5 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا4 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
