پاکستان
پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر قرض کا معاہدہ
خبراردو: پاک وزیر اعظم کے مشیر خزانہ، مالیات اور اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی موجودگی میں پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان 91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر (ایک کھرب 44 ارب روپے سے زائد) کے 3 قرض معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔
عالمی بینک کی جانب سے ان کے کنٹری ڈائریکٹر پیچوموتو الینگوون نے دستخط کیے جبکہ مالیاتی معاہدے پر حکومت پاکستان کی طرف سے اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری نور احمد نے دستخط کیے، اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندوں نے اپنے متعلقہ منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدوں پر دستخط کے بعد عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی، اس دوران مشیر خزانہ نے حکومت پاکستان کی ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی کوششوں کی مسلسل حمایت پر عالمی بینک کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان اور عالمی بینک کے ساتھ ہونے والے 3 منصوبے کے فنڈز اس طرح استعمال کیے جائیں گے۔
پاکستان کی آمدنی پروگرام بڑھانے کا 40 کروڑ ڈالر کا معاہدہ
اقتصادی امور ڈویژن کے جاری اعلامیے کے مطابق اس پروگرام کا مقصد ’ ٹیکس بیس کو وسعت دینے اور اس کی تعمیل کو آسان بنانے کے لیے گھریلو آمدنی میں پائیدار اضافے میں تعاون‘ کرنا ہے۔
ساتھ ہی اس بات کی امید ہے کہ یہ پروگرام پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 17 فیصد ، متحرک ٹیکس دہندگان کی تعداد 35 لاکھ تک بڑھائے گا جبکہ ٹیکس ادائیگی کا تعمیلی بوجھ کم ہوگا اور کسٹمز کنٹرول کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ترقی کیلئے 40 کروڑ ڈالر
اس پروگرام کا ترقیاتی مقصد ’معیشت کے اسٹریٹجک شعبوں میں ریسرچ تعاون، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہتری اور گورننس کی مضبوطی‘ ہے۔
پروگرام کی اس رقم کو اسٹریٹجک شعبوں میں تعلیمی بہتری کے فروغ، ٹیچنگ اور لرننگ میں بہتری کے لیے ڈی سینٹرلائزڈ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی حمایت کرنے، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور طلبا کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا، ہائر ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ڈیٹا ڈرائیو سروسز اور صلاحیت کی تعمیر، پراجیکٹ منیجمنٹ، نگرانی اور تشخیض پر استعمال کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا وسائل منیجمنٹ پروگرام کیلئے 11 کروڑ 80 لاکھ ڈالر
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس پروگرام سے خیبرپختونخوا کے اپنے ریونیو کی وصولی میں اضافے اور عوامی وسائل کے انتظام میں بہتری کی توقع ہے، ’یہ مقصد ای گورنمنٹ صلاحیت کو بڑھانے کے لیے موثر آمدنی کی تیاری، موثر عوامی وسائل کا انتظام اور صلاحیت کی تعمیر کے ذریعے حاصل کیا جائے گا‘۔
اس کے علاوہ یہ پروگرام خیبرپختونخوا حکومت کو اپنا ذریعہ آمدنی کو متحرک کرنے اور صوبے کے مالی وسائل کے موثر اور اسٹریٹجک استعمال میں مدد دے گا۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
