تازہ ترین
جنوبی کشمیر خونین جھڑپیں : مکمل رپورٹ
خبراردو:
بڈورہ جھڑپ کے 24گھنٹوں بعد ہی فوج و فورسز نے واگہامہ مرہامہ میں جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں لیت پورہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک جو جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا، ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ جنگجوﺅں کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 2دیگر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران فورسز نے جائے جھڑپ سے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے ساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا۔ انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجووئں کی لاشوں کو طبی و قانونی لوازمات کے بعدہی لواحقین کے حوالے کیا جس کے بعد انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔
بڈورہ اننت ناگ جھڑپ کے 24گھنٹوں کے بعد ہی واگہامہ مرہامہ علاقے میں فوج اور جنگجوﺅں کے بیچ خونریز معرکہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں جیش محمد کے 2جنگجوﺅں سمیت ایک فوجی اہلکار از جان ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 3آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بجبہاڑہ اننت ناگ کے واگہامہ علاقے کو منگلوار کی علی الصبح محاصرے میں لے لیا جس کے بعد فورسز کی تلاشی پارٹی نے یہاں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز کواطلاع ملی تھی کہ گاﺅں میں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جو فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے واگہامہ مرہامہ علاقے کوآنے اور جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ منگلوار کی صبح فورسز کے چاک و چوبند دستوں نے واگہامہ مرہامہ بستی کا محاصرہ کرنے کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے اس دوران رہائشی مکانات کی باریک بینی سے تلاشی لینے کےساتھ ساتھ یہاں موجود افراد خانہ سے پوچھ تاچھ کی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے جونہی بستی کے اندر داخل ہوکر یہاں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کا فورسز پارٹی نے بھی بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بستی میں طرفین کے درمیان گولیوں کی گن گرج شروع ہونے کے ساتھ ہی یہاں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کیا گیا تاکہ فرار کے تمام ممکنہ راستوںپر کڑے پہرے بٹھائے جائیں۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے گاﺅں میں جگہ جگہ موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بڑے حادثے کو ٹالنے کی خاطر جائے جھڑپ کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز اہلکاروں نے یہاں جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے بعد یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لانے کے بعد 2جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے جھڑپ پر 2جنگجوﺅں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جنگجوﺅں کا تعلق جیش محمد نامی تنظیم سے ہے جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے بقول طرفین کی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار انیل جسوال بھی ہلاک ہوا جبکہ مزید 2فوجی اہلکا ر گولیاں لگنے کے نتیجے میں فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے اہلکاروں کو سرینگر کے بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم یہاں انیل جسوال نامی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں دیگر زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس ترجمان نے جھڑپ میں مارئے گئے جنگجوﺅں میں سے ایک کی شناخت سجاد احمد بٹ عرف افضل گورو ولد محمد مقبول بٹ ساکن مرہامہ سنگم اننت ناگ اور توصیف احمد بٹ ساکن مرہامہ بجبہاڑہ کے بطور کی ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سجاد احمد نامی جنگجو کا تعلق جیش محمدسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14فروری 2019کو لیت پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کانوائے پر جنگجوﺅں کی طرف سے فدائین حملے میں جو گاڑی استعمال کی گئی اُس کا مالک سجاد احمد ہی تھا جنہوں نے حملے سے قبل چند روز ہی جیش محمد کے فدائین اسکوارڑ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔پولیس نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ لیت پورہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک سجاد احمد اپنے ساتھی سمیت واگہامہ جھڑپ میں مارا گیا۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں مارے گئے دوسرے جنگجو کو سجاد احمد ساکن مرہامہ نے ہی شامل کروایا تھا۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو پولیس کو کافی عرصے سے مطلوب تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں اور زیادتیوں میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں مارا گیا جنگجو سجاد احمد پولیس کو لیت پورہ حملے میں مطلوب تھا جس میں سی آر پی ایف کے 40اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لیت پورہ حملے کی تحقیقات کے دوران کاس بات کا خلاصہ ہوا کہ حملے میں جو ماروتی ایکو گاڑی بارود سے بھری استعمال کی گئی تھی ، کا مالک سجاد احمد ساکن مرہامہ تھا۔ تحقیقات کے دوران جونہی سجاد کا نام سامنے آگیا اور اس کی اطلاع میڈیا میں شائع کی گئی تو سجادعین اُسی وقت انڈر گراﺅنڈ ہوگیا اور اس طرح انہوں نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم میں شمولیٹ اختیار کرلی۔
پولیس کے بقول سجاد کی اے کے 47رائفل سمیت تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر یہ تحریر درج تھی کہ انہوں نے جیش میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔انہوںنے بتایا کہ جھڑپ میں مار اگیا دوسرا جنگجو توصیف احمد ساکن مرہامہ نے سجاد کو جنگجوﺅں کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں جنگجو اُس گروپ سے منسلک تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، آرمی، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں میں زیادتوں میں ملوث تھے۔ مارے گئے دونوں جنگجوﺅں کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں جن میںایف آئی آر نمبر 16/2018 اور 28/2019 شامل ہیں جو لیت پورہ حملے سے متعلق ہیں۔ ادھرفورسز کی جانب سے محاصرہ عمل میں لائے جانے کے بعد انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ منگلوار کی صبح ضلع کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا۔ ادھر جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں ضلع کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری، نجی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مانند پڑگئیں۔
عینی شاہدین کے بقول ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوﺅں کو پولیس نے طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد انہیں آبادئی علاقوں میں پہنچاکر یہاں لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ واگہامہ جھڑپ میں جارے گئے دونوں جنگجوﺅں کو جوہی آبائی علاقوں کو پہنچایا گیا تو یہاں مرد و خواتین کےساتھ ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کےخلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقعے پرلوگوں کا بھاری رش دیکھتے ہوئے جاں بحق جنگجوﺅں کا کئی مرتبہ جنازہ پڑھایا گیا جس کے بعد انہیں اسلام و آزادی کے فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کیا گیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
